ورلڈ ہیڈر ایڈ

ماربل انڈسٹری پر 17فی صد سیلز ٹیکس ملازمین سڑکوں پر نکل آئے

8 جولائی کو اسلام آباد میں ماربل انڈسٹری کا اجلاس ہوگا

اسلام آباد:آل پاکستان ماربل انڈسٹریز ایسوسی ایشن کی کال پر ماربل انڈسٹری پر 17فیصد ظالمانہ سیلز ٹیکس کے نفاذ کے خلاف خیبر پختونخوا میں دوسرے دن بھی مکمل ہڑتال جاری رہی جبکہ حکومت کی جانب سے ماربل دشمن اقدامات کے خلاف وفاقی دارالحکومت میں ایف بی آر کے مرکزی دفتر کے سامنے احتجاج، دھرنے سمیت دیگر آپشن پر غور کیا جانے لگا ہے۔تفصیلات کے مطابق آل پاکستان ماربل انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں گلزار احمد کی زیر صدارت 8جولائی کو اسلام آباد میں ماربل انڈسٹریز ایسوسی ایشن کا ایک ہنگامی اجلاس بلایا گیا ہے جس میں ملک بھر سے عہدیداران شرکت کریں گے،اجلاس میں ماربل انڈسڑی پر سترہ فیصد سیلز ٹیکس لاگو کرنے کے خلاف آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائیگا، اجلاس میں حکومتی ظالمانہ اقدام کے خلاف اہم فیصلے کیے جائیں گے جن میں خیبر پختونخوا میں جاری ہڑتال کو مسلسل جاری رکھنے سمیت اسلام آباد میں ایف بی آر کے دفتر کے سامنے احتجاج سمیت دھرنے کے آپشن پر غور کیا جائیگا۔آل پاکستان ماربل انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں گلزار احمد کا کہنا ہے کہ ماربل انڈسٹری سے وابستہ 3لاکھ سے زائد مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کریں گے اور ان کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت نہیں آنے دیں گے ہم ماربل انڈسٹری سے وابستہ تین لاکھ افراد کے کنبوں کے تقریباً 20لاکھ اہل خانہ کے حقوق کی ترجمانی بھی کر رہے ہیں اور حکومت کو ایسے ظالمانہ اقدام نہیں کرنے دیں گے جس سے بیس لاکھ افراد متاثر ہوں اگر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو احتجاج اور دھرنے کے بعد ملک گیر بھوک ہڑتالی مہم شروع کریں گے ان کا کہنا تھا کہ ماربل انڈسٹری ملک کا دوسرا بڑا سیکٹر بن سکتا یے اور بہت زیادہ پوٹینشل ہے اگر حکومت اس سیکٹر کو سہولیات دے تو ہم برآمدات میں کئی گنا اضافہ کرکے ملکی زرمبادلہ میں اربوں ڈالر لا سکتے ہیں لیکن حکومت صرف چار سے پانچ سیکٹر پر توجہ دے رہی ہے اور ماربل سیکٹر کو یکسر نظر انداز کرنے کے ساتھ ساتھ اس سیکٹر کو تباہی کے دھانے پر لانے پر تلی ہوئی ہے اگر اس سیکٹر کو سہولیات اور مراعات دی جائے تو ملک سے بے روزگاری ختم ہو سکتی ہے اور پہاڑی علاقوں میں بسنے والے افراد کو ان کی دہلیز پر روزگار کے مواقع مل سکتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ماربل سیکٹر بجلی کی بلوں کی مد میں 350ملین سیلز ٹیکس دے رہا ہے اور اس میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے لیکن اس کا ایک موثر طریقہ کار ہونا چاہئے نا کہ یکدم 17فیصد سیلز ٹیکس لاگو کر دیا جائے۔2013میں ماربل کی برآمدات 140ملین ڈالر تھی جبکہ 2018میں صرف34ملین ڈالر رہ گئی ہیں، پاکستان میں ماربل اور گرینائٹ کے دنیا کے تیسرے بڑے ذخائر ہیں لیکن عدم توجہی کی بناء پر یہ سیکٹر زبوں حالی کا شکار ہے چین ماربل اور گرینائٹ کا سب سے بڑا خریدار ہے اور یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ وہ ہم سے نہیں بلکہ بھارت سے خریداری کر رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.