مقبوضہ کشمیر کرفیو کا 37واں دن ، ایمبولینسوں اور طبی عملے کو بھی روک لیا گیا

مقبوضہ کشمیر میں، 5 اگست سے نافذ کرفیو اور پابندیوں کو، بھارتی حکام نے اس علاقے میں محرم کے جلوسوں کو روکنے کے لئے کرفیو کو مزید سخت کردیا ہے۔

لال چوک اور سری نگر کے ملحقہ علاقوں کے تجارتی مرکز کو عوامی نقل و حرکت کوروکنے کے لئے ، تمام داخلی مقامات کو سیل کر دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ ایمبولینسوں اور طبی عملے کو بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔ بھارتی فوج نے لاوڈ اسپیکر کے ذریعہ اعلان کیا ہے کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

تاہم ،کشمیریوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سری نگر میں ابیگوزر مقام سمیت کئی مقامات پر جلوسوں میں شرکت کی۔ کم از کم چھ جلوس نکالے گئے ، پولیس نے جلوس کے تمام شرکا کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے سوگواروں کو لاٹھیوں سے بھی مارا اور چھرے بھی مارے۔

دریں اثنا ، مسلسل 37 ویں روز بھی مقبوضہ جموںو کشمیر میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ، تمام مارکیٹیں بند رہیں جبکہ ٹریفک بھی معطل رہی۔ انٹرنیٹ ، موبائل اور لینڈ لائن سروس بند رہی اور مقبوضہ وادی کا رابطہ باقی دنیا سے منقطع رہا۔مقبوضہ کشمیر میں جاری انٹرنیٹ سروس کی بندش کا دورانیہ پچھلی تمام حدوں کو کراس کر گیا ہے۔د کن ہیرالڈ نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انٹرنیٹ سروس 5اگست کو بند کی گئی تھی۔ اتوا رکے دن سروس کو بند ہوئے 840گھنٹے ہو چکے تھے۔

دہلی میں ایک تھنک ٹینک ، انٹرنیشنل کونسل فار ریسرچ آن انٹرنیشنل اکنامک ریلیشنز (آئی سی آر آئی آر) کی ایک حالیہ تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ انٹرنیٹ خدمات کی متواتر معطلی سے کشمیر کی نازک معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے جس کے نتیجے میں 2013سے لے کر تقریبا 4000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.