fbpx

مہاراشٹر،کرناٹک:مساجدمیں لاؤڈ اسپیکر کی آوازکی حدمقرر، آوازناپنےوالی مشینیں نصب ہونے لگیں

ممبئی: مہاراشٹر میں ریاستی وزیر داخلہ تمام مساجد کو مقررہ آواز کی سطح پر عمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے نوٹس جاری ر دیئے-

باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا خبر رساں ادارے "آواز دی وائس” کے مطابق مہاراشٹر میں اذان لاؤڈ اسپیکر تنازعہ پر شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے کہا کہ ریاستی وزیر داخلہ نے تمام مساجد کو نوٹس جاری کیا ہے اور انہیں مقررہ آواز کی سطح پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

راوت نے جمعرات کو کہا کہ مہاراشٹر کے ریاستی وزیر داخلہ نے ایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اذان دیتے وقت ڈیسیبل کی سطح کیا ہونی چاہیے۔

مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ ، ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے…

مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کی طرف سے مساجد پر نصب لاؤڈ اسپیکر کو لے کر شروع کیا گیا تنازعہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے راج ٹھاکرے نے مہاراشٹر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹا دیے جائیں یہی نہیں، اس نے مساجد کے قریب ہنومان چالیسہ بجانے کی بھی وارننگ دی ہے۔

راج ٹھاکرے کے اس بیان کے بعد اب ایم این ایس کے کارکن مختلف جگہوں پر لاؤڈ اسپیکر لگا کر ہنومان چالیسہ پڑھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ممبئی پولیس نے امن کی خلاف ورزی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کچھ کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے اور ان پر 5-5 ہزار کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

اس تنازع کے بعد حکمراں شیو سینا اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی بھی راج ٹھاکرے کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

سنجے راوت نے پیر کو یہ بھی کہا تھا کہ یہ واضح ہے کہ شیواجی پارک میں لاؤڈ اسپیکر پر کی گئی تقریر کا اسکرپٹ بی جے پی نے لکھا اور اس کی سرپرستی کی تھی پہلے انہیں اتر پردیش میں اتارو، گوا کی مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹاؤ جہاں بی جے پی 10 سال سے اقتدار میں ہے وہاں یہ سیاست کیوں نہیں ہو رہی؟ مہاراشٹر میں ہی یہ مسئلہ کیوں اٹھایا جا رہا ہے؟

بھارت میں مساجد کے باہر اذان کے وقت ’رام بھجن اور شیو بھجن‘ کا اعلان

دوسری جانب بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق راج ٹھاکرے کے مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے بیان کے بعد مہاراشٹر میں سیاست تیز ہوگئی تھی یہ آگ اب کرناٹک تک پہنچ گئی کرناٹک میں ہندو تنظیموں نے مسجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا مطالبہ کیاہے۔ حکومت نے بھی اس کی تائید کی ہےاور کہا ہےکہ قانون کے مطابق کام کیا جائے گا۔ کرناٹک حکومت نے مساجد کو نوٹس جاری کیا جس کے بعد مساجد میں آواز کی پیمائش کرنے والی مشینیں لگانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

کرناٹک میں مساجد کو پولیس کی طرف سے نوٹس موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں کہ وہ اپنے لاؤڈ سپیکر پرمٹ ڈیسیبل کے اندر استعمال کر رہے ہیں۔ صرف بنگلورو میں تقریباً 250 مساجد کو ایسے نوٹس موصول ہوئے ہیں جن کی آواز بلند پائی گئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مساجد انتظامیہ نے مساجد میں ایسے آلات نصب کرنا شروع کردیئے ہیں جو آواز کو اجازت نامہ کی سطح تک برقرار رکھتے ہیں۔ کرناٹک کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس پروین سود نے تمام کمشنر آف پولیس، انسپکٹر جنرل آف پولیس اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ مذہبی اداروں، پبوں، نائٹ کلبوں اور دیگر اداروں اور تقریبات میں شور کی آلودگی کے اصولوں کی خلاف ورزی کی تحقیقات کریں۔

منگل کے روز کچھ تنظیموں نے مختلف پولیس حکام کو میمورنڈم جمع کر کے مساجد کے لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال کی تحقیقات کرنے کی درخواست کی ان کا الزام ہے کہ اسپتالوں، اہم سرکاری دفاتر، اسکولوں اور کالجوں جیسے خاموش زون میں بھی ایسا نہیں ہورہا ہے۔

تنظیموں نے الزام لگایا کہ مساجد میں لاؤڈ سپیکر صبح کی نیند میں خلل ڈالتے ہیں جس سے طلباء، مریضوں، بزرگوں اور رات کو کام کرنے والوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے شکایت کے بعد پولیس نے صرف مساجد میں ہی نہیں ہر جگہ لاؤڈ سپیکر چلانے پر پابندی لگا دی ہے۔

نائیجیریا: توہین مذہب کے الزام ایک شخص کو 24 سال قید کی سزا