fbpx

منشیات کےعادی افراد طالبان کے لئے بڑا چیلنج بن گئے

کابل:منشیات کے عادی افراد طالبان کے لئے ایک بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔

باغی ٹی وی : عرب میڈیا "الجزیرہ” کے مطابق منشیات کے عادی بے گھر افغان منشیات لینے کے لیے پلوں کے نیچے جمع ہوتے ہیں اور طالبان اکثر انہیں پکڑتے اور مار تے پیٹتے ہوئے زبردستی علاج کے مراکز میں لے جاتے ہیں تاکہ سخت سردی کے باعث جانی نقصان سے بچایا جا سکے۔

طالبان نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث سینکڑوں ارکان کو برطرف کردیا

رپورٹ کے مطابق دارالحکومت کابل کے بحالی مرکز میں تقریباً 350 افراد پر مشتمل عملہ ہے اور یہ تقریباً ایک ہزارمریضوں کی دیکھ بھال کررہا ہے جبکہ نئے مریضوں کی آمد کے بعد وسائل محدود ہوگئے ہیں اس کے باوجود طالبان تقریباً 3 ہزار 500 منشیات کے عادی افراد کو بھی اسی بحالی مرکز میں لے آئے ہیں گنتی کے چند بحالی مراکز دوسرے شہروں میں بھی نجی خیراتی ادارے کے تعاون سے چلا رہے ہیں۔

واں برس مارچ سے لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

افغانستان ان چند ایک ممالک کے فہرست میں شامل ہے جہاں ہیروئن اور میتھم فیٹامین کی بڑی مقدار موجود ہے، اس میں زیادہ تر دنیا کی بلیک مارکیٹوں میں برآمد کی جاتی ہے۔

ایک ہسپتال کے سربراہ احمد ظاہر سلطانی منشیات کے عادی افراد کے علاج کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان نے دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے منشیات کے عادی افراد کو گرفتار کیا اور انہیں کابل میں منشیات کے بحالی سینٹر میں ڈال دیا گیا۔

طالبان کا تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پرکالی مرچ کا اسپرے

واضح رہے کہ اس سے قبل شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے طالبان حکومت نے ایسے 2 ہزار 840 ارکان کو برطرف کردیا ہے جو اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث امارت اسلامیہ کی بدنامی کا باعث بن رہے تھے طالبان حکومت کے وزیر لطیف اللہ حکیمی نے عالمی میڈیا کو بتایا کہ عوامی شکایات اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونےوالی معلومات کےبعد ان ارکان کےخلاف شفاف جانچ پڑتال کی گئی مکمل تحقیقات کےبعد 2 ہزار 480 ارکان کوبرطرف کیا گیا یہ لوگ کرپشن، منشیات کی اسمگلنگ اور لوگوں کی نجی زندگیوں میں مد اخلت کرنے میں ملوث تھے اور بعض داعش کے ساتھ بھی منسلک تھے۔

لطیف اللہ حکیمی نے مزید بتایا تھا کہ یہ افراد اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث اماراتِ اسلامی کی بدنامی کا باعث بن رہے تھے تنظیم میں تطہیر کا عمل جارہے گا تاکہ مستقبل میں ایک شفاف عوام دوست پولیس اور فوج بنائی جاسکے۔

سیکیورٹی کیوں نہیں دی،شہزادہ ہیری برطانوی حکومت کیخلاف عدالت پہنچ گئے