fbpx

مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

یونیورسٹی آف کیمبرج کی رہنمائی میں کی جانے والی تحقیق میں پہلی بار ایسے شواہد سامنے آئے جن کےمطابق مریخ کے جنوبی قطب میں برف کے نیچے مائع پانی موجود ہے۔

باغی ٹی وی : 2018 میں، یورپی مریخ ایکسپریس کے مدار نے پایا کہ مریخ کے جنوبی قطب کو ڈھکنے والی برف کی سطح ڈوبتی اور بڑھتی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کےنیچےمائع پانی چھپا ہوا ہےلیکن اس وقت تمام سائنسدان اس بات کے قائل نہیں تھےمریخ انتہائی ٹھنڈا ہے، اورذیلی برفانی پانی سیارے پر مائع شکل میں موجود ہونے کے لیے،حرارت کا ایک ذریعہ ہونا پڑےگا،جیسا کہ جیوتھرمل توانائی،مارس ایکسپریس کی دریافت کے وقت، کچھ سائنس دانوں کا خیال تھا کہ خلائی جہاز کےذریعے ناپے جانے والے عجیب ریڈار سگنل کی وضاحت کسی اور چیز سے ہوسکتی ہے –

سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

لیکن حال ہی میں، یونیورسٹی آف کیمبرج کےمحققین کی سربراہی میں سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نےبرف سےڈھکےہوئے علاقے، جسے الٹیمس اسکوپیلی کہا جاتا ہے، ایک مختلف تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کیں اوریہ نتیجہ اخذ کیا کہ مائع پانی کی موجودگی، درحقیقت، ممکنہ وضاحت ہے-

یونیورسٹی آف شیفیلڈ سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے مصنف ڈاکٹر فرانسس بُچر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ تحقیق مریخ پر مائع پانی کی موجودگی کے حوالے سے بہترین اشارہ دیتی ہے کیوںکہ زمین پر گلیشیئر کے نیچے موجود جھیلوں کو ڈھونڈنے کے لیے جن دو اہم اشاروں کو دیکھا جاتا ہے، وہ مریخ پر پائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اتنے ٹھنڈے درجہ حرارت میں مائع حالت میں رہنے کے لیے جنوبی قطب کے نیچے موجود پانی کو انتہائی نمکین ہونے کی ضرورت ہوگی، جس کے سبب اس میں کسی مائیکروبائل کی زندگی مشکل ہوگی۔تاہم، یہ چیزسائنس دانوں کو پُر امیدکرتی ہے کہ ماضی میں جب یہاں کا موسم کم مشکل ہوگا تو یہاں زندگی کے قابل زیادہ ماحول ہوتے ہوں گے۔

نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

کیمبرج یونیورسٹی میں جغرافیہ کے پروفیسر نیل آرنلڈ نے کہا کہ "نئے ٹوپوگرافک شواہد، ہمارے کمپیوٹر ماڈل کے نتائج، اور ریڈار ڈیٹا کا امتزاج اس بات کا بہت زیادہ امکان بناتا ہے کہ آج مریخ پر ذیلی برفانی مائع پانی کا کم از کم ایک علاقہ موجود ہے۔

بین الاقوامی تحقیقی ٹیم، جس میں فرانس کی یونیورسٹی آف نونٹ اور آئرلینڈ کی یونیورسٹی کالج ڈبلن کے محققین بھی شامل تھے، نے آئس کیپ کے اوپر کی سطح کی اسپیس کرافٹ لیزر ایلٹی میٹر پیمائشوں کا استعمال کیا۔

جس کے بعد محققین نے بتایا کہ یہ اشکال کمپیوٹر ماڈل کی ان پیش گوئیوں سے مشابہت رکھتی ہیں جن میں بتایا گیا کہ آئس کیپ کے نیچے موجود پانی کس طرح سطح کو متاثر کرتا ہے۔

مریخ کے قطبین پر زمین کی طرح پانی کے برف کی موٹی تہہ ہیں۔ جن کا کُل حجم اندازاً گرین لینڈ کی برف کی چادر کے برابر ہے۔

نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟