fbpx

مسئلہ کیا ہے؟ تحریر : جواد خان یوسفزئی

مغرب اور اس کے نقش قدم پر چلنے والی چند دوسری اقوام دنیاوی ترقی میں ہم سے آگے ہیں تو اس کی کچھ مادی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ لیکن یہ ایک معمہ ہے کہ اخلاقی طور پر بھی ہم ان سے بہت پیچھے ہیں۔ جھوٹ، دھوکہ دہی، کینہ پروری، معاشرتی بے حسی، ظلم و جبر، بد عنوانی۔۔۔ العرض کونسی برائی ہے جس میں ہم دنیا میں نمایاں مقام نہیں رکھتے۔
اس کی بہت سی وجوہات پیش کی جاسکتی ہیں لیکن کوئی ایک وجہ واحد وجہ نہیں ہوسکتی۔ انسانی معاشرہ بہت پیچیدہ نظام ہوتا ہے اور اس کے محرکات کثیر جہتی ہوتے ہیں۔
ہماری اخلاقی پسماندگی کی ایک وجہ کچھ یوں بھی ہوسکتی ہے:
ہر معاشرے کا اخلاقی ڈھانچہ کسی نہ کسی بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔ مثلاً جدید مغربی اخلاق کی بنیاد انسان دوستی ہیومنزم پر ہے۔ اس فلسفے کی رو سے دنیا میں سب سے اہم چیز انسان کی انفرادی اور اجتماعی (دنیاوی) فلاح اور خوشی ہے۔ اسی سے لبرلزم، سیکولرزم، جمہوریت، افادیت پسندی الٹرا ہیومنزم اور سائینسی طرز فکر نے جم لے لی۔ مغربی معاشرے کے افراد بالعموم انسان دوستی سے اخذ کردہ اخلاقی اصولوں کی کڑی پاسداری کرتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ یہ معاشرے کے علاوہ خود ان کی ذات کے لیے بھی مفید ہے۔
اس کے مقابلے میں ہمارا معاشرہ اخلاقی اصول مذہبی تعلیمات سے اخذ کرتا ہے۔ ہمارا مذہب ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا ہے اور کس قسم کے رویوں سے اجتناب کرنا ہے۔ ہمارے مذہبی اصول قران اور سنت سے اخذ ہوتے ہیں اور ان دونوں کے موضوعات کی بھاری اکثریت اخلاقی تعلیمات پر مشتمل ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم ان اخلاقی تعلیمات پر بہت کم عمل کرتے ہیں۔ حالانکہ ہم دنیا کی کسی بھی دوسری قوم کے مقابلے میں زیادہ مذہبی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ مذہب سے ہمارا شعف بڑھتا جا رہا ہے۔ لیکن ہم میں مذہب کا وہ پہلو زیادہ اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے جس کا تعلق عقیدے اور مذہبی عبادات و رسومات سے ہے اور مذہب کی اخلاقی تعلیمات کی اہمیت کا احساس کم ہوتا جارہا ہے۔ اس رجحان کو ہم حال اور ماضی قریب میں لکھنے جانے والے مذہبی لٹریچر، نیز مذہبی علماء کے خطبات میں واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ اسلامی فقہ کو ایک ٹیکنیکل فن سمجھا جانے لگا ہے جس پر بات کرتے ہوئے اخلاقی پہلؤں کو مدنظر رکھنے کی چنداں ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ حالانکہ قران مجید میں جہاں بھی کوئی قانون بیان کیا گیا ہے اس کے انفرادی یا اجتماعی اثرات کا ذکر ضرور ہے۔
یہ رجحان اس قدرزور پکڑ چکا ہے کہ اگر کوئی اسلام کے اخلاقی تعلیمات پر زیادہ زور دے تو اس پر شک کیا جاتا ہے۔ پچھلی صدی کے ایک مشہور مصنف پر دین میں تحریف کے جو الزامات لگائے گئے تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ اس کی ایک کتاب میں اخلاقی برائیوں سے اجتناب کو بھی عبادت قرار دیا گیا تھا۔
حاصل کلام یہ کہ ہمارے اخلاقی نظام کی بنیاد مذہب پر ہے لیکن موجودہ دور میں مذہب کے اخلاقی پہلو پر توجہ کم ہے۔ اس سے ہمارے اخلاقی نظام کی بنیادیں کمزور ہوگئی ہیں۔ یہ احساس وسیع پیمانے پر پایا جاتا ہے کہ عقیدہ درست ہو اور عبادات کا اہتمام کیا جائے تو فلاح یقینی ہے۔ ہمارے معاشرے کی اخلاقی حالت کو بہتر بنانے کے لیے لوگوں کو یقین دلانا ہوگا کہ معاشرتی ذمے داریوں کو انجام دیے بغیر ہماری فلاح ممکن نہیں، چاہے ہم کتنی ہی زیادہ عبادت کیوں نہ کریں۔

ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com