ورلڈ ہیڈر ایڈ

مقبوضہ کشمیر،تصاویر اور ویڈیو گرافی، جان جوکھوں کا کام

مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے ختم ہونے کے بعد وادی میں فوٹوجرنلزم (تصاویر کشی اورویڈیو ) صحافیوں کے لیے ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

مودی کا دورہ امریکہ، مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر مزید پابندیاں

بھارتی میڈیا کے مطابق پانچ اگست کو جب جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کیا گیاتو انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی بند کر دی گئی۔سروس کی بندش کی وجہ سے صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ امور کو انجام دینے کے لیے کافی مشکلات کا سامنا ہے۔

فوٹوجرنلسٹ ذہیب جن کی 2016 میں عوامی احتجاج کی تصاویر کشی کے دوران پیلٹ لگنے کی وجہ سے ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی، نے کہا کہ کہا کہ ‘ کشمیر جیسے حساس خطے میں صحافت خصوصاً تصاویر یا ویڈیو گرافی کرنا کافی مشکل ہے۔ کشمیر میں صحافتی خدمات انجام دینا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

ذہیب کے مطابق ‘ کئی بار سکیورٹی اہلکار تصاویر کو کیمرے سے ڈیلیٹ کروادیتے ہیں،اسی طرح بعض دفعہ صحافیوں کو گرفتار بھی کیا جاتا ہے۔ کشمیر میں صحافت خطروں کا کھیل ہے۔ ‘

فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد متو کے مطابق ‘کشمیر میں عام حالات میں بھی کام کرنا آسان نہیں، آرٹیکل 370کی منسوخی کے بعد کرفیو اور مواصلاتی نظام کی بندش سے صحافیوں کا کام تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔

ثنا ارشاد نے بھارتی فوج پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور سی آر پی ایف اہلکار شناختی کارڈ اور کرفیو پاس ہونے کے باوجود بھی صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے روکتے تھے۔“

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.