fbpx

منشیات ایک زہر قاتل ہے تحریر:شمسہ بتول

منشیات ایک زہر ہے جو کسی بھی قوم کی تباہی کے لیے کافی ہے۔منشیات کا استعمال کوئی نئی چیز نہیں ہے ، بلکہ یہ صدیوں سے عمل میں ہے منشیات ایک ناسور ہے جو کسی بھی قوم کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے ۔ جدید دور میں منشیات ، تمباکو نوشی ، آٸس وغیرہ یہ تمام چیزیں سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہیں ۔ وہ تمام چیزیں ہیں جو بیزاری کی کیفیت پیدا کرتی ہیں وہ بھی ایک قسم کا نشہ ہے جیسے ہیروئن ، چرس ، الکوحل چارس ، نیند کی گولیاں وغیرہ۔
پاکستان میں منشیات کی لت بڑھ رہی ہے۔ لوگ خاص طور پر ہمارے ملک میں ان کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔ہمارے کالجز اور یونیورسیٹیز میں بھی کہیں نہ کہیں بہت سے سٹوڈنٹس انکا شکار ہو چکے ہیں اور اپنا مستقبل برباد کر رہے ہیں لیکن اگر یہ سب روکنے کے لیے ابھی سے اقدامات نہ کیے گۓ تو مستقبل میں مزید خطرناک نتاٸج سامنے آٸیں گے ۔ ہیروئن کے عادی افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ تازہ ترین سروے کے مطابق، پاکستان میں ہیروئن کے عادی لوگوں کی تعداد 60 لاکھ سے تجاوز کر گٸی ہے جن میں زیادہ تر ہماری نوجوان نسل ہے ۔ صورتحال انتہائی تشویشناک اور غیر یقینی ہو گئی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق جب سروے میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ تمباکو نوشی یا ڈرگز وغیرہ کا استعمال کیوں کرتے تو انکا جواب تھا کہ ہم ٹینشن اور ذہنی دباٶ سے نکلنے کے لیے ایسا کرتے لیکن دور حاضر میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں میں بھی منشیات کا استعمال ہو رہا ہے ایسے بہت سے کیسیز سامنے آٸیں ہیں نشہ میں مبتلا افراد کے بقول کہ ان کے لیے اس کے بغیر زندہ زندہ رہنا مشکل ہے ۔ نوجوان لڑکے منشیات کا آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔ ان سب کی وجوہات بالکل واضح ہیں بے. روزگاری ، غربت ، استحصال ، خاندانی جھگڑے ، ناانصافی اور مایوسی کشیدگی میں اضافہ کی وجہ سے وہ اس راہ پہ چل پڑتےہیں ۔ یہ تمام مسائل انہیں ذہنی تناؤ کو دور کرنے کے لیے نشہ آور ادویات کے استعمال پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ منشیات انہیں عارضی اطمینان دیتی ہیں۔مگر رفتہ رفتہ وہ ان کے اندر سرایت کر جاتی جو کہ ایک زہر قاتل ثابت ہوتیں۔
ماضی کے مقابلے میں ہمارے ملک میں ہر قسم کی ادویات آسانی سے دستیاب ہیں قانون کا خوف ختم ہو گیا ہے مافیا بہت آسانی سے اس زہر کو نوجوان نسل میں پھیلا رہا ہے۔ ڈرگ پیڈیارس ، اینٹی نارکوٹکس اور بہت سے کرپٹ لوگوں کی ملی بھگت سے ، نشہ آور چیزیں بے خوف فروخت کرتے ہیں یہ ان تمام غداروں کے لیے منافع بخش کاروبار بن گیا ہے جو یہ منشیات فروخت کرتے ہیں۔ جسم اور روح پر ان منشیات کا اثر سحر انگیز ہے۔ یہ ہمارے پھیپھڑوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ سب سے پہلے یہ تپ دق (ٹی بی) کا سبب بنتا ہے۔ یہ کسی شخص کی عزت اور وقار کو کم کرتا ہے۔ وہ دوسروں کے لیے ہنسی کا سامان بن جاتا ہے۔ تیسرا ، منشیات کا عادی مجرم ، ڈاکو اور چور بن جاتا ہے۔ وہ منشیات حاصل کرنے کے لیے پیسے یا کوئی اور چیز چوری کرسکتا ہے کیونکہ اس کے لیے ایک دفعہ اس نشے کی لت لگ جانے کے بعد دوبارہ اس سے نکلنا بہت مشکل ہو جاتا وہ اپنا نشہ حاصل کرنے کے لیے حلال حرام اور صحیح اور غلط کے تمام فرق بھول جاتا ہے جو صرف اس کی زات کے لیے نہیں بلکہ اس کے ارد گرد کے افراد اور معاشرے کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ منشیات کا سب سے اہم نقصان یہ ہے کہ یہ دوسری قوموں اور ملکوں کی نظر میں کسی ملک اور قوم کے وقار کو نقصان پہنچاتا ہے۔
لہذا اس نازک صورتحال میں منشیات کے ہر قسم کے استعمال کو کچلنا بہت ضروری ہے۔ اسے کچلنے کے لیے مزید سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔ میڈیا کو بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے بڑے پیمانے پر میڈیا کو اس برائی کے خلاف عوام میں بیداری پیدا کرنی چاہیے۔ کھیلوں ، سیاحت جیسی صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہیے ۔ والدین کو چوکس رہنا چاہیے اور اپنے بچوں پر نظر رکھنی چاہیے ان سے بات چیت کرنی چاہیے ایک دوسرے سے معاملات ڈسکس کرنے چاہیں۔ ان تمام اقدامات کے علاوہ سرکاری سطح پر بھی منشیات فروشی کو سختی سے کنٹرول کیا جانا چاہیے جو بھی ان میں شامل ہوں ان کے خلاف سخت کارواٸی عمل میں لاٸی جاۓ تا کہ دوسرے لوگ اس طرح کے کاموں میں نہ پڑے اور نشے سے چھٹکارا پانے کے لیے جو ادارے بناٸیں گے ہیں وہاں پہ بہتر اننتظامات کو ہر ممکن یقینی بنایا جاۓ بچوں میں سکول ، کالجز اور یونیورسیٹیز میں اس سے متعلق شعور اجاگر کیا جاۓان سب اقدامات کی بدولت ہی ہم اپنے معاشرے کو منشیات کی لت کے نقصانات سے بچا سکتے ہیں۔

@b786_s