fbpx

پاکستان کے نامور سوز خوان، نوحہ خوان اور شاعر عزت لکھنوی کا یومِ وفات

کبھی کچھ رسمِ دنیا اور کبھی کچھ مصلحت مانع
حقیقت میں بڑی مشکل ہے جو سچ ہو وہی کہنا

پاکستان کے نامور سوز خوان، نوحہ خوان اور شاعر عزت لکھنوی کا یومِ وفات

مرزاآغامحمدعزتالزماں المعروف عزتؔ_لکھنوی 1932ء میں شہر لکھنؤ کے محلہ اشرف آباد میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام آغا محمد بدیع الزماں تھا۔ عزت لکھنوی نے ابتدای تعلیم مدرسہ حسینیہ، اما باڑہ میاں داراب علی خان مرحوم، مولوی گنج لکھنؤ میں حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسہ
سلطان المدارس نزد میڈیکل کالج لکھنؤ میں بھی زیرِ تعلیم رہے اس کے بعد شیعہ ڈگری کالج، ڈالی گنج لکھنؤ، لکھنؤ کے طالب علم رہے۔

قانون کی ڈگری انہوں نے لکھنؤ سے حاصل کی۔15؍اگست 1958ء کو ترکِ وطن کیا اور کراچی پہنچے۔ کراچی کے عدالتی ماحول سے بد دل ہو کر بینک افسری کا امتحان دیا اور حبیب بنک کراچی سے منسلک ہو گئے۔ ‘کراچی ٹی، وی اسٹیشن جب قائم ہوا تو اس وقت سے لے کر تادمِ مرگ محرم کے شامِ غریباں کی نشریات میں ان کا پڑھا ہوا نوحہ نشر کیا جاتا رہا 16؍جنوری 1981ء کوانتقال کر گئے۔

عزتؔ لکھنوی کے یومِ وفات پر منتخب اشعار
….
فکر بدلے گی تو پھر لوگ ہمیں پوجیں گے
بعد مرنے کے کیا جائے گا چرچہ اپنا
غیر تو وقت پہ کچھ کام بھی آ جاتے ہیں
کوئی لیکن کبھی اپنوں میں نہ نکلا اپنا
لوگ تڑپیں گے اگر یاد کبھی آئے گی
ایسا اسلوب یہ انداز یہ لہجہ اپنا
———
کبھی کچھ رسمِ دنیا اور کبھی کچھ مصلحت مانع
حقیقت میں بڑی مشکل ہے جو سچ ہو وہی کہنا
———
اک محبت ہے فقط وجہِ بہارِ زندگی
ورنہ اس دنیا میں کیا رکھا ہے انساں کے لیے
———
آپ خوب واقف ہیں، دل کی جو تمنا ہے
حُکم کیا ہے اے مولا، چپ رہوں میں یا مانگوں
———
ناقدریِ زمانہ کی تلخی سے بے نیاز
اچھے ہیں جن کے پاس متاعِ ہنر نہیں