fbpx

برصغیر کے معروف شاعر نواب مصطفے خان شیفتہ کا یوم ولادت

بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام ہوگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نواب مصطفے خان شیفتہ

مصطفٰی خان شیفتہ ( پیدائش:27 دسمبر 1809ء دہلی، وفات:11 جولا‎ئی 1869ء) جہانگیر آباد کے جاگیردار، اردو فارسی کے باذوق شاعر اور نقاد تھے۔ انھوں نے الطاف حسین حالی کو مرزا غالب سے متعارف کروایا تھا۔ دہلی میں ایک بہت بڑی لائبریری ان کی ملکیت تھی جسے 1857ء میں باغیوں کے لوٹا اور آگ لگا دی تھی۔ انگریزوں نے بغاوت کی شبہ میں سات سال قید سنائی لیکن ہندوستان کے نام ور عالم نواب صدیق حسن خان کی سفارش سے ان کا ”جرم“ معاف ہوگیا اور پنشن مقرر ہوئی۔

نواب مصطفی خان شیفتہ کی اولاد
۔۔۔۔۔۔۔۔
نواب مصطفی خان شیفتہ کی اولاد میں نواب اسحاق خان بیٹے اور نواب محمد اسماعیل خان پوتے تھے۔ جو 1883ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد کیمبرج یونیورسٹی انگلستان سے بار ایٹ لا کیا اور وطن واپس آ گئے۔ نواب محمد اسماعیل خان تحریک خلافت میں بھی شریک رہے اور یوپی خلافت کانفرنس کے چیف آرگنائزر کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں۔

تصانیف
۔۔۔۔۔۔
گلشنِ بے خار
تقریظ: غالب پر تعریفی تنقید

اشعار
۔۔۔۔۔
اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

اظہار عشق اس سے نہ کرنا تھا شیفتہؔ
یہ کیا کیا کہ دوست کو دشمن بنا دیا

جس لب کے غیر بوسے لیں اس لب سے شیفتہؔ
کمبخت گالیاں بھی نہیں میرے واسطے

ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

شاید اسی کا نام محبت ہے شیفتہؔ
اک آگ سی ہے سینے کے اندر لگی ہوئی

بے عذر وہ کر لیتے ہیں وعدہ یہ سمجھ کر
یہ اہل مروت ہیں تقاضا نہ کریں گے

ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں
جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے

فسانے یوں تو محبت کے سچ ہیں پر کچھ کچھ
بڑھا بھی دیتے ہیں ہم زیب داستاں کے لیے

آشفتہ خاطری وہ بلا ہے کہ شیفتہؔ
طاعت میں کچھ مزہ ہے نہ لذت گناہ میں

کس لیے لطف کی باتیں ہیں پھر
کیا کوئی اور ستم یاد آیا

دل بد خو کی کسی طرح رعونت کم ہو
چاہتا ہوں وہ صنم جس میں محبت کم ہو

اڑتی سی شیفتہؔ کی خبر کچھ سنی ہے آج
لیکن خدا کرے یہ خبر معتبر نہ ہو

شب وصل کی بھی چین سے کیونکر بسر کریں
جب یوں نگاہبانی مرغ سحر کریں

اے تاب برق تھوڑی سی تکلیف اور بھی
کچھ رہ گئے ہیں خار و خس آشیاں ہنوز

غزل
۔۔۔۔۔
مر گئے ہیں جو ہجر یار میں ہم
سخت بیتاب ہیں مزار میں ہم
تا دل کینہ ور میں پائیں جگہ
خاک ہو کر ملے غبار میں ہم
وہ تو سو بار اختیار میں آئے
پر نہیں اپنے اختیار میں ہم
کب ہوئے خار راہ غیر بھلا
کیوں کھٹکتے ہیں چشم یار میں ہم
کوئے دشمن میں ہو گئے پامال
آمد و رفت بار بار میں ہم
نعش پر تو خدا کے واسطے آ
مر گئے تیرے انتظار میں ہم
گر نہیں شیفتہؔ خیال فراق
کیوں تڑپتے ہیں وصل یار میں ہم

غزل
۔۔۔۔۔
دل لیا جس نے بے وفائی کی
رسم ہے کیا یہ دل ربائی کی
تذکرہ صلح غیر کا نہ کرو
بات اچھی نہیں لڑائی کی
تم کو اندیشۂ گرفتاری
یاں توقع نہیں رہائی کی
وصل میں کس طرح ہوں شادی مرگ
مجھ کو طاقت نہیں جدائی کی
دل نہ دینے کا ہم کو دعویٰ ہے
کس کو ہے لاف دل ربائی کی
ایک دن تیرے گھر میں آنا ہے
بخت و طالع نے گر رسائی کی
دل لگایا تو ناصحوں کو کیا
بات جو اپنے جی میں آئی کی
شیفتہؔ وہ کہ جس نے ساری عمر
دین داری و پارسائی کی
آخر کار مے پرست ہوا
شان ہے اس کی کبریائی کی