fbpx

مریم کا بیانیہ ختم، شہباز شریف کے پیچھے چل پڑی

مریم کا بیانیہ ختم، شہباز شریف کے پیچھے چل پڑی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کا مشاورتی اجلاس ہوا

اجلاس میں مریم نواز ،شاہدخاقان عباسی اور احسن اقبال سمیت دیگر شریک ہوئے ،اجلاس میں پی ڈی ایم میں پیپلزپارٹی اور اے این پی کی شمولیت سے متعلق مشاورت کی گئی ن لیگ کا اجلاس اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کی رہائش گاہ پر ہوا ،اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے بیانیے، آئندہ بجٹ اور پارٹی امور پر بھی بات چیت ہوئی

اجلاس کے بعد ن لیگی رہنما شہبازشریف کی قیادت میں پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ پہنچ گئے قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاوَ پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں پہنچ گئے

شہباز شریف جب جیل میں تھے تو مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ نواز شریف ہی سب کچھ لیڈ کریں گے،نواز شریف کا بیانیہ چلے گا تا ہم شہباز شریف کی رہائی کے بعد مریم نواز اچانک خاموش ہو گئیں اور شہباز شریف کی جانب سے پارلیمانی رہنماؤں کے عشایئے میں مریم نواز کو دعوت نہیں دی گئی جس پر نواز شریف نے شہباز شریف سے شکوہ بھی کیا، اسکے بعد آج پی ڈی ایم اجلاس میں شہباز شریف مریم نواز کو ساتھ لے کر گئے ہیں

واضح رہے کہ پی ڈی ایم کا اجلاس آج طلب کیا گیا ہے جس میں حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک کے حوالہ سے نئی حکمت عملی طے کی جائے گی پی ڈی ایم کا اجلاس مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت ہو گا، پی ڈی ایم اجلاس میں اہم فیصلے متوقع ہیں،

ن لیگ دیکھتی رہ گئی، یوسف رضا گیلانی کو بڑا عہدہ مل گیا

گیلانی کے ایک ہی چھکے نے ن لیگ کی چیخیں نکلوا دیں

بلاول میرا بھائی کہنے کے باوجود مریم بلاول سے ناراض ہو گئیں،وجہ کیا؟

ندیم بابر کو ہٹانا نہیں بلکہ عمران خان کے ساتھ جیل میں ڈالنا چاہئے، مریم اورنگزیب

ن لیگ بڑی سیاسی جماعت لیکن بچوں کے حوالہ، دھینگا مشتی چھوڑیں اور آگے بڑھیں، وفاقی وزیر کا مشورہ

اک زرداری سب پر بھاری،آج واقعی ایک بار پھر ثابت ہو گیا

مبارک ہو، راہیں جدا ہو گئیں مگر کس کی؟ شیخ رشید بول پڑے

واضح رہے کہ پی ڈی ایم میں اختلافات پیدا ہو چکے ہیں ،سینیٹ میں پی پی نے ن لیگ کی مشاورت کے بغیر اپنا اپوزیشن لیڈر بنایا جس پر ن لیگ ناراض ہوئی، پی ڈی ایم نے نوٹس بھجوائے بلاول نے نوٹس پھاڑ دیئے بعد ازاں پی ڈی ایم سے پی پی رہنماؤں نے استعفے دے دیئے، اس تمام کے باوجود مولانا فضل الرحمان متحرک ہیں اور انہوں نے گزشتہ ایک ماہ میں کم از کم چار بار آصف زرداری سے رابطہ کیا ہے، مولانا پر امید ہیں کہ پی پی پی ڈی ایم میں آ جائے گی لیکن آج شاہد خاقان عباسی نے پی پی کے دوبارہ پی ڈی ایم میں آنے کے تمام راستے بند کر دیئے ہیں