fbpx

مر جائیں ..پر گھبرانا نہیں، تحریر: نوید شیخ

مر جائیں ..پر گھبرانا نہیں، تحریر: نوید شیخ

ثابت ہوچکا ہے کہ موجودہ سیٹ اپ کو کسی طرح بھی عوامی اور انقلابی نہیں کہا جاسکتا ۔

۔ خان صاحب اقتدار میں آنے سے پہلے ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ right person for the right job مگر اب ہر جگہ صرف ایک مافیا ہی کو مواقعدیا جا رہا ہے ۔ ایک مافیا کو ہٹا کر دوبارہ پھر موقع ہی مافیا کو ملتا ہے ۔ ۔ دراصل اس ملک میں اشرافیہ کا ایک چھوٹا سا طبقہ سیاست اور حکومت میں آتا ہے اور اربوں روپوں کی لوٹ مار کرتا رہتا ہے۔۔ سب جانتے ہیں ۔ کہ اس حکومت میں سب اچھا نہیں ہے اور عوام سے کرپشن کے خاتمے کے جووعدے کیے تھے ابھی تک یہ حکومت ان پر پورا اترنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔

۔ اگر آپکو یاد ہو تو وزیر اعظم پہلے بھی کہا کرتے تھے اب بھی روزانہ کسی نہ کسی انداز میں کہتے ہیں کہ حکمران کرپٹ ہوں تو ملک دیوالیہ ہوجاتے ہیں۔ سربراہان ریاست اور ان کے وزراء بدعنوان ہوتے ہیں تو ملک قرضوں کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں۔ جب نچلی سطح کے حکام رشوت لیتے ہیں تو اس سے عام شہریوں کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ عمران خان تو اس سلسلے میں امریکی صدر کے ایک اقتباس کا حوالہ بھی دے چکے ہیں کہ اسلوب حکمرانی میں اور کرپشن کے تدارک کے لیے بد عنوان عناصر کو کٹہرے میں لانا پڑتا ہے۔ بڑی اچھی بات ہے مگر صورتحال یہ ہے کہ ان تین سالوں میں اس معاملے میں بہتری نہیں ہوئی پر اس سلسلے میں مزید ابتری جاری ہے ۔

۔ دیکھا جائے تو موجودہ حکومتی سیٹ اپ کا تعلق بھی اشرافیہ سے ہے اور ایک مافیا لوٹ مار کر رہا ہے۔ کبھی چینی مافیا ، آٹا مافیا اور کبھی پلاٹوں کی خرید و فروخت کی آڑ میں عوام کا پیسہ ہڑپ کرنے والا مافیا عوام پر مسلط ہو چکا ہے۔ راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل سب کے سامنے ہے اور ابھی تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی۔ دیکھا جائے تو کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ سرکاری محکموں میں کرپشن اور رشوت میں اضافہ ہوا ہے۔

۔ اب وزیراعظم کے لاشعور میں یہ بات چپک گئی ہے کہ حکمرانوں کی کرپشن ملک کی بدحالی کا اصل سبب بنتی ہے۔ مگر جب بھی کبھی ان کے کسی وزیر یا مشیر پر الزام لگتا ہے تو بس دیکھاوا کے لیے ان کی وزارت بدل دیتے ہیں ۔

۔ مولانا مودودی کا مشہور جملہ ہے ۔ غلطیاں بانجھ نہیں ہوتیں۔ درست بات ہے ۔ کیونکہ ایک غلطی دوسری کو جنم دیتی ہے اور اس سے تیسری غلطی پھوٹتی ہے۔ اسی لئے سیانوں نے یہ جملہ تخلیق کیا کہ غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہیے۔ پر آپ دیکھیں عمران خان ایک کے بعد ایک موقع دے دیتے ہیں اپنی ٹیم کو ۔ اب اگر ایک وزیر ایک وزارت میں پرفارم نہیں کرسکا تو کیسے ممکن ہے دوسری میں پرفارمنس دے ۔

۔ اس وقت عوامی میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے اور پڑھے لکھے لوگ موجودہ سیٹ اپ کی مخالفت اس لیے کر رہے ہیں کہ نہ ان کے پاس نوکری ہے نہ ہی ان کو اپنا مستقبل تابناک دیکھائی دیتا ہے ۔

۔ پر وزیر اعظم تواپنی موجودہ طرز حکمرانی کے باوجود اس قدر پر امید ہیں کہ اگلی حکومت بنا کر پاکستان کو تیزی سے اوپر لے جانے کی بات کر رہے ہیں ۔

۔ عمران خان نے ایک اور دلچسپ بات کہی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد نظام بدلنے کی سب سے بڑی جدوجہد وہ کر رہے ہیں۔ یہ کون سی جدوجہد ہے جس کا نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ کوئی منصوبہ ۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون سا نظام لانا چاہتے ہیں۔ کبھی وہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں۔ کبھی چین یا امریکہ کی۔ کبھی وہ ترکی یا ملائیشیا کے ماڈل کی بات کرتے ہیں اور کبھی scandinavian ملکوں کی فلاحی ریاستوں کا ذکر کرتے ہیں۔

۔ ریاستِ مدینہ کی بات کی جائے تو اس میں امیرالمومنین حضرت عمرؓ نے اپنے کندھے پر اناج کی بوری رکھ کر اُس بیوہ کے گھر پہنچائی جس کے بچے بھوکے تھے لیکن پاکستانی ریاستِ مدینہ کے سربراہ کے پاس اناج کی بجائے صرف ایک جملہ ہے ۔
’’گھبرانا نہیں‘‘

۔ 100 دنوں میں ملک کی تقدیر بدلنے کے دعوے کرنے والوں نے ہزار دِن گزار دیئے لیکن سبق پھر وہی ہے ’’گھبرانا نہیں‘‘۔ مفلسوں کی معیشت پیٹ سے شروع ہو کر پیٹ پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ آپ اُنہیں growth rate جیسے چکر دینے کی بجائے روٹی دے دیں وہ آپ کا گُن گانے لگیں گے۔ اِس وقت مزدور سڑکوں پر، کسان سڑکوں پر، کلرک سڑکوں پر، اُستاد سڑکوں پر،
پینشنر سڑکوں پر، ڈاکٹر سڑکوں پر اور آپ اُنہیں growth rate کا سبق رٹانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا آپ کو خود بھی ’’ککھ‘‘ پتہ نہیں۔

۔ زمینی سفر پر آگے پیچھے پروٹوکول گاڑیوں کی طویل قطاریں اب بھی نظر آتی ہیں ۔ چاہے وزیر اعظم ہوں ، وزیر ہوں یا مشیر ۔ ابھی تازہ تازہ وزیر مملکت فرخ حبیب کے پروٹوکول کی ٹک ٹاک ویڈیو وائرل ہوئی ہے ۔ یاد کروادوں عمران خان نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے فرمایا تھا کہ ہالینڈ کا وزیرِاعظم سائیکل پر دفتر جاتا ہے۔ وہ بھی سائیکل پر ہی وزیرِاعظم ہاؤس جایا کریں گے لیکن گزشتہ ہزار دنوں میں اِس کی نوبت نہیں آسکی ہے ۔

۔ اب حکومت گیارہ جون کو بجٹ پیش کر رہی ہے۔ اِس بجٹ کے بعد سیاسی جماعتیں 2023ء کے عام انتخابات میں مصروف ہو جائیںگی۔ اگر حکومت نے عوام کی اشک شوئی کے لیے کوئی حربہ استعمال کرنا ہے تو اِسی بجٹ میں کر سکتی ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف کہاں سے اور کیسے دے گی۔ خزانہ خالی ہے ۔ آئی ایم ایف کا دباؤ الگ ہے اور کہیں سے بھی پیسے ملنے کے امکانات معدوم ہیں ۔ ایسے میں اگر تحریکِ انصاف کے چوتھے وزیرِ خزانہ اُلٹے بھی لٹک جائیں تو ’’عوامی بجٹ‘‘ نہیں بنا سکتے۔ اِس لیے اُمید ہے کہ بجٹ کے بعد وزیرِخزانہ شوکت ترین کی بھی چھُٹی ہو جائے گی۔ اور ملبہ ان پر ڈالا جائے گا کہ یہ معیشت کو نہیں چلا سکے ۔ مہنگائی کی وجہ شوکت ترین ہیں ۔۔ تحریک انصاف نے اپنے تین سالہ دَورِحکومت میں اتنے منجن بیچے ہیں کہ اُن کا نام گینیزبُک میں آنا چاہیے۔۔ پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریوں کا منجن، بجلی دو روپے یونٹ اور پٹرول 45
روپے لٹر کرنے کا منجن، باہر پڑے 200 ارب ڈالر واپس لا کر قرض داروں کے مُنہ پر مارنے اور بھیک نہ مانگنے کا منجن، آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر خودکُشی کرنے ، پروٹوکول نہ لینے، چھوٹی کابینہ رکھنے، گورنر ہاؤسز پر بلڈوزر چلانے اور وزیرِاعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا منجن، نئی فیکٹریاں لگانے اور نیا پاکستان بنانے کا منجن، غریب کو روزگار فراہم کرنے اور فری علاج کا منجن۔ سب سے بڑھ کر این آر او نہیں دوںگا اور چوروں کو نہیں چھوڑوں گا کا منجن جس نے قوم کے مُنہ میں ’’چھالے‘‘ ڈال دیئے ہیں۔ کیونکہ اب کرپشن کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ چکی ہے۔

’’صاف چلی شفاف چلی‘‘
کے دَورِحکومت میں ہر روز کرپشن کا کوئی نیا سکینڈل۔ مالم جبّہ اور بی آر ٹی سکینڈلز ماضی کے دھندلکوں میں گُم ہو چکے ہیں ۔ ایک ارب درخت لگانے کے دعوے پر چیف جسٹس آف
پاکستان جسٹس گلزار احمدنے فرمایا تھا کہ اُنہیں تو پشاور میں درخت نہیں صرف گردوغبار نظر آیا۔

۔ بات اب اس حکومت کے کَٹوں، وَچھوں، انڈوں اور مُرغیوں جیسے منصوبوں سے کہیں آگے نکل چکی ہے ۔ اب اس حکومت کے گرد گھیرا ڈالے منصوبہ ساز اربوں کھربوں کے ٹیکے لگا رہے ہیں ۔

۔ سبھی جانتے ہیں کہ بجٹ کے بعد عام انتخابات کی گہماگہمی شروع ہو جائے گی۔ اگر تحریکِ انصاف کی حکومت عام انتخابات تک قائم بھی رہتی ہے تو سوال یہ ہے کہ اب عمران خان کون سا
’’منجن‘‘بیچیں گے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.