منزل کی آس میں تحریر:جویریہ بتول

منزل کی آس میں…!!!
[تحریر:جویریہ بتول]۔
کشمیری قوم نے کئی راجوں کا سامنا کیا،ڈوگرہ راج،سکھ راج،فرنگی راج اور اب ہندو راج سے نبرد آزما یہ قوم آزادی کی اُمید لیئے اپنے خونِ جگر سے لاکھوں قربانیاں دے کر جہدوجہد آزادی جاری رکھے ہوئے ہے…
یہ وہ جدوجہد آزادی ہے کہ جسے عالمی برادری کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کا اعزاز حاصل ہے اور اقوامِ متحدہ جیسے عالمی طاقتوں کے مجموعے کے فورم اور ریکارڈ پر درجنوں منظور شدہ قراردادیں آج تک عالم انسانیت کا منہ چڑا رہی ہیں…!!!
ہر موسم اور ہر انداز میں لہو سے راہ کے چراغ روشن کرتی یہ تحریک عشروں سے جانبِ منزل چل رہی ہے…
13 جولائی 1935ء میں سرینگر جیل میں جن بائیس افراد نے اذان کی تکمیل کے لیئے جانیں دے دی تھیں،اس طوفان نے آزادئ کشمیر کو ایک سیاسی پلیٹ فارم مہیا کر دیا تھا…
ایسے اندوہ ناک واقعات کشمیر کی تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں اور ہزاروں یتیم بچے،بیوائیں اور ہاف وڈوز جن کے شوہر لاپتہ ہونے کے بعد گھروں کو نہیں لوٹے…
اجتماعی قبروں کی دریافتیں اور تعلیم و صحت کی انتہائی ابتر صورتحال کی ایک تصویر کشمیر ہے…
اسی ماہِ جولائی 2016ء میں اس تحریک کو ایک نیا رنگ،ولولہ اور مہمیز ملی جب 8 جولائی کو نوجوان کشمیری برہان مظفر وانی کو قابض افواج نے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا تھا…
ایک سکول پرنسپل کا بچہ جسے تعلیم و قلم سے پیار تھا…آخر کس احساس نے گن تھما دی تھی کہ سوشل میڈیا کا کھلاڑی کشمیریوں کی ایک مضبوط آواز بن گیا تھا…؟
اور ظالم فورسز نے اسے شہید کر کے تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش کی تھی لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا اور یہ سوچ اور تجزیہ ایک آواز بن گئے کہ قبر میں لیٹا برہان زندہ برہان سے زندہ وانی سے زیادہ خطرناک ثابت ہو گا…
برہان مظفر وانی کی تاریخی نمازِ جنازہ نے قابضین کے ہوش اڑا دیئے تھے،جس میں تقریباً پانچ لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی تھی اور نمازِ جنازہ 45 مرتبہ ادا کی گئی تھی۔
کشمیری نوجوان برہان وانی کو شہید کر کے بھارتیوں نے تحریکِ آزادی کو کچلا نہیں بلکہ پروان چڑھاتے ہوئے قافلے کو رواں اور نوجوانوں کو عزم و ہمت فراہم کر دیئے ہیں…
یہ بے گناہ اور مظلوم لہو تہہِ خاک سے آزادی کی پر نور صبح تک زادِ سفر بن چکا ہے…!!!
گزشتہ گیارہ مال سے طویل لاک ڈاؤن کا سامنا کرتی قوم کے حوصلے اب بھی پست نہیں ہیں،اگر چہ ان کی آوازوں کو پابندِ سلاسل کیا جا چکا ہے،مگر آزادی کے مقصد کی خاطر بہایا گئے لہو کی گونج زندانوں سے ایوانوں تک ٹکرا رہی ہے…!!!
کشمیری نوجوان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ایک طرف رکھ کر راہِ آزادی کا مسافر جس چیز نے بنایا ہے وہ اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور اسی ظلم اور ظلمت کی اوٹ سے صبحِ انقلاب کا ظہور دکھائی دیتا ہے…
پیلٹ گن کے چھروں کے وار اور نابینا آنکھیں اب انسانیت سوز مظالم پر اتمامِ حجت بن چکے ہیں…
اس سفرِ آزادی کے کارواں میں بوڑھے،جواں،بچے اور عورتیں سبھی شامل ہو کر ہم کیا چاہتے ہیں…”آزادی” کی پکار سے دنیا کے ضمیر پر ایک ضرب بن کر لگ رہے ہیں…!!!
اور تمام عالمی اداروں اور حقوقِ انسانی کے کنونشنز سے سوال کناں ہیں…!!!
کشمیر کے نوجوان کی جوانی،کاروبار اور تعلیم سب اس راہ میں ہار چکی ہیں مگر وہ صبحِ آزادی کے تعاقب سے پلٹ نہیں رہا ہے…
منزل کی آس میں پیہم چل رہا ہے…
جس کی واضح مثال برہان وانی شہید ہے…!!!
اُمید سحر کی آس میں…
میں چلا گیا ہوں آبلہ پا…
میں نے ہر صلاحیت دے کر…
چراغِ رہ دیا ہے جَلا…
مجھے جاں سے بھی پیاری…
ہے یہ اپنی صبح آزادی…
میں نے نقد جاں ہار کر…
اَدا سفرِ وفا کا کیا تقاضا…
مرے ہاتھ میں قلم کی جگہ…
جس نے نعرۂ آزادی دیا…
اسی وجہ کو کھوج لو…
کرتا ہے سوال یہ بچہ بچہ…؟
رہِ وفا میں ہواؤں سے…
شبِ ظلمت کی گھٹاؤں سے۔۔…
اُلجھ کر جو چلتے رہے…
ہم وہ دِیے جلا چلے ہیں…
جنہیں کوئی بھی نہ سکے گا بُجھا…!!!
==============================

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.