شہداء پنجاب پولیس

باغی ٹی وی :پاکستان خداداد مملکت ہے نظریاتی و روحانی ملک ہونے کی حیثیت سے پاکستان کی حفاظت ایک غیر مرئی طاقت کر رہی ہے اس ملک کو قلعہ اسلام ہونے کا شرف حاصل ہے جس کی بنیادیں بہت ہی گہری اور مضبوط ہیں اور اس میں بسنے والی قوم کے ارادے اتنے بلند اور ارفع ہیں کہ انجم بھی سہمے ہوئے ہیں اس کی دفاعی صلاحیتیں دن بدن کرشمہ ساز عروج کی طرف گامزن ہیں

پاکستانی قوم کے اور اس کی حفاظت کرنے والی اسیکیورٹی فورسز کے ارادے اتنے بلند ہیں کہ وہ کٹ تو سکتی ہیں لیکن جھک نہیں سکتی پاکستان کی حفاظت کے لئے افواج اور پولیس سمیت دوسری سیکیورٹی فورسز نے ہمیشہ سے اپنا اہم کردار ادا کیا جس کی کہیں کوئی مثال نہیں ملتی انہوں نے ہمیشہ اس جذبے سے دشمنوں کے ساتھ جنگ لڑی کہ اپنے پاک وطن کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں تک کی پرواہ نہیں قوم نے ان کے جذبوں اور شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا اور خراج تحسین پیش کیا یہاں لاہور کے چند شہداء کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے بڑی بہادری اور جذبے سے وطن پاکستان اور اس میں بسنے والوں کی حفاظت کے لئے لڑتے ہوئےاپنی جانیں تک قربان کر دیں ان کا نام ہمیشہ تاریخ کی سنہری حروف میں جگمگاتا رہے گا

1: کانسٹیبل محمد لطیف


پاکستان کے ایک بہادر سپاہی تھے ان کا بیچ نمبر 3713 تھا 17 نومبر 1970 کو اپنے دستے کے ساتھ گشت پر تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ چند ڈاکو سامان لُوٹ رہے ہیں کانسٹیبل محمد لطف نے دلیری سے ان ڈاکوؤں کا پیچھا کیا اور ان میں سے ایک ڈاکو کو گرفتار کر لیا لیکن اس ڈاکو کو فرار کرنے کے لئے اُس کے ساتھیوں نے کانسٹیبل محمد لطیف پر فائرنگ کر دی جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہاست کو گلے لگا لیا ان کی فیملی ایک مرحومہ بیوہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی پر مشتمل ہیں-

2: نذر علی شاہ


پولیس ڈیپارٹمنٹ میں اے ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے نذر علی شاہ 8 مارچ 1978 کو اپنے دستے کے ساتھ گشت پر تھے کہ انہوں نے اس وقت کے بدنام زمانہ مجرم آصف عرف باچا اور نذیر عرف جارد کو دیکھا انہوں نے ان مجرموں کا پیچھا کیا اور ہتھیار پھینکنے کو کہا جبکہ دوسری طرف کچھ ڈاکو سامان لُوٹ کر بھاگ رہے تھے ای ایس آئی نذر علی شاہ نے بہادری سے ان ڈاکوؤں کا پیچھا کیا اور ایک ڈاکو کو پکڑنے میں کامیاب ہو گئے لیکن دوسرے ڈاکو ساتھیوں نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں نذر علی شاہ شدید زخمی ہوگئے بعدازاں زخموں کی تاب نہ لوتے ہوئے شہید ہو گئے اپنے پیچھے سوگواران میں ایک بیوہ ایک بیٹا اور تین بیٹیاں چھوڑ گئے

 

3:محمد صدیق


پولیس میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 4519 تھا وہ اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے کہ 22 جون 1978 کی رات اپنے دستے کے ساتھ گشت کے دوران انہوں نے شیش محل ہو زری کے قریب بدنام زامنہ ڈاکوؤں کے ایک گروپ کو سامان لُوٹ کر بھاگتے ہوئے دیکھا کانسٹیبل محمد صدیق نے ان کو گرفتار کرنے کے لئے بہادری سے پیچھا کیا لیکن ڈاکوؤں نے دستی بم سے جوابی کاروائی کی جس کے نتیجے میں کانسٹیبل محمد صادیق اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئے انہوں نے قانون اور امن کی خودمختاری کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہادت کا درجہ حاصل کیا ان کی فیملی میں ایک مرحومہ بیوہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل تھے

 

4: کانسٹیبل محمد بشیر


پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 6486 تھا یہ بھی 22 جون 1978 کی رات اپنے دستے کے ساتھ گشت کے دوران انہوں نے شیش محل ہو زری کے قریب بدنام زامنہ ڈاکوؤں کے ایک گروپ کو سامان لُوٹ کر بھاگتے ہوئے دیکھا کانسٹیبل محمد صدیق نے ان کو گرفتار کرنے کے لئے بہادری سے پیچھا کیا لیکن ڈاکوؤں نے دستی بم سے جوابی کاروائی کی جس کے نتیجے میں کانسٹیبل محمد صادیق اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئے انہوں نے قانون اور امن کی خودمختاری کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہادت کا درجہ حاصل کیا اپنے پیچھے فیملی میں ایک بیٹے کو چھوڑ گئے

 

5: مہر محمد صادق


لاہور میں ڈی ایس پی کے عہدے پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے کہ 4 جون 1981 کو ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ ، ریلوے روڈ لاہور گورمنٹ کالج کے طلباء کی پیدا شدہ بگڑتی / افراتفری کی صورتحال پر قابو پانے کے لئے کہا گیا طلباء حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور فسادات شروع کر چکے تھے جس کی وجہ سے سرکاری املاک / عمارتوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا۔ڈی ایس پی مہر محمد صادق نے طالب علم رہنما ء سے جر تمندانہ طور پر بات چیت کی اور ان سے درخواست کی تاکہ کسی بھی خطرناک صورتحال سے بچا جاسکے لیکن چند وینڈلز اور بدمعاشوں نے ان پر پتھر برسانا شروع کر دئیے جس کی وجہ سے ان کے سر میں شدید چوٹیں آئیں اور بعد میں ان کی موت ہوگئی وہ ایک محنتی اور ایمندار سخت افسر تھے انہوں بڑی بہادری سے شہادت کو قبول کیا اور اپنے پیچھے سوگواران میں 4 بیٹے اور ایک بیٹی کو چھوڑ گئے

 

6: لیاقت علی


پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 5816 تھا کانسٹیبل لیاقت علی اپنے دفتر میں کرائم ڈائری تیار کر رہے تھے کہ پی ایس باغبان پورہ کی بیرونی دیوار پر کچھ نامعلوم دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے اچانک خوف و ہراس پھیل گیا۔ اگرچہ اس وقت بہادر پولیس اسٹاف نے ان کی کوشش ناکام بنا دی تھی لیکن اس دوران کانسٹیبل لیاقت علی کو گولی لگنے سے شدید چوٹیں آئیں اور بعد میں شہادت کو گلے لگا لیا۔ انہوں نے اپنے پیچھے ایک بیوہ کو چھوڑا-

 

7:محمد ادریس


پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ایس آئی کے عہدے پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے ان کا بیچ نمبر 445/L تھا 17 دسمبر 1985 کو ، ضلع شیخوپورہ کے نواحی گائوں فیض پور خورد میں ایک پولیس مجرم اور خطرناک قاتل ، جو نوری کے نام سے جانا جاتا تھا ، کی موجودگی کے بارے میں ایک اطلاع موصول ہوئی۔ ڈی ایس پی رئیس احمد کی نگرانی میں ایس آئی محمد ادریس نے اس مکان کا گھیراؤ کیا جس میں نوری نے پناہ لی تھی۔ اسی اثناء میں گاؤں والوں کے بھیس میں نوری کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی۔ اپنے علاقے میں بھاری مسلح مجرموں کے ساتھ آدھے گھنٹے کے طویل مقابلے کے بعد ایس آئی محمد ادریس کو شدید گولی لگ گئی اور بعدازاں انہوں نے شہادت کو گلے لگا لیا جبکہ مجرم خوفناک انداز میں اپنے ایک ساتھی کی لاش چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ تاہم ، پولیس نوری اور اس کے گروہ کی پیروی کرتی رہی اور ایک اور مقابلے کے دوران اسے ہلاک کردیا۔ ایس آئی محمد ادریس نے اپنی جان کی قربانی دے کر ر بہادری کی ایک عمدہ مثال قائم کی۔ انہوں نے اپنے پیچھے سوگواران میں ایک بیوہ اور ایک بیٹی کو چھوڑا-

 

8: رئیس احمد خان


ڈی ایس پی کے عہدے پر لاہور میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے تھے کہ 17 دسمبر1985 کو ، شیخوپورہ ضلع کے نواحی گائوں فیض پور خورد میں ایک پولیس مجرم اور خطرناک قاتل ، جو نوری کے نام سے جانا جاتا تھا ، کی موجودگی کے بارے میں ایک اطلاع موصول ہوئی۔ ڈی ایس پی رئیس احمد ایک نمایاں افسر تھے انہوں نے اس مکان کا گھیراؤ جس میں نوری نے پناہ لی تھی۔ اسی اثناء میں گاؤں والوں کے بھیس میں نوری کے ساتھیوں نے ڈی ایس پی رئیس احمد اوران کے پولیس دستے پر فائرنگ کردی۔ ان کے مابین تقریبا آدھے گھنٹے کا سخت مقابلہ ہوا، ، جبکہ مجرم بزدلی سے اپنے ایک ساتھی کی لاش چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ اس کے تعاقب میں ، ڈی ایس پی رئیس احمد شدید زخمی ہوگئے اور بعدازاں شہادت کو گلے لگا لیا تاہم ، پولیس نوری اور اس کے گروہ کی پیروی کرتی رہی اور ایک اور مقابلے کے دوران اسے ہلاک کردیا۔ ڈی ایس پی رئیس احمد خان اپنے پیچھے سوگواران میں دو بیٹے ایک بیٹی اور ایک بیوہ چھوڑ گئے-

 

9:اکرام اللہ نیازی


ڈی ایس پی کے عہدے پر فائز تھے اور لاہور میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے کہ 17 دسمبر 1985 کو ، شیخوپورہ ضلع کے نواحی گائوں فیض پور خورد میں ایک پولیس مجرم اور خطرناک قاتل ، جو فاری کے نام سے جانا جاتا تھا ، کی موجودگی کے بارے میں ایک اطلاع موصول ہوئی۔ ڈی ایس پی اکرام اللہ نے گھر کو گھیرے میں لیا جس میں فا ری نے پناہ لی تھی۔ اتنے میں گاؤں والوں کے بھیس میں فری کے ساتھیوں نے اچانک ڈی ایس پی اکرام اللہ اور پولیس دستے پر فائرنگ کردی۔ آدھے گھنٹے کے طویل عرصے کے بھاری مقابلے میں ڈی ایس پی اکرام اللہ شدید زخمی ہوگئے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لوتے ہوئے شہید ہو گئےجبکہ مجرمان خوفناک انداز میں اپنے ایک ساتھی کی لاش چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ تاہم ، پولیس فا ری اور اس کے گروہ کا پیچھا کرتی رہی اور ایک اور مقابلے میں اسے ہلاک کردیا گیا۔ ڈی ایس پی اکرام اللہ نیازی اپنے پیچھے سوگواران میں 6 بیٹیاں اور ایک بیوہ چھوڑ گئے-

 

10: محمد انور


ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر125/L تھا 20 اپریل 1986 کو ، انہیں بدنام زمانہ مجرم نورا کشمیری کو معزز عدالت کے روبرو پیش کرنے کو کہا اور کیس کی سماعت کے بعد وہ اسے جیل حکام کے حوالے کرنے کے لئے پولیس جیل کی وین پر واپس لا رہے تھے۔کہ جب وہ کوٹ لکھپت اسٹیشن کے ریلوے پھاٹک کے قریب پہنچے تو نورا کشمیری کے ساتھیوں نے اسے آزاد کرنے کے لئے پولیس جیل وین پر فائرنگ شروع کردی۔ ایس آئی محمد انور فائرنگ کرنے والوں کے سامنے لوہے کی دیوار کی طرح کھڑے ہوئے اور ہمت سے جوابی کارروائی کی اور انہیں اپنے مشن میں ناکام کردیا۔اور قانون اور امن کی خودمختاری کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہادت کا درجہ حاصل کیا اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ 3 بیٹے اور 3 بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

11:محمد اکرام


لاہور میں ایس آئی کے عہدے پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے بیچ نمبر 17/L میں شامل تھے 14 جون 1986 کو ، عمر بلاک وحدت کالونی ، لاہور میں پولیس مجرم اور خطرناک قاتل ، زاہد شبیر کی موجودگی سے متعلق اطلاع موصول ہوئی۔ ایس آئی محمد اکرم نے اس گھر کو گھیرے میں لیا جس میں ملزم قاتل نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نے پناہ لی تھی۔ ایس آئی محمد اکرم نے انہیں ہتھیار ڈالنے کو کہا لیکن انہوں نے گھر کی چھت سے پولیس پر فائرنگ کردی۔ ایک گھنٹہ طویل فائرنگ کے تبادلے کے بعد وہ خطرناک مجرم پکڑے گئے لیکن اس دوران ایس آئی محمد اکرم کو گولی لگی اور شدید چوٹیں آئیں جن کی تاب نہ لاتے ہوئے اور بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت کو گلے لگا لیا۔اپنے پیچھے فیملی میں ایک بیٹا دو بیٹیاں اور ایک بیوہ چھوڑ گئے-

 

12: محمد یوسف


ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 406/L تھا انہیں 09 اکتوبر 1986 کو شاہدرہ ٹاؤن ، لاہور کے ایک بدنام زمانہ مکان میں مجرمان اکرم عرف اکو اور اکبر کی موجودگی سے متعلق اطلاع موصول ہوئی۔ ایس آئی محمد یوسف نے پولیس ٹیم پر مشتمل گھر پر چھاپہ مارا جس میں خطرناک مجرم اپنے ساتھیوں کے ساتھ جسمانی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ پولیس ٹیم کی موجودگی کا خیال کرتے ہوشیار مجرموں نے دو طوائفوں کو گھر کے باہر بھیجا جنہوں نے رونا شروع کردیا۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی اور ایس آئی محمد یوسف کو نشانہ بنایا۔ نتیجتاً ایس آئی محمد یوسف بلا مقابلہ ہمت کے ساتھ اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے مقابلے کے دوران ایس آئی محمد یوسف کو گولی لگی موقع پر ہی دم توڑ گئے اور شہید کا اعزا حاصل کیا اور اپنے پیچھے سوگواران میں 3 بیٹے 1 بیوہ اور 1 بیٹی چھوڑ گئے-

 

13: اصغر علی


لاہور میں کانسٹیبل کے عہدے پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے ان کا بیچ نمبر 5635 تھا-07 نومبر 1986 کو کانسٹیبل اصغر وہ غیر قانونی اسلحہ کے ساتھ ایک نامعلوم خطرناک مجرم کو اپنے قبضے میں گرفتار کرنے کی ایک خصوصی ڈیوٹی پر تھے انہوں اپنی محکمانہ صلاحیت ذہانت اور ہوشیاری کو استعمال کرتے ہوئے اس نامعلوم مجرم کی حیثیت کا پتہ چلایا اور اس کی گرفتاری کے دوران اس سفاک مجرم نے ایک گولی چلائی جو کانسٹیبل لیاقت علی کے دل کے پار گذر گئی اور انہوں نے موقع پر ہی شہادت کو گلے لگا لیا – کانسٹیبل اصغر علی اپنے پیچھے سوگواران میں ایک بیوہ اور تین بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

14: حمید اللہ


ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 209/L تھا 10 دسمبر 1986 کو پنجاب کے جنوبی ضلع ملتان کے دیہی علاقے میں عدالتی مجرموں کی موجودگی کے بارے میں ایک اطلاع موصول ہوئی۔ یہ مجرم پولیس کو قتل ، ڈکیتی ، ڈکیتی اور عصمت دری کے متعدد معاملات میں مطلوب تھے ایس آئی حمید احمد نے اپنے سینئر افسران سے اس وحشی غنڈوں پر چھاپہ مارنے کے لئے پولیس کی ایک ٹیم پر مشتمل دستے کی اجازت طلب کی لیکن بدقسمتی سے مخبر کو ان کالعدم مجرموں نے پکڑلیا اور انہوں نے فوری طور پر اپنے ٹھکانہ چھوڑ کر کسی دوسری جگہ پناہ لے لی اس پوری صورتحال سے بے خبر ، ایس آئی حمید احمد نے ان پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا لیکن دشمن نے ان کی پشت پر بری طرح سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایس آئی حمید احمد جرات مندانہ گروہ کے خلاف بلا خوف و عزم جدوجہد کرتے ہوئےشدید زخمی ہو گئے اورشہادت کو موقع پر ہی گلے لگا لیا اپنے پیچھے سوگواران میں 2 بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑ گئے-

 

15:محمد یوسف


پولیس محمکے میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 1754 تھا یکم اپریل 1988 کو کانسٹیبل محمد یوسف فرار اور چھپے ہوئے خطرناک مجرموں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے خصوصی ڈیوٹی پر تھے۔ وہ ایک ہنرمند ذہین اور ہوشیار پولیس آفیسر تھے اسی لئے انہیں اتنا خاص اور سخت ٹاسک دیا گیا۔ وہ اپنا کام پورا کرنے ہی والے تھے کہ ان میں سے کچھ نامعلوم پوشیدہ مجرموں ، جن کا وہ سراغ لگا رہا تھے ، نے انہیں گولی مار دی۔ چنانچہ کانسٹیبل محمد یوسف شہید ہو گئے اور اپنے سوگواران میں پیچھے دو بیوائیں 1 بیٹا اور 6 بیٹیاں چھوڑیں-

 

16:محتاط احمد


پولیس محکمے میں ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 305/L تھا 5 اگست 1988 کو اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے 1 بیٹا 5 بیٹیاں اور 1 بیوہ چھوڑ گئے-

 

17:وزیر علی


کانسٹیبل کے عہدے پر اپنے فرائض سارانجام دے رہے تھے ان کا بیچ نمبر 7900 تھا 05 اگست 1988کو ، بند روڈ لاہور کے قریب پولٹری فارم میں پولیس مجرم اور خطرناک قاتل ، بابر بٹ کے ساتھ شاہد اور دیگر افراد کی موجودگی سے متعلق پولیس کو اطلاع موصول ہوئی۔ کانسٹیبل وزیر علی اس ٹیم کا رکن تھا جس نے فارم کو گھیرے میں لیا تھا جس میں مجرموں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پناہ لے رکھی تھی۔ جب پولیس ان مجرموں تک پہنچی توانہوں نے فوری طور پرپولیس فائرنگ کردی اور قریبی کھیتوں کی طرف بھاگ نکلے۔ پولیس نے بھی جوابی کارروائی کی اور مجرموں کے ایک ساتھی کو پکڑ لیا۔ لیکن فائر ایکسچینج کے دوران کانسٹیبل وزیر علی کو گولیوں کے شدید زخم آئے جس کی وجہ سے اوہ شہید ہوگئے لیکن اپنی جان کی قربانی دے کر بہادری کی ایک عمدہ مثال قائم کردی اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ 3 بیٹے اور 2 بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

18:شاہد پرویز


پولیس محکمے میں ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 707/L تھا 25 جنوری 1988کو ، نشتر پارک کے قریب فیروز پور روڈ پر اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے ، ایس آئی شاہد پرویزنے احمد رضا کے ہمراہ شہزاد عرف مون کے ذریعہ موٹرسائیکل ڈرائیور کو غیر یقینی طور پر روکنے کا عندیہ دیا جس نے قانون کی پیروی کرنے کی بجائے ایس آئی شاہد پرویز پر فائرنگ کردی اور ایک اور شہری کو مارتے ہوئے فرار ہوگیا۔ گولی کے زخم ایس آئی شاہد پرویز کے لئے مہلک ثابت ہوئے کیونکہ گولی ا ن کے اوپری سینے سے گزر کر دل کو چھو کر گزری تھی۔ تاہم ، اس گولی نے ایس آئی شاہد پرویز کو شہید کا مقدس درجہ بھی تحفہ میں دیا تھا۔ایس آئی شاہد پرویز اپنے پیچھے فیملی میں 1 بیوہ 2 بیٹیاں اور 2 بیٹے چھوڑ گئے-

 

19:محمد منشاء


کانسٹیبل کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دے رہا تھا ان کا بیچ نمبر 8166 تھا 15اکتوبر 1989 کو ، مانگا منڈی کے دیہی علاقے کے قریب ایک مکان میں پولیس مجرم اور خطرناک قاتل اسحاق اور جان کے ساتھ دیگر افراد کی موجودگی کے بارے میں معلومات موصول ہوئی تھیں۔ کانسٹیبل محمد منشا اس گھر کا گھیراؤ کرنے والی ٹیم کا رکن تھا جس میں مجرموں نے اپنے ساتھ اپنےساتھیوں کو بھی پناہ دے رکھی تھی۔ بدنیتی پر مبنی مجرموں نے پولیس پر فوری طور پر فائرنگ کردی اور قریبی کھیتوں کی طرف فرار ہوگئے۔ پولیس نے بھی جوابی کارروائی کی اور مجرموں کے ایک ساتھی کو پکڑ لیا۔ لیکن فائر ایکسچینج کے دوران کانسٹیبل محمد منشا کو گولیاں لگیں جس کی وجہ سے وہ زخموں کی تاب نہ لوتے ہوئےشہید ہو گئے لیکن اپنی جان کی قربانی دے کر شجاعت اور بہادری کی ایک عمدہ مثال قائم کردی۔محمد منشاء اپنے پیچھے فیملی میں ایک بیوہ ایک بیٹی اور ایک بیٹ چھوڑ گئے-

 

20: حاکم علی


کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے اور ان کا بیچ نمبر 2763 تھا 3 دسمبر1989 کو ، حاکم علی کو محمد علی ، مقصود اور پرویز نامی خطرناک مجرموں کے بارے میں معلومات اور گرفتاری حاصل کرنے کے لئے مقرر کیا گیا۔ ایک بس اسٹاپ پر انہوں نے ان خطرناک مجرموں کو معصوم مسافروں کو لوٹتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے ہمت سے مجرموں کو روکنے کی کوشش کی اور محمد علی کو پکڑ لیا۔ محمد علی کے ساتھی فرار ہونے سے قاصر ہونے پر کانسٹیبل حکیم علی پر فائرنگ کردی۔ جوابی کاروائی کے دوران کانسٹیبل حکیم علی کوگولیاں لگیں جو کہ جان لیوا ثابت ہوئیں اور حاکم علی ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شیہد ہو گئے لیکن اپنی جان کی قربانی دے کر شجاعت اور بہادری کی ایک عمدہ مثال قائم کردی۔حاکم علی اپنے پیچھے فیملی میں 1 بیوہ 3 بیٹے اور 2 بیٹیاں چھوڑ گئے-

باغی ٹی وی :پاکستان خداداد مملکت ہے نظریاتی و روحانی ملک ہونے کی حیثیت سے پاکستان کی حفاظت ایک غیر مرئی طاقت کر رہی ہے اس ملک کو قلعہ اسلام ہونے کا شرف حاصل ہے جس کی بنیادیں بہت ہی گہری اور مضبوط ہیں اور اس میں بسنے والی قوم کے ارادے اتنے بلند اور ارفع ہیں کہ انجم بھی سہمے ہوئے ہیں اس کی دفاعی صلاحیتیں دن بدن کرشمہ ساز عروج کی طرف گامزن ہیں

پاکستانی قوم کے اور اس کی حفاظت کرنے والی اسیکیورٹی فورسز کے ارادے اتنے بلند ہیں کہ وہ کٹ تو سکتی ہیں لیکن جھک نہیں سکتی پاکستان کی حفاظت کے لئے افواج اور پولیس سمیت دوسری سیکیورٹی فورسز نے ہمیشہ سے اپنا اہم کردار ادا کیا جس کی کہیں کوئی مثال نہیں ملتی انہوں نے ہمیشہ اس جذبے سے دشمنوں کے ساتھ جنگ لڑی کہ اپنے پاک وطن کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں تک کی پرواہ نہیں قوم نے ان کے جذبوں اور شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا اور خراج تحسین پیش کیا یہاں لاہور کے چند شہداء کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے بڑی بہادری اور جذبے سے وطن پاکستان اور اس میں بسنے والوں کی حفاظت کے لئے لڑتے ہوئےاپنی جانیں تک قربان کر دیں ان کا نام ہمیشہ تاریخ کی سنہری حروف میں جگمگاتا رہے گا-

 

21:منیر احمد

پولیس محکمے میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر5618 تھا کانسٹیبل منیر احمد 22 مئی 1990 کو جب علاقے میں گشت کر رہے تھے تو ، زیورات کی دکان پر جاری ڈاکوؤں کی واردات کے بارے میں اطلاع موصول ہوئی۔ وہ دیگر افراد کے ہمراہ فوری طور پر مقام پرپہنچے لیکن بھاری تعداد میں مسلح ڈاکوؤں نے پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ اور ہوشیاری سے فرار ہو گئے جبکہ اس دوران کانسٹیبل منیر احمد شدید زخمی ہوگئے اور بعدازاں زخموں کی تاب نہ لاتےہوئے شیہد ہو گئے کانسٹیبل منیر احمد اپنے پیچھے سوگواران میں ایک بیوہ 3 بیٹے اور 2 بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

22:عبد الحمید

پولیس محکمے میں ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 654/L تھا 24 اگست 1990 کو اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں5 بیٹے 3 بیٹیاں اور 1 بیوہ چھوڑ گئے-

 

23: بلال

اے ایس آئی کے عہدے پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے ان کا بیچ نمبر 4992 تھا پولیس کو 12 جولائی 1990 کو کینٹ کے علاقے کے ایک مکان میں دو عدالتی اور پولیس مجرموں اطہر (گوجی) اور مظہر (تابی) کی موجودگی سے متعلق اطلاع موصول ہوئی۔ یہ مجرم وحشیانہ قتل ، ڈکیتی ، اور عصمت دری کے گھناؤنے جرائم کے مقدمات میں مطلوب تھے۔ اے ایس آئی بلال احمد کے ساتھ پولیس ٹیم نے مذکورہ مکان پر فائرنگ کی۔ مجرم چالاک تھے اور محفوظ پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے پولیس پر فائرنگ کردی۔ کراس فائرنگ میں اے ایس آئی بلال احمد نے بہادری سے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے شہید ہو گئے اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ 3 بیٹے اور 3 بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

24: مختار احمد

پولئس محکمے میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر5090 تھا 19 جولائی 1990 کو جب وہ اپنی ٹیم کے ساتھ گشت کر ریے تھے تو ڈاکوؤں کی جاری واردات سے متعلق اطلاع موصول ہوئی۔ مختاراحمد دیگر افراد کے ہمراہ فوراً واردات کے مقام پرپہنچے لیکن بھاری تعداد میں مسلح ڈاکوؤں نے پولیس پر فائرنگ کردی۔ جوابی فائرنگ کرتے ہوئے ڈاکو ہو شیاری سے بھاگ گئے لیکن اس دوران کانسٹیبل مختار احمد شدید زخمی ہوگئے اور بعدازاں شہید ہو گئے- کانسٹیبل مختار احمد اپنے پیچھے سوگواران میں ایک بیوہ 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

25: لیاقت علی

کانسٹیبل کے عہدے پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے ان کا بیچ نمبر 8129 تھا 8 اگست 1990 کو ، خطرناک مجرموں کے بارے میں معلومات اور گرفتاری حاصل کرنے کے لئے انھیں مقررکیا گیا۔ کانسٹیبل لیاقت علی نے ایک مجرم کو ہاتھ میں بندوق پکڑے جاتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے بہادری سے اُسے روکا لیکن اس مجرم نے ان پر فائرنگ کردی۔ چنانچہ وہ گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے لیکن اپنی جان کی قربانی دے کر شجاعت اور بہادری کی ایک عمدہ مثال قائم کردی۔ کانسٹیبل لیاقت علی اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ 4 بیٹیاں اور 5 بیٹے چھوڑ گئے-

 

26: ظفرالبینا

کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 3371 تھا 3 اکتوبر 1990 کو ، کانسٹیبل ظفر کوخطرناک مجرموں کے بارے میں معلومات اور گرفتاری حاصل کرنے کے لئے معزول کیا گیا۔ انہوں نے مجرموں کو پولیس کی نظر سے بھاگتے ہوئے دیکھا۔ کانسٹیبل ظفر البینا نے بہادری سے انہیں روکا لیکن ان مجرموں نے ان پر فائرنگ کردی۔ چنانچہ گولی لگنے سے جان کی بازی ہار گئے اور شہادت کا رتبہ حاصل کر لیا لیکن اپنی جان کی قربانی دے کر شجاعت اور بہادری کی ایک عمدہ مثال قائم کردی اور اپنے پیچھے سوگواران میں 5 بیٹے اور 3 بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

27: محمد اسلم

کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 4516 تھا 20 نومبر 1990 کو ، وہ خطرناک مجرموں کی معلومات اور گرفتاری حاصل کرنے کے لئے اپنی ڈیوٹی پر تھے کہ اس دوران اپنی سرکاری ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے حادثے کا شکار ہوگئے جس میں وہ جانبر نہ ہو سکے اور شہادت کو گلے لگا لیا شہادت کے وقت محمد اسلم نے اپنی پیچھے سوگواران میں ایک پانچ سال کی بیٹی اور ایک سال کا بیٹا چھوڑا۔

 

28: بشیر حسین

پولیس محمکے میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 2281 تھا 14 اپریل 1989 کو ، انھیں معلومات حاصل کرنے اور خطرناک مجرموں کی گرفتاری کے لئے معزول کیا گیا۔ اپنی ڈیوٹی کے دوران انہوں دیکھا ایک مجرم ہاتھ میں بندوق لے کر چل رہا ہے۔ کانسٹیبل بشیر حسین نے جرات سے مجرم کو روکا لیکن اس مجرم نے ان پر فائرنگ کردی۔ اس کے نتیجے میں ، وہ شدید زخمی ہوگئے اور انھیں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اس نے 2 دسمبر 1990 کو 18 ماہ تک زیر علاج رہنے کے بعد شہادت کو گلے لگا لیا اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیٹا 1 بیٹی اور 1 بیوہ چھوڑ گئے-

 

29: محمد ریاض

کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 620/L تھا 27 جنوری 1991 کو ، جب ایس آئی میاں ریاض احمد اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے ہوئے موٹر سائیکل پر گشت کر رہے تھے ، انہوں چیک پوسٹ کے علاقے میں جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے موٹرسائیکل پر سوار دو ملزمان کو دیکھا۔ اس نے ان کا پیچھا کرنا شروع کیا لیکن مجرموں نے چالاکی کے ساتھ ایک تنگ اور تاریک گلی میں اپنا راستہ بدلا اور کانسٹیبل محمد ریاض پر فائرنگ کردی نتیجتاً موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ محمد ریاض نے اپنے پیچھے سوگواران میں ایک بھائی کو چھوڑا-

 

30: محمد مصدق حسین

پولیس محکمے میں ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 48/L تھا 12 فروری 1991 کو تاج سنیما میں نصب بم کے حوالے سے ایک اطلاع موصول ہوئی۔ محمد مصدق فوراً ہی موقع پر پہنچے اور سنیما کی عمارت کو خالی کرا لیا۔ اس دوران انہوں نے خود بھی کوشش کی کہ اس لگے ہوئے آلے کو لوگوں کے ہجوم سے دور رکھیں تاکہ بہت ساری معصوم جانیں محفوظ رہیں۔ جب وہ اس تباہ کن آلے کو لوگوں سے دوسری طرف لے جارہا تھت تو اچانک پھٹ گیا اور اس کے نتیجے میں ایس آئی مصدق حسین شہید ہوگئے اور اپنے پیچھے 1 بیوہ اور دو بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

31: سعید احمد
 پولیس محکمے میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھت ان کا بیچ نمبر 1477 تھا 22 فروری 1991 کو وہ میکلیورڈ روڈ لاہور پر اپنی ڈیوٹی پر تھے کہ کچھ نامعلوم مجرموں نے مسافر وین کو لوٹنے کی کوشش کی۔ انہوں نے وین کو روکا اور ڈکیتی کی کوشش ناکام بنا دی۔ کانسٹیبل سعید احمد پر فائرنگ کے دوران ڈاکو فرار ہوگئے۔ سعید احمد شدید زخمی ہو گئے انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں انہوں نے بہت سی انسانی جانوں اور املاک کو بچاتے ہوئے شہادت کو گلے لگا لیا اپنے پیچھے سوگواران میں 4 بیٹے اور 3 بیٹیاں چھوڑیں-

 

32: محمد خان

بطور کانسٹیبل اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے ان کا بیچ نمبر 3854 تھا 3 مئی 1991 کو پولیس کو گاڑیاں چھیننے والے گروہ کی موجودگی سے متعلق اطلاع موصول ہوئی جس نے بے گناہ شہریوں کی پانچ گاڑیاں چھین لیں۔ کانسٹیبل محمد خان پولیس ٹیم کے ساتھ مطلوبہ مقام پر فائرنگ کی۔مجرموں نے پولیس پر جوابی فائرنگ کی ۔ ان میں سے تین مجرموں کو پولیس نے گرفتار کر لیا لیکن فائر تبادلے کے دوران محمد خان شہید ہو گئے شہید کانسٹیبل محمد خان نے اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ دو بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑگئے-

 

33: تجمل حسین

ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 591/L تھا 3 مئی 1991 کو پولیس کو گاڑیاں چھیننے والے گروہ کی موجودگی سے متعلق اطلاع موصول ہوئی جس نے بے گناہ شہریوں کی پانچ گاڑیاں چھین لیں۔ ایس آئی تجمل حسین پولیس ٹیم کے ساتھ مطلوبہ مقام پر فائرنگ کی۔مجرموں نے پولیس پر جوابی فائرنگ کی ۔ ان میں سے تین مجرموں کو پولیس نے گرفتار کر لیا لیکن فائر تبادلے کے دوران تجمل حسین شہید ہو گئے شہید ایس آئی تجمل حسین نے اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ پانچ بیٹے اور 1 بیٹی چھوڑگئے-

 

34: ثمر رضا

پولیس محکمے میں بطور ایس آئی اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے ان کا بیچ نبمر 49/L تھا 29 جون 1991 کو ایس آئی ثمر رضآ مین روڈ پر گشت کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جب انہیں دو نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کے بارے میں اطلاع موصول ہوئی جو گن پوائنٹ پر بے گناہ شہریوں کو لُوٹ رہےتھے۔ ایس آئی ثمر رضا فوراً ہی موقع پر پہنچے وہ موٹرسائیکل سوار مجرموں نے پولیس پر فائرنگ کی اور بھاگ گئے اس دوران ایس آئی ثمر رضا گولی لگنے سے شہید ہو گئے لیکن مجرموں کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ شہید ایس آئی ثمر رضا اپنے پیچھے سوگواران میں والدہ کو چھوڑ گئے-

 

35: شفقت خان

کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 144 تھا 26 جولائی 1991 کو نیازی شہید چوک شاہدرہ پر اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے اس نے ایک نامعلوم مجرم کو موٹرسائیکل کو خطرناک حد تک چلانے سے روکنے کا اشارہ کیا نامعلوم مجرم نے قانون کی پیروی کرنے کی بجائے کانسٹیبل شفقت خان پر فائرنگ کردی فرار ہوگیا۔ اس مجرم کی فائرنگ کے بدلے میں ایک شہری مارا گیا اور کانسٹیبل شفقت خان کو بھی گولی لگی جو مہلک ثابت ہوئی انہوں نے اسپتال میں دم توڑ دیا اور شہادت کا مرتبہ حاصل کر لیا کانسٹیبل شفقت خان اپنے پیچھے سوگواران میں والد اور والدہ کو چھوڑ گئے-

 

36: نیاز احمد

پولیس محکمے میں کانسٹیبل کے فرائض سرانجام دے رہے تھے ان کا بیچ نمبر 7749 تھا 28 جولائی 1991 کو نیاز احمد بینک کیش وین کے ساتھ گن مین کی حیثیت سے ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے تو اکبری گیٹ لاہور کے قریب کچھ بھاری ہتھیاروں سے مسلح ڈاکوؤں نے بینک کیش وین کو لوٹنے کی کوشش کی۔ کانسٹیبل نیاز احمد نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر ڈاکوؤں پر فائرنگ کردی اور ڈکیتی کی کوشش کوناکام بنادیا۔ جواباً ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کردی۔ جس کے نتیجے میں کانسٹیبل نیاز احمد موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ اپنے پیچھے 1 بیوہ 2 بیٹے اور 1 بیٹی کو چھوڑ گئے-

 

37: افتخار احمد

پولیس محکمے میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 753 تھا 28 جولائی 1991 کو بینک کیش وین کے ساتھ گن مین کی حیثیت سے ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھھے تو اکبری گیٹ لاہور کے قریب کچھ بھاری ہتھیاروں سے مسلح ڈاکوؤں نے بینک کیش وین کو لوٹنے کی کوشش کی۔ کانسٹیبل افتخار احمد نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر ڈاکوؤں پر فائرنگ کردی اور ڈکیتی کی ان کی کوشش کو بیکار بنا دیا۔ جواباً ڈاکوؤں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ جس کے نتیجے میں کانسٹیبل افتخار احمد موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ شہید اپنے پیچھے سوگواران میں والد کو چھوڑ گئے-

 

38: منیر احمد

بھی کانسٹیبل کی حیثیت سے اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے ان کا بیچ نمبر 8068 تھا کانسٹیبل منیر احمد 10 نومبر 1991 کوبند روڈ کے قریب پٹرول پمپ پر گن مین کی حیثیت سے ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے تو کچھ بھاری ہتھیاروں سے مسلح ڈاکوؤں نے پٹرول پمپ کے کیش کاؤنٹر کو لوٹنے کی کوشش کی۔ کانسٹیبل منیر احمد نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ڈاکوؤں پر فائرنگ کردی اور جرات کے ساتھ ان کی ڈکیتی کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ جواباً ڈاکوؤں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ جس کے نتیجے میں موقع پر ہی شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ اور دو بیٹے چھوڑ گئے-

 

39: محمد افضل

کانسٹیبل کی حیثیت سے ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے ان کا بیچ نمبر 169 تھا 13 مئی 1992 کو جب وہ اپنے دستے کے ہمراہ علاقے میں گشت کر رہے تھے تو شاہ جمال کے قریب ڈاکوؤں سے متعلق جاری واردات کی اطلاع موصول ہوئی۔ وہ کانسٹیبل زاہد مراد کے ہمراہ فوراً ہی اس مقام پر پہنچے لیکن بھاری ہتھیاروں سے مسلح ڈاکوؤں نے ان پر فائرنگ کردی اور فرار ہو گئے جبکہ کانسٹیبل محمد افضل شدید زخمی ہوگئے اور بعد ازاں شہید ہو گئے اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بھائی کو چھوڑ گئے-

 

40: زاہد مراد

بھی کانسٹیبل کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے تھے ان کا بیچ نمبر 11612 تھا 13 مئی 1992 کو جب وہ اپنے دستے کے ہمراہ علاقے میں گشت کر رہے تھے تو شاہ جمال کے قریب ڈاکوؤں سے متعلق جاری واردات کی اطلاع موصول ہوئی۔ وہ کانسٹیبل محمد افضل کے ہمراہ فوراً ہی اس مقام پر پہنچے لیکن بھاری ہتھیاروں سے مسلح ڈاکوؤں نے ان پر فائرنگ کردی اور فرار ہو گئے جبکہ کانسٹیبل زاہد شدید زخمی ہوگئے اور بعد ازاں شہید ہو گئے اپنے پیچھے سوگواران میں والدہ کو چھوڑ گئے-

 

باغی ٹی وی :پاکستان خداداد مملکت ہے نظریاتی و روحانی ملک ہونے کی حیثیت سے پاکستان کی حفاظت ایک غیر مرئی طاقت کر رہی ہے اس ملک کو قلعہ اسلام ہونے کا شرف حاصل ہے جس کی بنیادیں بہت ہی گہری اور مضبوط ہیں اور اس میں بسنے والی قوم کے ارادے اتنے بلند اور ارفع ہیں کہ انجم بھی سہمے ہوئے ہیں اس کی دفاعی صلاحیتیں دن بدن کرشمہ ساز عروج کی طرف گامزن ہیں

پاکستانی قوم کے اور اس کی حفاظت کرنے والی اسیکیورٹی فورسز کے ارادے اتنے بلند ہیں کہ وہ کٹ تو سکتی ہیں لیکن جھک نہیں سکتی پاکستان کی حفاظت کے لئے افواج اور پولیس سمیت دوسری سیکیورٹی فورسز نے ہمیشہ سے اپنا اہم کردار ادا کیا جس کی کہیں کوئی مثال نہیں ملتی انہوں نے ہمیشہ اس جذبے سے دشمنوں کے ساتھ جنگ لڑی کہ اپنے پاک وطن کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں تک کی پرواہ نہیں قوم نے ان کے جذبوں اور شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا اور خراج تحسین پیش کیا یہاں لاہور کے چند شہداء کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے بڑی بہادری اور جذبے سے وطن پاکستان اور اس میں بسنے والوں کی حفاظت کے لئے لڑتے ہوئےاپنی جانیں تک قربان کر دیں ان کا نام ہمیشہ تاریخ کی سنہری حروف میں جگمگاتا رہے گا-

 

41: چاند خان
Police

پولیس محکمے میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 5828 تھا 23 فروری 1993 کو چاند خان اپنےعلاقے میں پٹرولنگ ڈیوٹی پر تھا تو ، رانا عبدالوحید کے ڈیرے پر پولیس کو مطلوب خطرناک مجرم تاج محمد ، پٹھان ، مجاہدی ، جاوید اشفاق وغیرہ کی موجودگی کے بارے میں اطلاع موصول ہوئی۔ پولیس کی ٹیم نے مذکورہ مقام پر چھاپہ مارا۔ کانسٹیبل چاند خان بھی ٹیم کے ممبر تھے۔ خطرناک مجرموں سے مقابلے کے دوران کانسٹیبل چاند خان بہادری بہادری سے لڑے لیکن وہ شدید زخمی ہوگئے بعد ازاں زخموں کی تراب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے اپنے پیچھے سوگواران میں 5 بیٹے اور 2 بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

42: شاہنواز خان
Police

پولیس محکمے میں اے ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 157 تھا کہ 28 فروری 1193 کو انھیں خصوصی ڈیوٹی کے لئے بھیجا گیا تاکہ وہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طلباء حکومت کیخلاف سراپا احتجاج کر رہے تھے اور فسادات شروع کردیئے تھے جس کی وجہ سے دوسرے شہریوں اور سرکاری املاک / عمارتوں کو خطرہ تھا اس صورتحال کو کنٹرول کریں ۔ اے ایس آئی شاہنواز خان نے کسی کشیدہ صورتحال سے بچنے کی کوشش کی لیکن چند لوگوں نے فائرنگ کردی۔ جس کے نتیجے میں ، اے ایس آئی شاپنواز خان کو گولی لگنے سے شدید چوٹیں آئیں اور بعدازاں شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 3 بیٹے اور 2 بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

43: اسد سبتین
Police

پولیس محکمے میں کانسٹیبل کے عہدے پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے ان کا بیچ نمبر 9483 تھا اسد سبتین 24 مارچ 1994 کو جب اواری ہوٹل کے قریب سب انسپکٹر منظور حسین کے ساتھ گشت پر تھے ۔ اواری ہوٹل چوک کے قریب خطرناک مجرموں اور ڈاکوؤں ، یعنی عاطف چوہدری اور مظہر گنجہ وغیرہ کے ایک معصوم شہری سے گاڑی نمبر 2383 / LOR چھیننے کے بارے میں معلومات موصول ہوئیں تو پولیس کی ایک ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور ڈکیتی کی کوشش کو ناکام بنا دی۔ ان خطرناک مجرموں نے پولیس پر فائرنگ کردی۔ جس کے دوران گولی لگنے سے کانسٹیبل اسد سبطین شدید زخمی ہو گئے اور اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شہادت کو گلے لگا لیا اور اپنے پیچھے سوگواران میں والدہ کو چھوڑ گئے-

 

44: اللہ رکھا
Police

اے ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 1120 تھا اے ایس آئی اللہ رکھا 7 اپریل 1993 کواپنے علاقے میں گشت کررہا تھے، کہ اس دوران پل ہربنس پورہ کے قریب بھولا کولڈ کارنر میں چوری کے حوالے سے معلومات موصول ہوئی تھیں۔ وہ فوراً ہی موقع پر پہنچے اور چوری کرنے والوں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ لیکن گرفتاری سے بچنے کے لئے چوروں نے اندھا دھند فائرنگ کردی۔ نتیجتاً اے ایس آئی اللہ رکھا کو گولی سے زخمی ہو گئے اور بعدازاں شہادت کو گلے لگا لیا اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ 2 بیٹے اور 3 بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

45: محمد سلیم
Police

کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 2930 تھا 13 اپریل 1993 کو جب کانسٹیبل محمد سلیم اپنے علاقے میں پٹرولنگ ڈیوٹی سر انجام دے ہے تھے تو تھا موضع نیاز بیگ کے قریب ڈاکوؤں کی جارفی واردات اور اندھا دھند فائرنگ سے متعلق اطلاع موصول ہوئی۔ پولیس ٹیم مذکورہ مقام پر پہنچی۔ مجرموں نے جائے وقوعہ سے فرار ہوتے ہوئے پولیس پر فائرنگ شروع کردی۔ کانسٹیبل محمد سلیم بھی اس ٹیم کے ممبر تھے۔ خطرناک مجرم سے مقابلے کے دوران انہوں نے بڑی دلیری سے لڑائی کی اور ان مجرموں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن وہ فائرنگ سے شدید زخمی ہوگئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے اپنے پیچھے ایک بیوہ اور ایک بیٹی چھوڑ گئے-

 

46: محمد صدیق
Police

پولیس محکمے میں ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 95/L تھا 24 اپریل 1994 کو مغلپورہ کے علاقے میں مبینہ مجرموں کی گرفتاری کے لئے پولیس کی ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ ایس آئی محمد صدیق بھی ٹیم میں شامل تھے- مغلپورہ کے علاقے کے ایک مکان میں خطرناک مجرموں کی موجودگی کے بارے میں اطلاع موصول ہوئی۔ پولیس ٹیم نے دی گئی جگہ پر چھاپہ مارا لیکن علاقے سے واقفیت کا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان مجرموں نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے دوران ایس آئی محمد صدیق زخمی ہو گئے اور باطل کے خلاف لڑتے ہوئے شہادت قبول کی۔اپنے پیچھے سوگواران میں 1بیوہ 1 بیٹی اور 2 بیٹے چھوڑ گئے-

 

47: شبیر حسین
Police

پولیس محکمے میں اے ایس آئی کے عیدے پر اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے ان کا بیچ نمبر 4836 تھا 7 جولائی 1992 کو ، اے ایس آئی شبیر حسین اپنی ڈیوٹی پر تھے کہ کچھ نامعلوم مجرموں نے مسافر وین کو لوٹنے کی کوشش کی۔ اے ایس آئی شبیر حسین نے وین کو روک کر ڈکیتی کی کوشش ناکام بنا دی۔ ایس آئی شبیر حسین پر فائرنگ کے بعد ڈاکو فرار ہوگئے۔ ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ، شبیر حسین شدید زخمی ہوگئے انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے اور شہید ہوگئے ، لیکن بہت سی انسانی جانوں اور املاک کو بچا لیا شہید شبیر حسین اپنے پیچھے سوگواران میں ایک بیوہ ارت 3 بیٹے چھوڑ گئے-

 

48: محمد راشد
Police

ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 324/L تھا 3 اگست 1993 کو ، جب وہ اپنی گشت کے دوران ٹیم کے ہمراہ فیصل پارک کے قریب گھناؤنے جرائم پیشہ افراد ، عتیق ، مجاہد اور دیگر لوگوں کی ایف آئی آر نمبر 93/477 مقدمہ کی تفتیش کر رہا تھا ، مجرموں نے اس جگہ پر فائرنگ کردی وہاں پر نوجوان معصوم لڑکے کرکٹ کھیل رہے تھے۔ انہوں نے بہادری کے ساتھ لیکن محتاط طور پر کرکٹ کھیلنے والے لڑکوں کو محفوظ کرتے ہوئے مجرموں کو گھیر لیا۔ کراس فائرنگ کے دوران ایس آئی محمد راشد کو گولی لگنے سے شدید چوٹیں آئیں جن کی تاب نہ لوتے ہوئے شہید ہو گئے ۔ تاہم ، گھناونے مجرموں کو گرفتار کرلیا گیا اور انھیں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔ ایس آئی محمد راشد اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ 1 بیٹا اور 3 بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

49: محمد افضال
Police

پنجاب پولیس میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 12673 تھا 16 مئی 1994 کومحمد افضال پی ایس گجر پورہ کے علاقے میں گشت کر رہے تھے تو دو نامعلوم ڈاکوؤں کے بارے میں اطلاع موصول ہوئی جو گن پوائنٹ پر بے گناہ شہریوں کو لُوٹ رہے تھے۔کانسٹیبل محمد افضآل فوری طور پر موقع پر پہنچے اور ڈاکوؤں کی کوشش ناکام بنادی لیکن فائرنگ کے تبادلے کے دوران کانسٹیبل محمد افضال شدید زخمی ہوگئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بعدازاں شہادت کو گلے لگا لیا۔ اپنی پیچھے سوگواران میں والدہ چھوڑ گئے-

 

50: محمد اقبال
Police

اے ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 4558 تھا 8 جولائی 1994 کو ، محمد اقبال اپنی ڈیوٹی پر تھے کہ کوٹ کمبوہ کے قریب طوائف کے ساتھ اشتہاری مجرموں قیصر بیگ وغیرہ کی موجودگی کے بارے میں اطلاع موصول ہوئی۔وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور مجرموں کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے جواباً فائرنگ شروع کردی۔ چنانچہ ، محمد اقبال شدید زخمی ہوگئے اور بعدازاں شہید ہو گئے۔ تاہم اے ایس آئی محمد اقبال کی اس عظیم قربانی کی وجہ سے ان مجرموں کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ محمد اقبال اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوی 1 بیٹا اور 2 بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

 

51:علی بہادر
Police

کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 5876 تھا 8 جولائی 1994 کو ، گشت کے دوران پولیس کو کوٹ کمبوہ کے قریب طوائف کے ساتھ اشتہاری مجرموں قیصر بیگ وغیرہ کی موجودگی کے بارے میں اطلاع موصول ہوئی۔کانسٹیبل علی بہادر اپنے ساتھیوں کے ساتھ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور مجرموں کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے جواباً فائرنگ شروع کردی۔ چنانچہ ، علی بہادر بہادری سے مجرموں کا مقابلہ کرتے ہوئے شدید زخمی ہوگئے اور بعدازاں شہید ہو گئے۔ تاہم ان مجرموں کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ علی بہادر اپنے پیچھے سوگواران میں والد کو چھوڑ گئے-

 

52: صفدر حسین
Police

پولیس محکمے میں کانسٹیبل کے فرائض سرانجام دے رہے تھے ان کا بیچ نمبر 10914 تھا 21 اگست 1994 کو ، کانسٹیبل صفدر حسین اپنے ایریا میں گشت کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ تین خطرناک مجرم رمضان ، فیاض اور عمران نامی ڈاکو ، گن پوائنٹ پر رکشہ ڈرائیور کو لوٹ رہے تھے۔ کانسٹیبل صفدر علی فوری طور پر موقع پر پہنچے اور ڈکیتی کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے مجرموں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے ان پر فائرنگ کردی ، جس کے نتیجے میں کانسٹیبل صفدر حسین شدید زخمی ہوگئے اور بعدازاں شہادت کو گلے لگا لیا۔ شہید کانسٹیبل صفدر حسین اپنے پیچھے سوگواران میں ایک بیوہ اور 2 بیٹے چھوڑ گئے-

 

53:محمد رمضان
Police

پولیس محکمے میں بطور کانسٹیبل فرائض سر انجام دے رہے تھے ان کا بیچ نمبر 10768 تھا 28 جنوری 1994 کو ،محمد رمضان گشت پر تھے کہ اس دوران موضع ڈھولن وال کے قریب ڈاکوؤں کی موجودگی کے بارے میں ایک اطلاع موصول ہوئی۔ ان مجرموں کی گرفتاری کے لئے پولیس کی ایک ٹیم شامل تھی۔ کانسٹیبل محمد رمضان بھی اس ٹیم میں شامل تھے۔ پولیس کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور مجرموں کو پکڑ لیا لیکن مجرموں کی گرفتاری کے خلاف پیش کردہ مسلح مزاحمت کے دوران کانسٹیبل محمد رمضان شدید زخمی ہوگئے اور شہید ہو گئے- کانسٹیبل محمد رمضان اپنے پیچھے سوگواران میں ایک بیوہ اور دو بیٹیاں چھوڑ گئے-

54: غلام رسول
Police

کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 7468 تھا 7 نومبر 1994 کو کانسٹیبل غلام رسول لوئر مال کراسنگ چوک پر اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے انہوں نے ون وہیلنگ کرتے ہوئے نامعلوم مجرم کو موٹرسائیکل کو خطرناک حد تک چلانے سے روکنے کا اشارہ کیا جو قانون کی پیروی کرنے کی بجائے کانسٹیبل غلام رسول پر فائرنگ کر کے فرار ہوگیا۔ گولی لگنے سے کانسٹیبل غلام رسول شدید زخمی ہو گئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں دم توڑ دیا اور شہادت کا مرتبہ حاصل کر لیا اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ 3 بیٹے اور 3 بیٹیاں چھوڑ گئے

 

55:نذر محمد
Police

بطور کانسٹیبل فرائض سر انجام دے رہے تھے ان کا بیچ نمبر 12215 تھا 14 دسمبر 1994 کو جب وہ اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے تو کچھ نامعلوم مجرموں نے پروفیسر منصور الحق کو قتل کرنے کی کوشش کی لیکن کانسٹیبل نذر محمد نے انھیں اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام بنا دیا انہوں نے پروفیسر کی جان بچانے کے لئے بہادری سے اپنی جان کی قربانی دے دی لیکن اپنی ذمہ داری ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹے۔ کانسٹیبل نذر محمد اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ اور 1 بیٹی چھوڑ گئے

 

56:شمشاد
Police

احمد ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر605 /L تھا 26 اپریل 1995 کو تاج پورہ سکیم لاہور کے بی بلاک کے ایک مکان میں امجد عرف پاپو اور دیگر کی موجودگی سے متعلق ایک اطلاع موصول ہوئی۔ پولیس کو ڈکیتی اور قتل کے بہت سے معاملات میں ان خطرناک مجرموں کی تلاش تھی ۔ ایس آئی شمشاد احمد نے ایک چھاپہ مار ٹیم بنائی اور مذکورہ مکان پر فائرنگ کی۔ مجرم چالاک اور اچھی تربیت یافتہ تھے اور نسبتا ًمحفوظ پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی۔ کراس فائرنگ میں ایس آئی شمشاد احمد نے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے شہید ہو گئے اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ 2 بیٹے اور 3 بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

57: نثار احمد
Police

ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 208/LHR تھا 26 اپریل 1995 کو تاج پورہ سکیم لاہور کے بی بلاک کے ایک مکان میں امجد عرف پاپو اور دیگر کی موجودگی سے متعلق ایک اطلاع موصول ہوئی۔ پولیس کو ڈکیتی اور قتل کے بہت سے معاملات میں ان خطرناک مجرموں کی تلاش تھی ۔ ایس آئی شمشاد احمد نے ایک چھاپہ مار ٹیم بنائی اور مذکورہ مکان پر فائرنگ کی۔ مجرم چالاک اور اچھی تربیت یافتہ تھے اور نسبتا ًمحفوظ پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی۔ کراس فائرنگ میں اے ایس آئی نثار احمد نے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے شہادت کو گلے لگا لیا اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ چھوڑ گئے-

 

58: محمد اشفاق
Police

کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 11571 تھا 26 اپریل 1995 کو تاج پورہ سکیم لاہور کے بی بلاک کے ایک مکان میں امجد عرف پاپو اور دیگر کی موجودگی سے متعلق ایک اطلاع موصول ہوئی۔ پولیس کو ڈکیتی اور قتل کے بہت سے معاملات میں ان خطرناک مجرموں کی تلاش تھی ۔ ایس آئی شمشاد احمد نے ایک چھاپہ مار ٹیم بنائی اور مذکورہ مکان پر فائرنگ کی۔ مجرم چالاک اور اچھی تربیت یافتہ تھے اور نسبتا ًمحفوظ پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی۔ کراس فائرنگ میں کانسٹیبل محمد اشفاق اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں والدہ کو چھوڑ گئے-

 

59: محمد اعظم
Police

کانسٹیبل کے عہدے پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے ان کا بیچ نمبر 1375 تھا 26 اپریل 1995 کو تاج پورہ سکیم لاہور کے بی بلاک کے ایک مکان میں امجد عرف پاپو اور دیگر کی موجودگی سے متعلق ایک اطلاع موصول ہوئی۔ پولیس کو ڈکیتی اور قتل کے بہت سے معاملات میں ان خطرناک مجرموں کی تلاش تھی ۔کانسٹیبل محمد اعظم نے پولیس پارٹی کے دیگر ممبروں کے ساتھ مذکورہ مکان پر چھاپہ مارا۔ مجرم چالاک اور اچھی تربیت یافتہ تھے اور نسبتا ًمحفوظ پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی۔ کراس فائرنگ میں کانسٹیبل محمد اعظم نے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے شہادت کو گلے لگا لیا اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ اور 2 بیٹے چھوڑ گئے-

 

60: سلیم سیف اللہ
Police

T/ASI کے عہدے پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے 28 مئی 1995 کو سلیم سیف اللہ علاقے میں گشت کررہے تھے۔ کہ انہیں دو بدنام زمانہ مجرم ملے ، جن کا نام امیر بٹ اور آغا نوید تھا ، جو گن پوائنٹ پر بے گناہ شہریوں کو لوٹنے میں مصروف تھے۔ وہ فوراً ہی موقع پر پہنچے اور ان کی ڈکیتی کی کوشش ناکام بنا دی۔ اس دشمنی کی وجہ سے عامر بٹ اور آغا نوید نے TASI سلیم سیف اللہ پر فائرنگ کردی جس کے نتیجےمیں شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں ایک بیوہ دو بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑ گئے-

 

61:محمد الیاس


پولیس محکمے میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 4894 تھا- مقدمہ کی ایف آئی آر نمبر 238/95 u / s پی ایچ او کی تفتیش کے دوران ایک گرفتار مجرم محمد عارف نے بادامی باغ کے علاقے میں اپنے شریک ملزم لطیف اور دیگر کی موجودگی کا انکشاف کیا۔ 06 جولائی 1995 کو محمد الیاس نے پولیس ٹیم کے دیگر ممبروں کے ساتھ دیئے گئے مقام پر چھاپہ مارا۔ مجرم چالاک اور اچھی تربیت یافتہ تھے اور نسبتًا محفوظ پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے پولیس پر فائرنگ کردی۔ کراس فائرنگ میں ہیڈ کانسٹیبل محمد الیاس گولی لگنے سے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں والدی کو چھوڑ گئے-

 

62:محمد اشرف

پولیس محکمے میں ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 12952 تھا-14 جولائی 1995 کو کوٹ شہاب الدین کے علاقے میں اکرم (نکا) ، شاہد بٹ اور دیگر ملزمان کی موجودگی سے متعلق اطلاع موصول ہوئی۔ ڈکیتی اور قتل کے بہت سے معاملات میں پولیس کو یہ خطرناک مجرم مطلوب تھے۔ کانسٹیبل محمد اشرف نے پولیس کے دیگر ممبروں کے ساتھ مذکورہ مقام پر چھاپہ مارا۔ مجرم چالاک اور اچھی تربیت یافتہ تھے اور نسبتا محفوظ پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے پولیس پر فائرنگ کردی۔ کراس فائرنگ میں کانسٹیبل محمد اشرف گولی لگنے سے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

63:محمد ادریس

پولیس محکمے میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 8956 تھا- 29 جولائی 1995 کو ، علاقے میں گشت کی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے محمد ادریس نے ایک مشکوک ٹیکسی روکنے کا اشارہ کیا جس میں دو نامعلوم مسلح مجرم خطرناک حد تک گاڑی چلا رہے تھے۔ انہوں نے ایک راہگیر کو بری طرح زدوکوب کیا ، کانسٹیبل محمد ادریس کے اشارے پر رکنے کی بجائے فائرنگ کردی اور فرار ہوگئے۔ چنانچہ گولی لگنے سے موقع پر ہی شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے 1 بیٹی چھوڑ گئے-

 

64:محمد شفیع

پولیس محکمے میں کانسٹیبل کے عہدے پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے ان کا بیچ نمبر 4456 تھا- رائیونڈ روڈ لاہور کے قریب خطرناک مجرموں اور ڈاکو ؤں ، اعجاز (جاجی) ، ریاض اور نصیر کے ایک بے گناہ شہری کو لوٹنے کی اطلاع موصول ہوئی پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور ڈکیتی کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ ان مجرموں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی۔ چنانچہ کانسٹیبل محمد شفیع اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے گولی لگنے سے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے ایک بیوہ 4 بیٹے اور 1 بیٹی چھوڑ گئے-

 

65: محمد اسلم

پولیس میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 7826 تھا- 28 ستمبر 1995 کو ، بانسانوالہ بازار کے قریب شاہ عالم چوک پر اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے کانسٹیبل محمد اسلم نے ایک موٹر سائیکل سوار کو رُکنے کا اشارہ کیا ۔ نامعلوم مجرم نے رُکنے کی بجائے بائیک کی سپیڈ ‌بڑھا دی- وہ ون وے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔ انہوں نے قانون کی پیروی کرنے کی بجائے کانسٹیبل محمد اسلم پر فائرنگ کردی اور موٹرسائیکل کے ساتھ دوسرے بے گناہ شہری کو مارتے ہوئے فرار ہوگئے۔ محمد اسلمم موقع پر ہی شہید ہو گئے اور اپنی جان قربان کردی

 

66: محمد امین

پولیس محکمے میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 1162 تھا 17 اکتوبر 1995 کو جب وہ کانسٹیبل محمد اسلم نمبر 11862 کے ہمراہ گشت کی ڈیوٹی پر تھے کہ دوران گشت پولیس کو کار نمبر 7678 / STE چھیننے کے بارے میں اطلاع موصول ہوئی نیز اس کار کے مسافروں کو پانچ خطرناک ڈاکوؤں نے لوٹ لیا۔ کانسٹیبل محمد امین اپنے ساتھی کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچے اور ڈکیتی کی کوشش کو ناکام بنا دیا اس دوران مجرموں نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں محمد امین شدید زخمی ہو گئے اور ہسپتال میں دم توڑ گئے اور شہادت کو گلے لگا لیا اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ اور 2 بیٹیا ں چھوڑ گئے-

 

67:عبدالرحمن

پولیس محکمے میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 8627 تھا – 24 جنوری 1996 کو وہ کانسٹیبل عبد الجبار کے ہمراہ موٹرسائیکل پر جی او آر کے قریب سرکاری کام کے لئے جارہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ دو پردہ دار مجرمان گن پوائنٹ پر بے گناہ شہریوں کو لوٹنے میں مصروف تھے۔انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیراپنی بہادری سے ڈاکووؤں کی کوشش کو ناکام بنا دیا اور اپنی ڈیوٹی نبھائی جس کا اپنی بھرتی کے وقت حلف لیا تھا۔کانسٹیبل عندالرحمن نے ان لٹیروں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جنہوں نے اس پر فائرنگ کی تھی تاکہ وہ ان کی گرفتاری سے بچ سکیں۔ اس کے نتیجے میں ،انہوں نے بے گناہ شہریوں کی جان ومال کو بچانے کے لئے اپنی جان کی قربانی دے کر شہادت قبول کی اور اپنے پیچھے 1 بیوہ 3 بیٹے اور 3 بیٹیاں چھوڑ گئے تھے-

 

68: محمد افضل

ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر فائزتھے ان کا بیچ نمبر 9113 تھا-25 فروری 1996 کو ، ہیڈ کانسٹیبل محمد افضل اپنی ڈیوٹی کی سر انجام دے رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک کار میں سوار کچھ نامعلوم مجرم معصوم شہریوں کو لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی لیکن وہ مجرم فائرنگ کرتے ہوئے بھاگ گئے جس کے نتیجے میں شدید زخمی ہو گئے چنانچہ کانسٹیبل محمد افضل نے اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے والدہ کو چھوڑ گئے-

 

69: محمد اشفاق

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھا ان کا بیچ نمبر 9604 تھا – ہیڈ کانسٹیبل محمد اشفاق 04 مارچ 1996 کو جب اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے تو کچھ نامعلوم مجرموں نے ارشد امین چوہدری اور اس کے بھائی عارف چوہدری کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ کانسٹیبل اشفاق احمد نے بہادری سے ان کی جان بچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے مجرموں پر فائرنگ سے جوابی کارروائی کی لیکن وہ تعداد میں بہت زیادہ اور بھاری تعداد میں مسلح تھے۔ فائرنگ کے تبادلے میں کانسٹیبل اشفاق احمد نے اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے 1 بیوہ 1 بیٹی اور 1 بیٹا چھوڑ گئے-

 

70: مشتاق احمد

پولیس میں ہیڈ کانسٹیبل کے فرائض سرانجام دے رہے تھے ان کا بیچ نمبر 9504 تھا- ہیڈ کانسٹیبل مشتاق احمد 06 مئی 1996 کو وہ مغلپورہ سیکٹر میں اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے ۔ 05 بجے وائرلیس کنٹرول کے ذریعہ انہیں اطلاع موصول ہوئی کہ کچھ نامعلوم مجرم رکی ہوئی ٹرین میں لوہے کی سلیب چرا رہے ہیں۔ ہیڈ کانسٹیبل مشتاق احمد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور سرکاری املاک چوری نہ کرنے پر پابندی عائد کردی۔ لیکن جوابی کاروائی میں مجرموں نے پولیس پر فائرنگ کردی۔ فائر کے بدلے کانسٹیبل مشتاق احمد سرکاری املاک بچاتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے 1 بیوہ 2 بیٹیاں اور 1 بیٹی چھوڑ گئے –

 

71: عبدالغفور

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کانسٹیبل میں عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 4808 تھا – کانسٹیبل عندالغفور 07 جون 1995 کو ایس ایچ او پی ایس کوٹ لکھپت کے ساتھ گشت کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔ اچانک تیز رفتار کار پولیس کی گاڑیکو اوورٹیک کرتے ہوئے آگے نکل گئی۔ پولیس نے کار کا تعاقب کیا اور ڈرائیور کو روکنے کا اشارہ کیا۔ لیکن کار میں موجود لوگ جو حقیقت میں مجرم تھے پولیس پر فائرنگ کرتے ہوئے بھاگ گئے۔ کراس فائرنگ کے نتیجے میں کانسٹیبل عبد الغفور گولی لگنے سے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوی اور 4 بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

72: محمد بشیر

پولیس میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 2669 تھا – 12 جون 1996 کو کانسٹیبل محمد بشیر اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے تو ایم پی اے خالد وڑائچ ایم این اے الیاس جٹ کے ساتھ ایک پرانے تنازعہ کو حل کرنے کے لئے اپنی نجی مسلح سیکیورٹی کے ساتھ آئے۔ گفتگو کے دوران معاملات گرم ہوگئے اور ایم پی اے خالد وڑائچ کے اہلکاروں نے فائرنگ کردی۔ کانسٹیبل محمد بشیر نے دونوں پارٹیوں کو اشتعال پر قابو پانے کی انتباہ دے کر بڑی جانفشانی کے ساتھ ان کو روکنے کی کوشش کی۔ لیکن اس دوران گولی لگنے سے کانسٹیبل محمد شبیر شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 3 بیٹے اور 3 بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

73: محمد ارشد

کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 3227 تھا – 15 اکتوبر1996 کو کانسٹیبل محمد ارشد نولکھا کے علاقے میں اے ایس آئی محمد رفیق کے ساتھ گشت کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے ۔ اس نے دو مشتبہ مجرموں کو ان کی حرکتوں سے نوٹ کیا وہ دراصل اندرون خانہ پناہ کے لئے ایک کمزور گھر کی تلاش میں تھے۔ کانسٹیبل محمد ارشد نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا۔ لیکن خطرناک مجرم اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے بھاگ گئے۔ جس کے نتیجے میں کانسٹیبل محمد ارشد شدید زخمی ہو گئے اور شہادت کو گلے لگا لیا محمد ارشد اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ 3 بیٹے اور 1 بیٹی چھوڑ گئے-

 

74:ناصر محمود

پولیس میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 11282 تھا- 18 نومبر 1996 کوانہیں علاقے میں خطرناک مجرموں کی موجودگی کے بارے میں معلومات موصول ہوئی تھیں یہ مجرم پولیس کو ڈکیتی اور قتل کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھا۔ کانسٹیبل ناصر محمود نے پولیس ٹیم کے ساتھ مذکورہ مقام پر چھاپہ مارا۔ مجرم چالاک اور اچھی تربیت یافتہ تھے اور نسبتا محفوظ پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے پولیس پر فائرنگ کردی۔ کراس فائرنگ میں کانسٹیبل ناصر محمود شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ اور 3 بیٹے چھوڑ گئے-

 

75: محمد ارشد

علی پولیس میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 9635 تھا – 24 دسمبر 1996 کو وہ پولیس چیک پوائنٹ پر اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے ۔ کچھ مشتبہ مجرم آئے جو علاقے کا جائزہ لیتے ہوئے دراصل ڈاکیتی کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ شک پر کانسٹیبل ارشاد علی نے انہیں روکنے کا اشارہ کیا۔ لیکن وہ خطرناک مجرم اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے بھاگ گئے۔ کراس فائرنگ میں کانسٹیبل ارشد علی شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ 2 بیٹے اور 1 بیٹی چھوڑ گئے-

 

76: محمد الیاس

پولیس محکمے میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 9728 تھا- 31 دسمبر 1996 کو جب محمد الیاس اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے تو کچھ نامعلوم قاتلوں نے ذوالفقار علی نقوی کو قتل کرنے کی کوشش کی کانسٹیبل محمد الیاس نے ذوالفقار علی نقوی کی جان بچانے کے لئے اپنی پوری کوشش کی لیکن قاتل مسلح اور بڑی تعداد میں تھے۔ کانسٹیبل محمد الیاس نے بہادری سے لڑتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دے دی اور شہادت کو گلے لگا لیا اپنے پیچھے سوگواران میں والد چھوڑ گئے-

 

77: محمد اسلم

پولیس محکمے میں ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر L/238 تھا- 18 جنوری 1997 کو کانسٹیبل محمد اسلم مولانا اعظم طارق اور ضیاء الرحمن فاروقی کے تحفظ کے لئے پائلٹ ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جو ایک مشہور سیاسی اور مذہبی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے علمبردار تھے۔ دہشت گردوں نے ان دونوں رہنماؤں کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ لہذا ان کی گاڑیوں کے قریب دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ چنانچہ سب انسپکٹر محمد اسلم اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

78: محمد وسیم

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر L/499 تھا 18 جنوری 1997 کو کانسٹیبل محمد اسلم مولانا اعظم طارق اور ضیاء الرحمن فاروقی کے تحفظ کے لئے پائلٹ ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جو ایک مشہور سیاسی اور مذہبی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے علمبردار تھے۔ دہشت گردوں نے ان دونوں رہنماؤں کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ لہذا ان کی گاڑیوں کے قریب دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ چنانچہ ایس آئی محمد وسیم اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ چھوڑ گئے-

 

79: محمد اصغر

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں اے ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 4036 تھا 18 جنوری 1997 کو کانسٹیبل محمد اسلم مولانا اعظم طارق اور ضیاء الرحمن فاروقی کے تحفظ کے لئے پائلٹ ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جو ایک مشہور سیاسی اور مذہبی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے علمبردار تھے۔ دہشت گردوں نے ان دونوں رہنماؤں کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ لہذا ان کی گاڑیوں کے قریب دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ چنانچہ اے ایس آئی محمد اصغر اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 3 بیٹے اور پانچ بیٹیاں 1 بیوہ چھوڑ گئے-

 

80: مختار احمد

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 1887 تھا 18 جنوری 1997 کو کانسٹیبل محمد اسلم مولانا اعظم طارق اور ضیاء الرحمن فاروقی کے تحفظ کے لئے پائلٹ ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جو ایک مشہور سیاسی اور مذہبی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے علمبردار تھے۔ دہشت گردوں نے ان دونوں رہنماؤں کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ لہذا ان کی گاڑیوں کے قریب دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ چنانچہ ہیڈ کانسٹیبل مختار احمد اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 2 بیٹے 3 بیٹیاں اور 1 بیوہ چھوڑ گئے-

81:مختار احمد

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 1155 تھا 18 جنوری 1997 کو کانسٹیبل مختار احمد مولانا اعظم طارق اور ضیاء الرحمن فاروقی کے تحفظ کے لئے پائلٹ ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جو ایک مشہور سیاسی اور مذہبی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے علمبردار تھے۔ دہشت گردوں نے ان دونوں رہنماؤں کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ لہذا ان کی گاڑیوں کے قریب دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ چنانچہ ہیڈ کانسٹیبل مختار احمد اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 3 بیٹے 3 بیٹیاں اور 1 بیوہ چھوڑ گئے-

 

82: معشوق علی

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 6563 تھا 18 جنوری 1997 کو کانسٹیبل معشوق علی مولانا اعظم طارق اور ضیاء الرحمن فاروقی کے تحفظ کے لئے پائلٹ ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جو ایک مشہور سیاسی اور مذہبی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے علمبردار تھے۔ دہشت گردوں نے ان دونوں رہنماؤں کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ لہذا ان کی گاڑیوں کے قریب دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ چنانچہ کانسٹیبل معشوق اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں والدہ کو چھوڑ گئے-

 

83: محمد فاروق

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 4161 تھا 18 جنوری 1997 کو کانسٹیبل محمد فاروق مولانا اعظم طارق اور ضیاء الرحمن فاروقی کے تحفظ کے لئے پائلٹ ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جو ایک مشہور سیاسی اور مذہبی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے علمبردار تھے۔ دہشت گردوں نے ان دونوں رہنماؤں کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ لہذا ان کی گاڑیوں کے قریب دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ چنانچہ کانسٹیبل محمد فاروق اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں ایک بیوہ اور ایک بیٹا چھوڑ گئے-

 

84: محمد اسلم

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 12702 تھا 18 جنوری 1997 کو کانسٹیبل محمد اسلم مولانا اعظم طارق اور ضیاء الرحمن فاروقی کے تحفظ کے لئے پائلٹ ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جو ایک مشہور سیاسی اور مذہبی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے علمبردار تھے۔ دہشت گردوں نے ان دونوں رہنماؤں کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ لہذا ان کی گاڑیوں کے قریب دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ چنانچہ کانسٹیبل محمد اسلم اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں والدچھوڑ گئے-

 

85:فاروق احمد

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 11450 تھا 18 جنوری 1997 کو کانسٹیبل فاروق احمد مولانا اعظم طارق اور ضیاء الرحمن فاروقی کے تحفظ کے لئے پائلٹ ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جو ایک مشہور سیاسی اور مذہبی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے علمبردار تھے۔ دہشت گردوں نے ان دونوں رہنماؤں کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ لہذا ان کی گاڑیوں کے قریب دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ چنانچہ کانسٹیبل فاروق احمد اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ 1 بیٹا اور 1 بیٹی چھوڑ گئے-

 

86: نور محمد

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 666 تھا 18 جنوری 1997 کو کانسٹیبل نور محمد مولانا اعظم طارق اور ضیاء الرحمن فاروقی کے تحفظ کے لئے پائلٹ ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جو ایک مشہور سیاسی اور مذہبی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے علمبردار تھے۔ دہشت گردوں نے ان دونوں رہنماؤں کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ لہذا ان کی گاڑیوں کے قریب دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ چنانچہ کانسٹیبل نور محمد اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ اور 1 بیٹا چھوڑ گئے-

 

87: مظہر اقبال

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 773 تھا 18 جنوری 1997 کو کانسٹیبل مظہر اقبال مولانا اعظم طارق اور ضیاء الرحمن فاروقی کے تحفظ کے لئے پائلٹ ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جو ایک مشہور سیاسی اور مذہبی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے علمبردار تھے۔ دہشت گردوں نے ان دونوں رہنماؤں کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ لہذا ان کی گاڑیوں کے قریب دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ چنانچہ کانسٹیبل مظہر اقبال اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ اور 1 بیٹی چھوڑ گئے-

 

88: ذوالفقار علی

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 13341 تھا 18 جنوری 1997 کو کانسٹیبل ذوالفقار علی مولانا اعظم طارق اور ضیاء الرحمن فاروقی کے تحفظ کے لئے پائلٹ ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جو ایک مشہور سیاسی اور مذہبی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے علمبردار تھے۔ دہشت گردوں نے ان دونوں رہنماؤں کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ لہذا ان کی گاڑیوں کے قریب دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ چنانچہ کانسٹیبل ذوالفقار علی اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ اور 1 بیٹا چھوڑ گئے-

 

89: مصور علی

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 3902 تھا 18 جنوری 1997 کو کانسٹیبل مصور علی مولانا اعظم طارق اور ضیاء الرحمن فاروقی کے تحفظ کے لئے پائلٹ ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جو ایک مشہور سیاسی اور مذہبی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے علمبردار تھے۔ دہشت گردوں نے ان دونوں رہنماؤں کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ لہذا ان کی گاڑیوں کے قریب دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ چنانچہ کانسٹیبل مصور علی اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ ،2 بیٹیاں اور 4 بیٹے چھوڑ گئے-

 

90: ارشد فاروق

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 11210 تھا 18 جنوری 1997 کو کانسٹیبل ارشد فاروق مولانا اعظم طارق اور ضیاء الرحمن فاروقی کے تحفظ کے لئے پائلٹ ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جو ایک مشہور سیاسی اور مذہبی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے علمبردار تھے۔ دہشت گردوں نے ان دونوں رہنماؤں کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ لہذا ان کی گاڑیوں کے قریب دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ چنانچہ کانسٹیبل ارشد فاروق اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں والدہ اور والد چھوڑ گئے-

 

91: محمد حنیف

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 6831 تھا 18 جنوری 1997 کو کانسٹیبل محمد حنیف مولانا اعظم طارق اور ضیاء الرحمن فاروقی کے تحفظ کے لئے پائلٹ ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جو ایک مشہور سیاسی اور مذہبی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے علمبردار تھے۔ دہشت گردوں نے ان دونوں رہنماؤں کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ لہذا ان کی گاڑیوں کے قریب دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ چنانچہ کانسٹیبل محمد حنیف اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیٹی اور 3 بیٹے چھوڑ گئے-

 

92: احمد مختار

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں سب انسپکٹر کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر. 283/L تھا 18 جنوری 1997 کو ایس آئی احمد مختار مولانا اعظم طارق اور ضیاء الرحمن فاروقی کے تحفظ کے لئے ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جو ایک مشہور سیاسی اور مذہبی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے علمبردار تھے۔ دہشت گردوں نے ان دونوں رہنماؤں کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ لہذا ان کی گاڑیوں کے قریب دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ چنانچہ کانسٹیبل احمد مختار اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیٹا اور چھ بیٹیاں چھوڑ گئے- یہ ان کی قسمت ہی تھی جس نے انہیں اعلی مرتبہ بنا دیا ۔

 

93: محمد اسلم

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 2788 تھا 18 جنوری 1997 کو ہیڈ کانسٹیبل محمد اسلم مولانا اعظم طارق اور ضیاء الرحمن فاروقی کے تحفظ کے لئے ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جو ایک مشہور سیاسی اور مذہبی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے علمبردار تھے۔ دہشت گردوں نے ان دونوں رہنماؤں کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ لہذا ان کی گاڑیوں کے قریب دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ چنانچہ ہیڈ کانسٹیبل محمد اسلم اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئےشدید زخمی ہو گئے انہیں ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں 7 دن بعد 24 جنوری 1997 کوشہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیٹا اور پانچ بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

94: محمد ریاض

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر8189 تھا 18 جنوری 1997 کو کانسٹیبل محمد ریاض مولانا اعظم طارق اور ضیاء الرحمن فاروقی کے تحفظ کے لئے ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جو ایک مشہور سیاسی اور مذہبی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے علمبردار تھے۔ دہشت گردوں نے ان دونوں رہنماؤں کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ لہذا ان کی گاڑیوں کے قریب دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ چنانچہ کانسٹیبل محمد ریاض اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئےشدید زخمی ہو گئے انہیں ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں دوران علاج 18 دن بعد 6 فروری 1997 کوشہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ 2 بیٹے اور 3 بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

95: محمد دین

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر1441 تھا 18 جنوری 1997 کو ہیڈ کانسٹیبل محمد دین مولانا اعظم طارق اور ضیاء الرحمن فاروقی کے تحفظ کے لئے ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے جو ایک مشہور سیاسی اور مذہبی جماعت سپاہ صحابہ پاکستان کے علمبردار تھے۔ دہشت گردوں نے ان دونوں رہنماؤں کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ لہذا ان کی گاڑیوں کے قریب دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ چنانچہ ہیڈ کانسٹیبل محمد دین اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئےشدید زخمی ہو گئے انہیں گنگا رام ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں دوران علاج ایک ماہ بعد 18 فروری 1997 کوشہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ پانچ بیٹے اور2 بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

96: محمد حیات

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 4136 تھا کو ،15 مئی 1997 کو محمد حیات نے اپنی ڈیوٹی کے دوران دیکھا کہ ایک کار میں سوار کچھ نامعلوم مجرم معصوم شہریوں کو لوٹ رہے ہیں۔ کانسٹیبل محمد حیات نے انہیں روکنے کی کوشش کی لیکن وہ مجرم بھاگ گئے۔ چنانچہ کانسٹیبل محمد حیات نے اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ 3 بیٹے اور 4 بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

97: رفیق

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 5200 تھا 7 جون 1997 کو کانسٹیبل رفیق پولیس چیک پوائنٹ پر اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے کہ کچھ مشتبہ مجرموں کو دیکھا جو علاقے کا جائزہ لے رہے تھے وہ دراصل ڈاکیتی کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ شک کی بنا پر کانسٹیبل محمد رفیق نے انہیں رُکنے کا اشارہ کیا۔ لیکن وہ خطرناک مجرم اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے بھاگ گئے۔ چنانچہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران کانسٹیبل محمد رفیق نے شہید ہو گئےاور اپنے پیچھے سوگواران میں 2 بیٹیاں چھوڑ گئے-

 

98: بشیر احمد

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 746 تھا 15 جون 1997 کو ایک مخبر محمد دین نے اپنے گھر پر خطرناک مجرموں کی موجودگی سے متعلق معلومات دیں۔ یہ مجرم پولیس کو ڈکیتی اور قتل کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھے۔ کانسٹیبل محمد بشیر نے پولیس کے دیگر ممبروں کے ساتھ مذکورہ مقام پر چھاپہ مارا۔ مجرم چالاک اور اچھی تربیت یافتہ تھے اور نسبتاً محفوظ پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے پولیس پر فائرنگ کردی۔ کراس فائرنگ میں کانسٹیبل محمد بشیر شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ، 4 بیٹیاں اور 1 بیٹا چھوڑ گئے-

 

99: دل محمد

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر1626تھا 15 اگست 1997 کو علاقے میں خطرناک مجرموں کی موجودگی سے متعلق اطلاع موصول ہوئی۔ یہ مجرم پولیس کو ڈکیتی اور قتل کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھے۔ ہیڈ کانسٹیبل دل محمد نے پولیس کے دیگر ممبروں کے ساتھ مذکورہ مقام پر چھاپہ مارا۔ مجرم چالاک اور اچھی تربیت یافتہ تھے اور نسبتاً محفوظ پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے پولیس پر فائرنگ کردی۔ کراس فائرنگ میں ہیڈ کانسٹیبل دل محمد شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ، 2 بیٹیاں اور 1 بیٹا چھوڑ گئے-

 

100: ناصر احمد

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے ان کا بیچ نمبر 1986 تھا 24 اکتوبر 1997 کو کانسٹیبل ناصر احمد علاقے میں پٹرولنگ کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے تو انہوں نے کچھ مشتبہ مجرموں کو دیکھا جو علاقے کا جائزہ لے رہے تھے وہ دراصل ڈاکیتی کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ شک پر کانسٹیبل نصیر احمد نے انہیں روکنے کا اشارہ کیا۔ لیکن وہ خطرناک مجرم اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے بھاگ گئے۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران کانسٹیبل نصیر احمد گولی لگنے سے شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے سوگواران میں 1 بیوہ، 2 بیٹیاں چھوڑ گئے-