fbpx

مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ میں ایک بار پھر ہوئی توسیع

مریم نواز اور یوسف عباس شریف کے 7روزہ جسمانی ریمانڈ میں توسیع کر دی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت نے مریم نواز اور یوسف عباس شریف کے 7روزہ جسمانی ریمانڈ میں توسیع کر دی ،عدالت نے مریم نواز شریف کو دوبارہ 25 ستمبر کو پیش کرنے کا حکم دیا.

قبل ازیں مریم نواز اور یوسف عباس کو عدالت میں پیش کیا گیا ,

دوران سماعت عدالت نے سول کیا کہ چودھری شوگر ملز کا سربراہ کون تھا جس پر نیب نے عدالت میں بتایا کہ چودھری  شوگر ملز کیس کے میاں شریف، کلثوم نواز، حسین نواز، مریم نواز سمیت دیگر فیملی کے لوگ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تھے۔ عدالت نے سوال کیا کہ مریم نواز کب چیف ایگزیکٹو مقرر ہوئی۔ جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ 1992 میں حسین وناز چیف ایگزیکٹو مقرر ہوئے، مریم نواز 2004 میں چوھدری شوگر ملز کی چیف ایگزیکٹو مقرر ہوئیں .

مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ دادا کی زندگی میں تمام شئیرز تقسیم کر دیے گئے ،پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے دور میں چوہدری شوگر ملز کے متعلق تفتیش ہو چکی ہے ,پانامہ جے آئی ٹی نے بھی چوہدری شوگر ملز کی تحقیقات ہوئیں ،العزیزیہ کیس میں چوہدری شوگر ملز کو نواز شریف کی بے نامی جائیداد ظاہر کیا گیا .

مریم نواز کا کہنا تھا کہ کسی ایک پیسے کی کرپشن کا سوال نہیں پوچھا ،بیالیس دن سے مجھے سے سوال نہیں پوچھا ،مجھ سے پوچھتے ہیں کہ دادا نے آپ کو شئیرز کیوں ٹرانسفر کیے ,میں اس کا کیا جواب دوں کہ ایک دادا اپنے خاندان کو ٹرانسفر کر رہا ہے غیروں کو نہیں , مجھ سے دستاوہزات مانگتے ہیں ،میں نے کہا کہ اگر آپ کو دستاویزات چاہیں ہوتیں تو پہلے مرحلے پر بھی گرفتار نہ کر لیتے .

نیب کی مریم نواز کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا

دوران سماعت عدالت نے مریم نواز کو روسٹرم پر بلا لیا ،نیب پراسیکیوٹر نے مریم نواز کا پھر 14 روز کا جسمانی ریمانڈ طلب کرلیا،عدالت میں کیس کی سماعت جاری ہے، ن لیگی کارکنان بھی عدالت میں موجود ہیں،

عدالت نے ن لیگی کارکنان کی جانب سے نعرے بازی پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا، کمرہ عدالت میں موبائل فون لے جانے کی پابندی کے باوجود ن لیگی کارکنان موبائل لے کر گئے ہیں اور مریم نواز کے ہمراہ سیلفیاں بنا رہے ہیں.

قبل ازیں احتساب عدالت میں مریم نواز ،حمزہ شہباز، یوسف عباس کو پیش کر دیا گیا، ن لیگ کے کارکنان بھی رکاوٹیں توڑ کر عدالت پہنچے، ن لیگی کارکنان نے عدالت میں بھی نعرے لگانا شروع کر دیئے ،عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور ن لیگی وکلاء کو حکم دیا کہ ان کو روکا جائے، اگر ماحول ایسا ہی رپا تو کیس کی سماعت نہیں کی جائے گی .

حمزہ شہباز کی مریم نواز سے ملاقات،حکومت نے معیشت کا بیڑا غرق کر دیا،حمزہ شہباز

مریم نواز کو عدالت پہنچا دیا گیا، کیپٹن ر صفدر بھی پہنچ گئے

جسمانی ریمانڈ مکمل، مریم نواز کی آج ہو گی عدالت میں پیشی

مریم نواز اب کھائیں گی جیل کا کھانا، گھر کا کھانا ہوا بند

اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتطامات کئے گئے ہیں، احتساب عدالت جانے والے تمام راستے بند کئے گئے ہیں ،پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، مسلم لیگ ن کےرہنما اور کارکن جوڈیشل کمپلیکس کے باہر جمع ہوچکے ہیں،پولیس نے کارکنوں کو لوئر مال پر ایم اے او کالج اور سیکریٹریٹ چوک میں ہی روک لیا ،کمرہ عدالت کے باہر بھی مسلم لیگ ن کےوکلا،رہنماوَں اور کارکنوں کا شدید رش ہو چکا ہے ،پولیس نے وکلا کو کمرہ عدالت میں جانے سے روک دیا ،وکلاپولیس کا حصار توڑ کر کمرہ عدالت میں داخل ہو گئے

مریم نواز کب چیف ایگزیکٹو مقرر ہوئی؟ عدالت کے استفسار پرنیب نے کیا جواب دیا؟

واضح رہے کہ نیب نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز اورسابق وزیراعظم نواز شریف کے بھتیجے عباس شریف کو گرفتار کیا تھا ، جس کے بعد احتساب عدالت نے گرفتار مریم نواز اور عباس شریف کو  جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا تھا۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں بتایا تھا کہ 2008 میں مریم نواز کے نام پر11 ملین کے شیئر تھے، مریم نواز چوہدری  شوگرملزکی ڈائریکٹرہیں، مریم نوازکے84لاکھ روپے کے شیئر تھے، جو بڑھ کر 41 کروڑ ہوگئے