fbpx

*ملیر سٹی تھانے میں زاتی بغض عناد پر چند سینٸرز صحافیوں پر مقدمہ درج*

ملیر سٹی تھانے میں 22.A کی پٹیشن کا سہارا لیے ملیر کے صحافیوں کے خلاف جھوٹا مقدمہ نمبر 59/2021 درج کروایا گیا۔۔
ملیر سٹی تھانے میں درج مقدمے کا مدعی حمید میرانی لینڈ گریبنگ و فراڈیا شخص ہے ملیر چند سابقہ کرمنل ریکارڈ رکھنے والوں کا دست راست بھی ہے۔۔
مقدمہ مدعی حمید میرانی 35 لاکھ کے چیک باٶنس فراڈ کیس میں 3 ماہ سے جیل میں بھی رہ چکا ہے۔۔
ملیر سٹی تھانے میں ذوالفقار میر،شکیل راجپوت،یاسر ملک،صدرالدین شیخ،رحیم شاہ،شام چانڈیو،و دیگر کے نام بدنیتی پر درج کرواٸے گٸے۔۔درج نام مظہر جونیجو نامی افراد نے حمید میرانی کو ڈھال بنا کر درج کرواٸے۔۔
ملیر سٹی تھانے میں درج مقدمے کے وقوعے کے وقت شکیل راجپوت ATC کورٹ نمبر 8،اور یاسر ملک بدین میں تھے۔۔جس درج مقدمے مدعی کو سامنے رکھتے ہوٸے مقدمہ درج کروایا گیا۔۔یہی شخص ملیر کے بدنام زمانہ لینڈ گریبر و کرمنل افراد کا سہولت کار ہے۔۔
نومبر 2019 کو صحافی شکیل راجپوت اور یاسر ملک پر ملیر کورٹ کے سامنے سندھ بلوچستان ہوٹل پر ہونے والے حملے و ڈکیٹی کی FIR نمبر 307،،2019 تھانہ ملیر سٹی مظہر جونیجو و دیگر ساتھیوں کے خلاف درج ہے۔۔جس میں یاسر ملک گواہ ہیں۔۔ ملیر سٹی میں درج مقدمے مدعی حمید میرانی مظہر جونیجو نامی افراد کا دست راست ہے۔۔اور مظہر جونیجو اسی مدعی حمید میرانی کے گواہ مقدمہ ہے۔۔زاتی بغض عناد پر مظہر جونیجو نے حمید میرانی کو سامنے رکھ کر صحافیوں کے نام 22.A پٹیشن لگوا کر کر ملیر سٹی تھانے میں درج کرواٸے۔۔
ملیر سٹی تھانے کے ایس ایچ او نے 22.A کی درخواست پر مقدمہ درج کر کہ ہتھیار ڈال دٸیے۔۔155 کے اختیار استعمال کر کہ تحقیق ضروری نہیں سمجھی۔۔22.A پٹیشن کا غلط استعمال کرمنل کو فاٸدہ دے رہا ہے۔۔
صحافی شکیل راجپوت پر پہلے بھی متعدد پٹیشن لگاٸی جا چکی ہیں جو تمام ریکارڈ پر موجود ہیں۔۔صحافی شکیل راجپوت کے ساتھ یاسر ملک کے خلاف بھی مسلسل جگہوں پر بدنیتی پر نام دیا جا چکا ہے۔۔
بدنام زمانہ لینڈ گریبرز و ان کے سہولت کار اکثر جھوٹی پٹیشن لگاتے رہتے ہیں۔۔کبھی اینٹی انکروچمینٹ تو کبھی پولیس افسران تو کبھی حقیقی صحافیوں پر جو ان کے کالے دھندوں کو اکثر بے نقاب کرتے آٸے ہیں۔
جعلی ٹولا بھتہ خوری لینڈ گریبنگ و اغواہ براٸے تاوان ڈکیٹی و دیگر سنگین مقدمات کے عادی مجرم ہیں۔۔جن کا سابقہ ریکارڈ نکالا جا سکتا ہے۔۔
ضلع ملیر و دیگر اضلاع میں ان کے کارندے آٸے روز جھوٹے مقدمات درج کرواتے رہتے ہیں۔۔پورا ٹولا کرمنل ایکٹیوٹی میں ملوث ہے۔۔
ملیر 22.A پٹیشن کا غلط استعمال کیے چند کرمنل افراد معزز عدالتوں و پولیس محکموں سے کھیل جاری رکھے ہوٸے ہیں۔۔یہی کرمنل افراد پولیس افسران و صحافیوں کو ٹارگٹ کرتے چلے آرہے ہیں۔۔
آٸی جی سندھ،،ایڈیشنل IG کراچی،،اور DIG ایسٹ،،SSP انویسٹی گیشن ملیر،، معاملے کی شفاف انکواٸری کرواٸیں۔۔اور تھانوں میں تعینات ایس ایچ اوز کو 155 کے اختیار استعمال کر کہ تحقیق کرنے کی بھی یاد دہانی کرواٸیں۔۔تا کہ کہیں بھی کرمنل افراد 22.A کی پٹیشن کا غلط استعمال نا کر سکیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.