fbpx

منگھو پیر کی کہانی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

کراچی پاکستان کا صنعتی اور کاروباری شہر ہے اس شہر کو پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کا شرف بھی حاصل ہے صوبہ سندھ کو دارلخلافہ اور پاکستان کا معاشی حب بھی ہے۔۔یوں تو یہ شہر دور جدید سے ہم آہنگ بلند بالا عمارتوں بڑے بڑے شاپنگ سینٹروں اور یونیورسٹیوں اور کالجوں کا شہر ہے لیکن آج بھی اس شہر کے مضافات میں صدیوں پرانے آثار جا بجا نظر آتے ہیں۔ان میں سے ہی ایک "منگھو پیر کا مزار” ہے۔ جو شہر کے شمالی جانب سہراب گوٹھ سے تقریبا آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک پہاڑی مقام ہے جو کراچی اور بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کی پہاڑی سلسلے کیرتھر رینج کی شاخ پر واقع ہے۔
جب اس پہاڑی کے اوپر پہنچتے ہیں تو آپ کو ایک درگاہ ملے گی جو حضرت خواجہ حسن سلطان عرف” منگھو پیر” کی ہے اور یہ علاقہ ان کے ہی نام سے موسوم ہے۔
المعروف منگھو پیر دراصل افریقی النسل تھے جو عراق میں رہائش اختیار کئے ہوئے تھے اورتیرہویں صدی میں جب منگول عراق پر حملہ آور ہوئے تو منگھو پیر عراق چھوڑ کر براستہ جنوبی پنجاب اور سندھ اس مقام تک پہنچے جہاں اب ان کا مزار واقع ہے۔ یہاں عبادت کے لئے کھجور کے بیسیوں درختوں کے سائے والی ایک پہاڑی مقام منتخب کیا اور وہیں سکونت اختیار کر لی ۔آپ پاک پتن شریف کے بابا فرید گنج شکر کے پیروکاروں میں سے تھے۔اس علاقے کے اطراف مایی گیروں کی بستی تھی جن میں افریقی نسل کے سیاہ فام آباد تھے یہ دراصل ان افریقی غلاموں کی اولادیں ہیں جنہیں 10 ویں اور 17 ویں صدی کے دوران عرب، فارسی، ترک اور یورپی حملہ آور یہاں لائے تھے جنہیں "شیدی”یا "مکرانی” کہا جاتا ہے یہ بلوچی زبان بولتے ہیں۔ یہ قوم اب زیادہ تر کراچی کے علاقے لیاری اور بلوچستان کے علا قے مکران میں آباد ہیں ،پھر آہستہ آہستہ وہاں کے مقامی لوگوں نے منگھو پیر کی پیروی شروع کر دی اور وہ شیدیوں کے روحانی پیشوا بن گئے۔ جب منگھو پیر کا انتقال ہوا تو ان کے مریدین نے اسی مقام پر ان کا مزار بنا دیا جس جگہ وہ عبادت کیا کرتے تھے۔
منگھو پیر کے مزار کے ساتھ ہی ایک تالاب بھی موجود تھا جس میں سینکڑوں مگر مچھ ہر وقت موجود رہتے ہیں اس کے علاوہ گندھک کے پانی کا گرم اور ٹھنڈا چشمہ بھی موجود ہے۔آج بھی زائرین کی بڑی تعداد اس سے فیضیاب ہو رہی ہے۔
کراچی شہر میں صدیوں سال قدیم اس مزار سے منسوب کئ دیومالائ داستانیں منسوب ہیں۔عقیدت مندوں کا ماننا ہے کہ کوئ بھی جلدی امراض کامریض پہلے چشمہ کے گرم پانی سے پھر ٹھنڈے پانی سے غسل کر لے گا تو بابا جی کی دعا سے وہ مریض فوری شفایاب ہو جاتا ہے اور تالاب میں موجود مگر مچھ کو جو گوشت کھلاتا ہے تو اس کی مرادیں پوری ہو جاتی ہیں کہتے ہیں یہ مگرمچھ کئ ہزار سال سے یہاں موجود ہیں اور کوئ عقیدت مند تو یہاں تک کہتے ہے کہ یہ مگر مچھ دراصل بابا جی کی جوں تھیں جو ان کی کرامات سے مگر مچھ بن گئیں اور یہ بھی عجیب بات ہے کہ وہاں کے مگر مچھ مٹھائ بھی کھالیتے ہیں۔بحر حال کچھ بھی ہو لیکن یہ بات درست ہے کہ زائرین کی ایک بڑی تعداد اس مزار پر آتی ہے اور چشمہ میں ڈبکی بھی لگاتی ہے اور مگر مچھ کو گوشت بھی کھلاتی ہے۔۔منگھو پیر کا عرس ہر سال زالحج میں منعقد ہوتا ہے۔علاوہ ازیں ہر سال ساون کے مہینے میں شیدی قبیلہ یہاں اپنا میلہ بھی بھی سجاتے ہیں چار روزہ اس میلے کا آغاز سب سے بڑے مگر مچھ جس کو "مور” کہا جاتا ہے،کوماتھے پر سندورکا ٹیکہ لگا کر تیار کیا جاتا ہے اس پر پھولوں کی چادر پہنائ جاتی ہے پھر بکرا زبحہ کر کے اس کا خون اس بڑے مگر مچھ کے جسم پر مل دیا جاتا ہے پھر شیدیوں کے زیلی قبیلہ کا سردار اسے اس بکرے کی کھوپڑی کھلاتا ہے اور اگر اس مگر مچھ نے وہ کھوپڑی کھا لی تو فورا ایک ڈرم س ڈھول بجنا شروع ہو جاتا ہے اس ڈھول کو "مگرمان”کہتے ہیں یہ مگرمان شیدیوں کا روحانی ساز ہے جس کی تھاپ پرمرد سور خواتین محو رقص ہو جاتے ہیں دوران رقص ان پر ایک وجدانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اس رقص کے ساتھ ہی ایک مخصوص زبان میں شیدی عورتیں کورس کے انداز میں ورد کرنا شروع کر دیتی ہیں اور باقی کچھ مرد ایک مخصوص دھمال شروع کر دیتے ہیں ان پر ایک وجدانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور لوگ ان سے مستقبل کے متعلق سوال کرنے لگتے ہیں۔ اور اسی دوران بکرے کا باقی ماندہ گوشت بھی اس مگر مچھ اور دیگر کو کھلادیا جاتا ہے۔دراصل ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اگر مگرمچھ ان کا گوشت کھا لے تو وہ سال بہت اچھا گزرے گا اور اسی لئے اس کے گوشت کھانے پر بہت خوشی منائ جاتی ہے جبکہ اسکے برعکس اگر مگر مچھ گوشت نہ کھائے تو پھر مجمع میں اداسی چھا جاتی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آنے والا سال ان کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔۔اسی طرح دوسرا دن شیدیوں کے دوسرے قبیلے کا ہوتا ہے وہ بھی اسی انداز میں ایسا ہی کرتے ہیں جیسے پہلے بتایا گیا۔شیدیوں کے چار بڑے گروپ پاکستان میں آباد ہیں اور ہر روز ایک نئے گروپ کے سربراہ کو یہ موقع دیا جاتا ہے یوں یہ میلہ ہنستے مسکراتے ناچتے گاتے اختتام پزیر ہو جاتا ہے۔
صدیوں سے جاری یہ رسم۔اور یہاں کی طلسماتی دنیا یقیننا دلچسپی سے خالی نہیں اگر اوقاف،آثار قدیمہ اور ٹورزم کے محکمے اس جگہ کو اور یہاں پر پائ جانے والی صدیوں پرانی روایات اور ثقافت کو جدید انداز میں اجاگر کریں اور اس مقام پر ملکی اور غیر ملکی ٹورسٹ کو سہولیات بہم پہنچائیں توقوی امید کی جاسکتی ہے کہ کثیر تعداد میں یہاں ٹورسٹ آنا شروع ہو جائیں اس طرح ملک کو زر مبادلہ بھی حاصل ہو اور مقامی لوگوں کو روزگار بھی۔

‎@Azizsiddiqui100

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!