مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں اسلامو فوبیا اور نسل پرستی کی کارروائیوں کو روکنے کیلئے عملی اقدام کا وقت آگیا، وزیر خارجہ

0
57

مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں اسلامو فوبیا اور نسل پرستی کی کارروائیوں کو روکنے کیلئے عملی اقدام کا وقت آگیا، وزیر خارجہ

باغی ٹی وی : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قراردینا حالیہ منظر نامہ میں انتہائی خطرناک ہے ، بی جے پی کے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت اس کے مستقبل میں انتہائی مہلک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، بھارت میں مسلمانوں کے حالات بد سے بدتر ہو رہے ہیں، مسلم امہ کو بھارت میں تیزی سے بڑھتے اسلامو فوبیا اور نسل پرستی کی کارروائیوں کو روکنے کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے ۔

اس معاملہ کو او آئی سی کے ذریعے بین الاقوامی فورمز بشمول ایچ آر سی میں اٹھایا جائے ۔ وزیر خارجہ نے منگل کو سیکرٹری جنرل او آئی سی اورتمام او آئی سی ممبر ممالک کے وزرا خارجہ کو لکھے گئے خط میں ان کی توجہ بھارت میں سرکاری سرپرستی میں اسلام مخالف اور نفرت پر مبنی بڑھتے جرائم کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا بھارتی مذہبی و نسلی منافرت پر مبنی اقدامات بھارت میں آباد مسلمانوں کیلئے سنگین خطرہ بن چکے ہیں جس پر پوری مسلمان دنیا کو شدید خدشات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا ہندوتوا نظریہ پر مبنی آرایس ایس،بی جے پی کی نفرت انگیزی کا تازہ ترین واقعہ یہ ہے کہ بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے ۔

چند واضح ترین مثالیں یہ ہیں ،کابینہ کے ارکان سمیت اعلیٰ حکومتی بھارتی حکام کی جانب سے مسلمانوں کو ‘‘کورونا وائرس’’ کے پھیلاؤ کا ذمہ دار اور ‘‘انسانی بم’’ قرار دیکر ان کی کردار کشی کی جار ہی ہے ، سوشل میڈیا پر اسلام سے نفرت کے عنوانات کی بھرمار ہے جیسا کہ’’کورونا جہاد‘‘،’’بائیوجہاد‘‘، ’’کووڈ-19‘‘ اور’’اسلامی بغاوت‘‘ وغیرہ کو مخصوص ٹرولز سے پھیلایا جا رہا ہے جنہیں حکمران بی جے پی کا سوشل میڈیا سیل چلا رہا ہے ، ٹی وی چینلز پر ‘‘کورونا جہاد سے ملک کو بچاؤ’’ جیسی شہ سرخیاں دکھائی جا رہی ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہاہم اسلامی ممالک میں تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کے بھارتی مسلمانوں سے تعصب کو مسترد کرنے اوربھارت میں اسلام مخالف، مسلمانوں سے نفرت کے بڑھتے رجحان پر گہری تشویش کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے وزارت خارجہ میں قائم ایمرجنسی کرائسزمینجمنٹ یونٹ کا ہنگامی دورہ کیا ،ڈائریکٹر جنرل کرائسز مینجمنٹ یونٹ سلمان اطہر نے وزیر خارجہ کا خیر مقدم کیا۔شاہ محمود قریشی سے سید ذوالفقار علی بخاری اور معید یوسف نے ملاقات کی جس میں عالمی وبائی صورتحال اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جلد واپسی کیلئے کی جانیوالی کاوشوں کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا.
دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیان میلہورہ زینہ پورہ گائوں میں منگل کو 7روز کے دوران دوسرے 17گھنٹے طویل معرکے میں جھڑپ میں 3عسکریت پسند غازی ابراہیم ، برہان کوکا اور ناصر بھٹ شہید ہو گئے۔جبکہ فوج اور پولیس کے 2اہلکار زخمی ہوئے

بھارتی فوج کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کے نیتجے میں ایک جواں سال خاتون شہنواز بانو زوجہ فاروق احمد کوک ابھی دونوں ٹانگوں میں گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئیں اور ایک نوجوان پیلٹ لگنے سے بھی زخمی ہوا۔

جھڑپ کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان پر تشدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مذکورہ گاؤں میں 22اپریل کو اسی طرح کی ایک جھڑپ میں 4نوجوان شہید ہوئے تھے۔ منگل کی سہ پہرآپریشن شروع ہوتے ہی ضلع شوپیان اور پلوامہ میں انٹر نیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھی۔ میلہورا شوپیاں میں آپریشن میں شہید ہونے والے 2افراد کی لاشیں برآمدکرلی گئی ہیں جبکہ تیسرے کی تلاش کے لئے آپریشن صبح نو بجے تک جاری تھا۔

Leave a reply