fbpx

‏منشیات! ایک روگ تحریر: مجاہد عباس خان تبسم

*دیکھتے ہی دیکھتے رنگیں جوانی لٹ گئی*
*کیا جوانی کا ہے رونا زندگانی لٹ گئی*

اج کے دور میں منشیات کا استعمال جس طرح سے نسل نو کو متاثر کررہا ہے کوئی بھی اور معاشرتی برائی اس قدر تیزی سے نہیں پھیلی۔ نشے کی آفت ہمارے معاشرے کے بہت سے افراد پر نازل ہوئی ہے۔ یہ ہماری سیاسی اور سماجی ترقی کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہے۔
منشیات سے خصوصاً نوجوان نسل بہت متاثر ہورہی ہے۔ منشیات کا استعمال نوجوان نسل کی امنگوں ان کی ذہنی صلاحیتوں اور ان کی عزت نفس کے لئے زہر قاتل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نفسیاتی دباؤ، مایوسی،اضطراب،بےچینی اور معاشرتی ناانصافی نوجوانوں کو منشیات کی طرف راغب کرتی ہے۔ منشیات کے استعمال سے انسان کو ذہنی تسکین حاصل ہوتی ہے اور دنیاوی پریشانیوں اور الجھنوں سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے۔
مگر یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ نشہ آور اشیاء صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔ جسمانی تباہی کے علاؤہ انسان کی ذہنی صلاحیتوں کو بھی بری طرح متاثر کرنے کا سبب بنتا ہے۔ منشیات کا استعمال آہستہ آہستہ قوت مدافعت کو ختم کردیتا ہے اور انسان کو موت کے کنارے پر لا کھڑا کردیتا ہے۔
منشیات کے سدباب کے لئے ضروری ہے کہ اس کو جڑ سے ختم کیا جائے اس کے لئے اگر ہم اپنے مذہبی اصولوں پر کاربند رہیں تو اس معاشرتی برائی کو ختم کرسکتے ہیں۔ ہمارا تشخص اور ہماری انفرادیت دین اسلام ہے اور اس کے اصول و قوانین ہر قسم کی برائی کا تدارک بخوبی کرتے ہیں۔ منشیات کے استعمال سے بچنے کا واحد حل بھی مذہب کے اصولوں کی پابندی ہے۔