fbpx

مردم شماری دوبارہ کرانے کا مطالبہ،مراد علی شاہ

وزیر اعلٰی سندھ مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں مردم شماری پر پالیسی بیان دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جلد دوبارہ مردم شماری کرائی جائے، سندھ حکومت مردم شماری سے متعلق ریفرنس پارلیمان کو بھیج رہی ہے۔انکا کہناتھا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں پہلی بار فیصلے کیلئے ووٹنگ کرائی گئی، بلدیات انتخابات کے حوالے سے تمام جماعتوں کو 2018 کی طرح اعتماد میں لے کر ترمیم ممکن تھی لیکن سندھ کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے 2017 کی مردم شماری کو منظور کیا گیا ہے، ایوان نے پبلک فنانس ایڈمنسٹریشن، ٹرانسپورٹ اینڈ مانس ٹرانزٹ بلوں اور اپوزیشن لیڈر کی جانب سے وقفہ نماز کیلئے پیش کردہ قرار داد بھی متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر آغا سراج درانی کی صدارت میں ہوا۔ وقفہ سوالات کے دوران وزیر اعلٰی مراد علی شاہ نے ایوان کو بتایا کہ اکاونٹٹ جنرل آفس میں 132 جعلی اکاونٹس کے ذریعے فراڈ کیا گیا ہے جسمیں بنک اور محکمہ فنانس کا عملہ بھی ملوث ہے۔مردم شماری کی منظوری سے متعلق پالیسی بیان دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ 2017 کی مردم شماری میں تمام صوبوں کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے لیکن سب سے زیادہ نقصان سندھ کا ہوا ہے۔انکا کہنا تھاکہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے متفق نہیں اور قانون کے مطابق معاملہ پارلیمان مشترکہ اجلاس کو بھیج رہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جلد از جلد مردم شماری کرائے وزیر پارلیمان امور مکیش کمار چاولہ نے ایوان میں سندھ پبلک فنان ایڈمنسٹریشن بل اور ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ بل منظوری کیلئے پیش کرنے کی اجازت طلب کی تو ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار نے مخالف کی، انکا کہنا تھا کہ پہلے بل پر بحث کرائی جائے۔اسپیکر کی جانب سے بل پیش کرنے کی اجازت کے بعد وزیر نے یکے بعد دیگرے دونوں بل پیش کی جو متفقہ طور پر منظور کرلیئے گئے قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے سیشن کےدوران وقفہ نماز کیلئے قرار داد ایوان میں پیش کی۔حلیم عادل شیخ کی قرار داد کو بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا، جسکے بعد اسپیکر نے اجلاس جمعہ کی دوپہر تک کیلئے ملتوی کردیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.