fbpx

مسائل کا حل صرف مناسب حکمتِ عملی — نعمان سلطان

دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آفات آتی ہیں ترقی یافتہ اقوام کی پہلی ترجیح آفت سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کرنا اور متاثرین کی آفت ختم ہونے کے بعد بحالی ہوتی ہے اور دوسری ترجیح آئندہ کے لئے اس موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے آنے والی آفت کا سدباب کرنا یا اس کا زور توڑنا ہوتی ہے ۔

لیکن پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آفت آنے کی صورت میں حکومت اس آفت کی بنیاد پر بین الاقوامی برادری سے فنڈز اکٹھے کرتی ہے اور مقامی تنظیمیں یا افراد انفرادی طور پر مقامی لوگوں سے فنڈز اکٹھے کر کے اپنی کمائی کا ذریعہ بناتے ہیں جو رفاہی اور مذہبی تنظیمیں یا افراد خوف خدا کے تحت دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں ان پر الزام تراشی میں قطعاً نہیں کر رہا اللہ پاک انہیں جزائے خیر عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔

چین کے بارے میں بچپن میں ایک واقعہ سنا تھا (اگر یہ واقعہ چین یا دنیا میں کہیں پیش نہیں آیا تو اسے میری تجویز سمجھ لینا) کہ وہاں پر سیلاب یا ناگہانی آفت آ گئی تو حکومت نے ملک میں اعلان کرا دیا کہ مخیر حضرات ہمیں بتائیں کہ وہ ایک یا دو مہینے کے لئے کتنے افراد پر مشتمل کنبے کی مہمان نوازی کر سکتے ہیں۔

مخیر حضرات نے حکومت کے پاس اپنی رجسٹریشن کروا لی اس کے بعد حکومت نے متاثرین کو عارضی ریلیف کیمپ میں ریل کے ٹکٹ اور جس جگہ انہوں نے عارضی طور پر رہنا تھا وہاں کا ایڈریس دیا اور انہیں کہا کہ جب تک ہم یہاں آپ کی بحالی کے انتظامات نہیں کر لیتے آپ اس ایڈریس پر مہمان کے طور پر رہیں ۔

اس عمل کے حکومت اور متاثرین کو مندرجہ ذیل فائدے ہوئے ۔

1۔متاثرین کو ان کی عارضی قیام گاہوں پر بھیج کر حکومت نے سیلاب (ناگہانی آفت) کے بعد اس علاقے میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا اور جو پیسہ حکومت نے متاثرین پر لگانا تھا اس سے انفراسٹرکچر کی بحالی کر کے لوگوں کو دوبارہ ان کے علاقوں میں آباد کر دیا۔

2۔ اس کے علاوہ عارضی ریلیف کیمپوں میں ہر شخص کو تمام سہولیات زندگی میسر نہیں ہوتی لیکن ایک کنبے کی ذمہ داری ایک مخیر شخص کے اٹھانے کی وجہ سے ان کو مطلوبہ سہولیات بغیر کسی پریشانی کے حاصل ہونے لگیں۔

3۔کسی جماعت یا فرد کے انفرادی طور پر فنڈ جمع کرنے پر اس فنڈ کے استعمال میں شفافیت پر سوال اٹھ سکتا تھا جو کہ ہر شخص نے اپنی مرضی اور استطاعت کے مطابق خود خرچ کیا اس وجہ سے فنڈز کے غلط استعمال کی شکایات پیدا نہیں ہوئیں۔

4۔ متاثرین کے آفت زدہ علاقوں میں رہنے کی وجہ سے وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ تھا انہیں آفت زدہ علاقوں سے محفوظ علاقوں میں منتقل کر کے اس خدشے کا سدباب ہو گیا۔

5۔ لوگوں کی ہمدردی متاثرین کے ساتھ عموماً آفت کے وقت تک ہوتی ہے اور آفت کا زور ٹوٹنے کے بعد وہ متاثرین کو بھول جاتے ہیں جبکہ متاثرین کو اصل توجہ کی ضرورت آفت کے بعد ہوتی ہے تو اس طریقہ کار کو استعمال کر کے حکومت نے لوگوں کو خدمت خلق کا موقع بھی دیا جبکہ اصل ضرورت کے وقت متاثرین کی مدد کر کے ان کی دعائیں بھی لیں۔

6۔ کئی لوگ متاثرہ علاقوں سے اس لئے نقل مکانی نہیں کرتے کہ ان کے پاس متبادل رہائش نہیں ہوتی اور اسی وجہ سے ان کا جانی و مالی نقصان زیادہ ہوتا ہے جبکہ اس طریقہ کار میں لوگوں کو بروقت متبادل رہائش اور کھانے کا بندوبست کر کے انکے جانی و مالی نقصان سے بچایا جا سکتا ہے ۔

7۔ ناگہانی آفت کے دوران لوگوں کی جمع پونجی گم، چوری یا ضائع ہو جاتی ہے اور بحالی کے بعد ان کے پاس دوبارہ نظام زندگی چلانے کے لئے کوئی ذریعہ یا رقم نہیں ہوتی جب کہ اس طریقہ کار میں ان کی جمع پونجی محفوظ رہتی ہے جسے وہ بحالی کے بعد استعمال میں لا کر دوبارہ سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی جدوجہد کر سکتے ہیں۔

8۔متاثرین کی امداد ان کی عزت نفس متاثر کئے بغیر ہوتی ہے جبکہ حکومت اور رفاہی تنظیمیں اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے متاثرین کی امداد کرتے ہوئے تصاویر میڈیا کو فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے ۔

ملک کا ایک بڑا حصہ سیلاب سے متاثر ہے اور شاید حکومت چین والی پالیسی نہ اپنا سکے لیکن حکومت پھر بھی مندرجہ ذیل اقدامات کر سکتی تھی۔

1۔جدید ٹیکنالوجی کی بدولت حکومت کو یہ معلوم تھا کہ کن کن علاقوں کا سیلاب سے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے اگر حکومت بروقت اقدامات اٹھاتی اور متاثرہ علاقوں کے قریب ترین علاقوں میں موجود سرکاری سکولوں، ہوٹلوں اور جو کھلے میدان ہیں ان میں خیمہ بستیاں لگا کر متاثرین کی رہائش کا انتظام کر دیتی۔

2۔متاثرین کی محفوظ علاقوں میں منتقلی کا یہ فائدہ ہوتا کہ ابھی امدادی سامان صرف وہاں تک متاثرین کو پہنچ رہا ہے جہاں تک گاڑیاں جا سکتی ہیں جبکہ جو لوگ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں ان تک امدادی سامان نہیں پہنچ پا رہا جبکہ اس صورت میں تمام لوگوں تک امدادی سامان پہنچ سکتا ہے ۔

3۔ ریلوے کی سفری سہولیات مفت فراہم کر کے یا پبلک ٹرانسپورٹ کو سیلاب ڈیوٹی کے لئے پابند کر کے متاثرین کو ان جگہوں پر بروقت منتقل کرتی۔

4۔علاقے کے مخیر حضرات اور فلاحی تنظیموں کو پابند کرتی کہ وہ صرف اپنے اپنے علاقوں میں حکومت کے مقرر کردہ نمائندے کے ساتھ مل کر ان متاثرین کے کھانے پینے اور ادویات کے انتظامات کریں۔

5۔ یہاں سے مطمئین ہو کر حکومت اپنے پاس موجود امدادی رقم اور بین الاقوامی برادری کی امداد سے سیلاب کے بعد انفراسٹرکچر تعمیر کرے۔

6۔ اگر کوئی تنظیم یا افراد انفرادی طور پر اس کام میں حکومت کی معاونت کرنا چاہیں تو انہیں ان کی استطاعت کے مطابق مخصوص علاقے میں انفراسٹرکچر کی تعمیرات کی اجازت دے دی جائے تو یقیناً متاثرین موجودہ صورتحال سے کہیں زیادہ بہتر حالت میں ہوتے۔

ہر بات یا تجویز میں مزید بہتری کی گنجائش ہوتی ہے، لازمی بات ہے کہ میں عقل کل نہیں لیکن عرض صرف یہ کرنی تھی کہ اگر ایک عام آدمی ان مسائل کے حل کے لئے تجاویز دے سکتا ہے تو حکومت کیوں نہیں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی اور آفت آنے کے بعد آئندہ وہ آفت دوبارہ نہ آئے یا اس شدت سے نہ آئے ایسے اقدامات کیوں نہیں کرتی۔