fbpx

مریم نواز کی ایک اور مبینہ آڈیو لیک،سینئر تجزیہ کاروں سے متعلق نازیبا کلمات کا استعمال

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور پرویزرشید کی ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آگئی –

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مریم نواز مبینہ آڈیو میں سابق وزیر اطلاعات پرویزرشید سے گفتگوکررہی ہیں آڈیو میں سینئرصحافی حسن نثار اور ارشاد بھٹی پرالزامات لگا ئے گئے اور سینئر تجزیہ کاروں سے متعلق نازیبات کلمات کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔


مبینہ آڈیومیں مریم نواز پرویز رشید کو جیو گروپ کو ہدایات دینے پر بات کررہی ہے ، پرویز رشید کہہ رہے ہیں کہ اس کورکارڈ میں حسن نثارصاحب آپ کوپتا ہے ہم کو گالیاں دیتے ہیں، ارشاد بھٹی ایڈ کر لیا ہے وہ بھی آپ کو معلوم ہے گھٹیا گفتگوکرتا ہے۔

مریم نواز کی آڈیو بھی لیک ہو گئی

پرویز رشید آڈیو میں کہتے ہیں کہ مظہرعباس کی گفتگو ہمارےخلاف ہوتی ،طنز بھی ہوتا ہےمذاق بھی ، باقی کوئی بندہ وہاں نہیں جس کوہمارااسپوک پرسن کہا جاسکے،مریم نے نواز کہتی ہیں کہ ستار بابر ہے وہ آزادانہ رائے رکھتا ہے، ستار بابر بھی عام طور پر ہمارےبہت حق میں نہیں ہے-

پرویز رشید نے مزید کہا کہ حفیظ اللہ نیازی ہمارانقطہ نظر نہیں دیتا ، جس طرح یہ گالیاں دیتے ہیں یہی سلوک وہ عمران خان سےکرتاہے،حفیظ اللہ نیازی کو ہٹا دیا، اس کا کالم بھی بند کردیا گیا ہے، یہ بڑی زیادتی اور ناانصافی ہے۔

مبینہ آڈیو میں مریم نواز نے کہا انکل میں پوچھوں گی ناں کہ پہلے بتاؤہٹا یا کیوں ہے؟ جس پر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ درخواست ہےاس سے بھی بات کریں اورمیرشکیل سےبھی کریں۔

پی ٹی آئی کا مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے خفیہ اکاؤنٹس چھپانے کا دعویٰ

مریم نواز نے کہا کہ پہلے میں اس سے اندر کی خبر توپوچھوں تو پرویزرشید کا کہنا تھا کہ اتنا بیلنس پروگرام ہوگا عمران خان کےاوپر جو چیک تھاختم کردیا، ہمارے اوپر بھونکنے والےبٹھا دیئےمریم نواز نے کہا کہ انکل یہ بالکل ہی ایک وائس میس ہے-

مبینہ آڈیو میں مریم نواز نے دوصحافیوں کو باسکٹس دینے کی بھی ہدایت کی کہا کہ ابو آذربائیجان سےدوباسکٹس لائےہیں ، ایک نصرت جاوید اور ایک رانا جواد کو دینی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر اراکان اسمبلی کی ٹیکس تفصیلات سامنےآ گئیں

واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں بھی پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نوازصفدر کی آڈیوسامنے آئی تھی جن میں انہوں نے اپنی پارٹی کو 4 بڑے نجی چینلز کا بائیکاٹ کرنے کی ہدایات دی تھیں آڈیو میں وہ اپنی میڈیا ٹیم کو اے آر وائی نیوز، 92 نیوز،سماءنیوز اور 24 نیوز چینلز کو کسی بھی قسم کا کوئی بھی بیان اور ایڈ بھیجنے پرمنع کرتے سانئی دیں کہا تھا کہ مذکورہ بالا 4 نجی ٹی وی چینلز کو کسی بھی قسم کا بالکل کوئی بھی ایڈ‌نہیں بھیجا جائے گا-

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!