fbpx

جاوید لطیف نوازشریف کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں،مریم نواز

جاوید لطیف نوازشریف کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں،مریم نواز
ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

مریم نواز نے عرفان قادر کو اپنا نیا وکیل کیا ہے، عطا تارڑنے عدالت کو آگاہ کردیا ،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکو نہیں بلکہ عرفان قادر کو پیش ہو کر خود وقت مانگنا چاہیے تھا،اس سے یہ تاثر جاتا ہے کہ آپ تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں،عطا تارڑ نے کہا کہ ہماری جانب سے کوئی تاخیر نہیں کی جا رہی،امجد پرویز بیمار ہیں ،مریم نواز نے گزشتہ سماعت پر نئی درخواست دائر کرنے کی استدعا کی تھی، وکیل عرفان قادر درخواست تیار کر رہے ہیں،جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امجد پرویز کو خود پیش ہو کر عدالت کو آگاہ کرنا چاہیے تھا،امجد پرویز کو ایک درخواست اور میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کرنا چاہیے تھا عرفان قادر عدالت میں خود پیش ہو کر بتائیں کہ وقت چاہیے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپیلوں پر سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کر دی ،اس دوران پراسیکیوشن نےا عتراض کیا کہ مریم نواز کے پہلے وکیل نے تاحال وکالت نامہ واپس نہیں لیا،

@MumtaazAwan

عدالت پیشی کے موقع پر مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین دھاندلی کرنے کا نیا طریقہ ہے جس حکومت کی بنیاد ہی دھاندلی پر ہو ، اس کافری اینڈ فیئر الیکشن سے کیا تعلق ہے پہلے والی ایکسٹینشن کے فیصلے میں شریک نہیں تھی،مسلم لیگ ن خاموش نہیں،آوازاٹھا رہی ہے ،اپوزیشن کو عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے جب بھی کوئی حکومت کی نااہلی کی نشاندہی کرتا ہے تو یہ اپوزیشن پر چڑھائی کرتی ہے ملک میں مہنگائی اوردیگر مسائل کی وجہ پاکستان نہیں حکومت کی نااہلی ہے ،وزیراعظم خوداحتسابی کی باتیں کرتے تھے ،اب فرار اختیار کررہے ہیں عمران خان جب اپوزیشن میں تھے توالزامات حکومت پر لگاتے تھے ،آج وہ ان کی جانب آرہے ہیں، حکومت کی پالیسی ہے کہ نیب سے اپوزیشن کا کردار نکال دیا جائے ، انتخابی اصلاحات کو غیر مؤثر سمجھتی ہوں،نوازشریف کی ویکسی نیشن سے متعلق خبر مضحکہ خیز ہے،نوازشریف کی ویکسی نیشن کا اندراج حکومتی نظام پر سوالیہ نشان ہے،جاوید لطیف میاں صاحب کے جانثار ہیں،ان کے بیانیہ کے عملبردار ہیں ، وہ جواب جمع کرا دیں گے ، ہم سب پڑھ لیں گے۔ جاوید لطیف نوازشریف کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں، کسی بھی جماعت کے ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں ہونی چائیے،الیکشن کمیشن پر وہ لوگ حملے کررہے ہیں جو ہمیں اداروں کے احترام کا درس دیتے تھے

نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

اشتہاری ملزم کی درخواستیں کس قانون کے تحت سن سکتے ہیں،نواز شریف کے وکیل سے دلائل طلب

نواز شریف کی جیل میں طبیعت کیوں خراب ہوئی تھی؟ نئی میڈیکل رپورٹ میں اہم انکشاف

اشتہاری مجرم کی ضمانت منسوخی کی ضرورت ہے؟ نواز شریف کیس میں عدالت کے ریمارکس

نواز شریف کو مفرور بھی ڈکلیئر کر دیں تو تب بھی اپیل تو سنی جائے گی،عدالت

گرفتاری پہلے، مقدمہ بعد میں، مہذب ممالک میں کبھی ایسا دیکھا ہے؟ مریم نواز

مریم نواز کا وکیل بھاگ گیا

مریم نواز کے وکیل مسلسل کیس ملتوی کروا رہے ہیں، اس سے قبل بھی تین چار بار اس کیس کو ملتوی کروایا جا چکا ہے، مریم نواز خود بھی عدالت پیش ہوتی رہی ہیں ،ماہ اپریل میں مریم نوازکے وکیل امجد پرویز نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست ہائیکورٹ میں دائر کی تھی درخواست میں کہا گیا تھا کہ آج سماعت ملتوی کی جائے، لاہور ہائی کے ڈویژن بینچ میں نیب کے کیسز مقرر ہیں لاہور ہائیکورٹ میں مصروف ہونے کی وجہ سے اسلام آباد ہائیکورٹ پیش نہیں ہو سکتا

اس سے قبل آخری سماعت جوستمبر 2020 میں ہوئی تھی اس میں بھی امجد پرویز نے مصروف ہونے کی وجہ سے سماعت ملتوی کرائی تھی دوسری جانب مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچہ تھیں، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے

نیب نے دائر درخواست میں کہا کہ سپریم کورٹ ہدایات جاری کر چکی کرپشن کیسز پر روز سماعت کی جائے، انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے اپیلیں جلد سنی جائیں،نیب نے نواز شریف کی اپیلیں جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی درخواست میں کہا ہے کہ نو دسمبر 2020 کے بعد کیس سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوا اب جلد کیس کی سماعت کی جائے

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف کی درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں،عدالت نے نوازشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے تھے ،جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلہ سنایا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے حاضری سے استثنی اور نمائندہ مقرر کرنے کی درخواستیں مسترد کردی تھیں