مقبوضہ کشمیر میں جاری انٹرنیٹ سروس کی بندش نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے

مقبوضہ کشمیر میں جاری انٹرنیٹ سروس کی بندش کا دورانیہ پچھلی تمام حدوں کو کراس کر گیا ہے۔د کن ہیرالڈ نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انٹرنیٹ سروس 5اگست کو بند کی گئی تھی۔ اتوا رکے دن سروس کو بند ہوئے 840گھنٹے ہو چکے تھے۔
ایمنیسٹی انٹر نیشنل نے مقبوضہ کشمیر سے انٹر نیٹ کی بندش کے خاتمے کا فوری مطالبہ کر دیا
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں متواتر انٹرنیٹ سروس بند ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ پچھلی دہائی میں متعدد بار سروس بند کردی گئی تھی۔ تاہم ، اس بار نہ صرف موبائل انٹرنیٹ سروس بند کی گئی ، بلکہ براڈ بینڈ ،لینڈ لائن ، اور یہاں تک کہ وی سیٹ سروس بھی ختم کردی گئیں۔

دہلی میں ایک تھنک ٹینک ، انٹرنیشنل کونسل فار ریسرچ آن انٹرنیشنل اکنامک ریلیشنز (آئی سی آر آئی آر) کی ایک حالیہ تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ انٹرنیٹ خدمات کی متواتر معطلی سے کشمیر کی نازک معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے جس کے نتیجے میں 2013سے لے کر تقریبا 4000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

دوسری طرف بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال نے تسلیم کیا ہے کہ مواصلات خصوصاًانٹرنیٹ کی بندش سے کشمیر میں بڑے پیمانے پر تکلیف اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.