fbpx

مریم اورنگزیب کو یہ عہدہ کیوں دیا؟ کنول شوذب نے اٹھایا اعتراض

مریم اورنگزیب کو یہ عہدہ کیوں دیا؟ کنول شوذب نے اٹھایا اعتراض
قومی اسمبلی کی اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی کا کنوینئر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس ہوا

اجلاس میں کمیٹی ممبران نفیسہ شاہ اور کنول شوزب نے شرکت کی وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کمیٹی اجلاس میں بریفنگ دی ،فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ میڈیا اتھارٹی بل لانے سے پہلے صحافی تنظیموں سے مشاورت کررہے ہیں بل کا ڈرافٹ ایوان میں پیش کرنے سے قبل قائمہ کمیٹی میں پیش کیا جائےگا،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اطلاعات نے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی،ذیلی کمیٹی کی تشکیل پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ،مریم اورنگزیب کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں،مریم اورنگزیب میڈیا پر کہتی ہیں یہ کالا قانون ہے، اس پر دکھ ہوا،احتجاج ہر کسی کا حق ہے اس کا انکار نہیں ،ہمارے پاس پیمرا کے 600 ملازمین ہیں، ہرسال کا خرچہ اربوں کا ہے، ہم میڈیا کمپلینٹ کمیشن قائم کرنا چاہتے ہیں،میڈیا کمپلینٹ کمیشن 9 ممبران پر مشتمل ہوگا .چار میڈیا اور4 حکومت کے ممبران ہوں گے،میڈیا اتھارٹی کا چیئرمین کسی ہائیکورٹ کا ریٹائرڈ جج یا وکیل ہوسکتا ہے،بل میں میڈیا ٹریبونل کی بھی پرپوزل ہے،میڈیا ٹریبونل 21 دن میں اپنا کیس نمٹائے گا
@MumtaazAwan
فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ میڈیا ورکرز ویج بورڈ چاہتے ہیں اور سیلری بروقت چاہتے ہیں،ہمارے ملک میں فیک نیوز کی بھی روایت پڑ گئی ہے، پی ایم ڈی اے کے حوالے سے کوئی آرڈیننس نہیں آ رہا،پی ایم ڈی اے بل کمیٹی کا ڈرافٹ پہلے لا منسٹری جائے گا جو اس کو دیکھے گا پی ایم ڈی اے بل وزارت قانون کے جائزے کے بعد ایوان میں جائے گا،حکومتی ممبر کنول شوزب نے مریم اورنگزیب کی ذیلی کمیٹی کی سربراہی پر اعتراض اٹھا دیا اور کہا کہ مریم اورنگزیب نے متنازعہ بیان دے کر ذیلی کمیٹی کو مشکوک بنا دیا،

پی ٹی آئی رکن کنول شوذب نے ذیلی کمیٹی کی دوبارہ تشکیل کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ ابھی یہ قانون بنا ہی نہیں تو یہ کالا قانون کیسے بن گیا؟ میں نے اس حوالے سے چیئرمین قائمہ کمیٹی جاوید لطیف کو خط بھی لکھا ہے،

مُک گیا تیرا شو نیازی گو نیازی گو نیازی،پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے نعرے

صحافیوں کے خلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن جائے گی، سپریم کورٹ

صحافیوں کا کام بھی صحافت کرنا ہے سیاست کرنا نہیں،سپریم کورٹ میں صحافیوں کا یوٹرن

مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں

بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

قبل ازیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت کے خطاب کے دوران پریس گیلری میں صحافیوں کو جانے کی اجازت نہ ملنے پر پیپلز پارٹی میدان میں آ گئی ہے پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کروائی جائیں،سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ اسپیکر اورچیئرمین سینیٹ پریس گیلری کو تالے لگانے والوں کا تعین کریں پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس کے دوران پریس گیلری کو تالے لگانا بدترین اقدام ہے،اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ فوری معاملے کی تحقیقات کریں،نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ ‏مشترکہ اجلاس میں پریس گیلری کو تالا اور صحافیوں پر پابندی لگا کر حکومت نے بدترین اور غیر جمہوری تاریخ قائم کی، دنیا کے سفیروں کے سامنے صحافیوں نے احتجاج کیا لیکن حکومت کو کوئی شرمندگی نہیں، ان کی 22 سالا سیاسی ‘جدوجہد’ ذاتی تھی، شیری رحمان جمہوریت اور پارلیمان کے لئے کی ہوتی تو ایسا نہیں ہوتا،‏دو دن صحافی احتجاج کرتے رہے،حکومت کی طرف سے کوئی مذاکرات کے لئے نہیں گیا،حکومت کا رویہ جمہوری نہیں آمرانہ ہے، اس حکومت کو مشاورت کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں، میڈیا کے ساتھ حکومت کا یہ سلوک افسوسناک اور قابل مذمت ہے، صحافت اور آزادی اظہار کی دشمن حکومت کے خلاف صحافیوں کے ساتھ ہیں،