مقبوضہ کشمیر میں صحافی بھی بھارتی فوج کے نشانے پر

مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو بھی بھارتی فورسز کے اہلکاروں کے ہاتھوں توڑ پھوڑ ، ہراساں کرنے اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پاکستان کا مقبوضہ کشمیر پر یو این ہیومن رائٹس کمشنرکے بیان کاخیرمقدم
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پولیس اور نیم فوجی دستوں نے سری نگر کے سونوار علاقے میں بھارتی حکومت کی طرف سے قائم کردہ نام نہاد میڈیا سہولت مرکز کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔صحافیوں اور فوٹو جرنلسٹوں کے بقول کرفیو پاس اور میڈیا پاس کو بھی فورسز کے اہلکاروں نے تسلیم نہیں کیا۔

ایک خاتون صحافی رفعت محدین کے بقول ، ”مجھے جہانگیر چوک فلائی اوور کے قریب روکا گیا اور پولیس اہلکاروں نے مجھے آگے جانے کی اجازت نہیں نے ۔ انہوں نے مجھے اور میرے اہل خانہ کو گالیاں دیں۔ میں نے ان سے کہا کہ میرے پاس کرفیو پاس ہے لیکن وہ پھر بھی آگے سے نہیں ہٹے۔ حتی کہ انہوں نے لاٹھیوں سے میری کار کو بھی نقصان پہنچایا۔“

رفعت نے مزید کہا کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں سنگین نتائج سے خبردار کیا اور ان کی گاڑی کو بھی ضبط کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا ، “میں تمام وقت گاڑی کے اندر بیٹھی رہی اور صدمے کی حالت میں تھی۔”

دریں اثنا میڈیا سہولت مرکز کے متعدد صحافیوں نے پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ذریعہ ہراساں کیے جانے کی شکایت کی۔ ایک فوٹو جرنلسٹ نے کہا ، “مجھے اپنی کار میڈیا سنٹر سے دو کلومیٹر دور رکھنی تھی اور پیدل فاصلہ طے کرنا پڑا۔”

ہفتے کے روز سری نگر کے حسن آباد میں محرم کے جلوس کے کرنے کے دوران چار صحافیوں کو پولیس اہلکاروں نے مارا پیٹا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.