fbpx

مصنوعی ذہانت سے قدیم ترین پُراسرار تحریر کا راز انکشاف ،قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع ہے محققین

محقیقن نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعےبحیرہ مردار کے قریب غاروں سے سکرولزکی صورت میں برآمد ہونے والی پراسرار قدیم دستاویزات کا راز جان لیا ہے –

باغی ٹی وی : غیر ملکی ویب سائٹ بی بی سی اردو کے مطابق محققین نے ان قدیم طوماروں کے مخطوطات میں سے ‘عظیم كتاب أشعيا’ کہلانے والی دستاویز پر تجربات کیے تھے جن سے پتہ چلا کہ شاید دو نامعلوم افراد نے قدیم زمانے میں اُس وقت کی زبان میں ہاتھ سے لکھے گئے الفاظ کی ہُو بہُو نقل تیار کی تھی۔

ان قدیم مخطوطات جو کے طومار کی صورت میں یعنی گول لپٹے ہوئے کاغذات کی صورت میں غاروں میں ملے تھے، کہا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک انجیل کے عہد نامہِ قدیم کا ایک نُسخہ ہے 70 برس پہلے برآمد ہونے والے یہ مخطوطات آج کے لوگوں کے لیے باعثِ حیرت ہیں اور ابھی تک راز ہی بنے ہوئے ہیں-

ان قدیم مخطوطات کا ایک حصہ بحیرہِ مردار کے قریب قمران نامی پہاڑ کے ایک غار سے مقامی بدوؤں کو ملا تھا اب غرب اردن کے یہ پہاڑ اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔

ان میں زیادہ تر ایسے مسودے ہیں جو عبرانی، آرامی اور یونانی زبان میں لکھے ہوئے ہیں، اور ان کے بارے میں خیال ہے کہ ان کا تیسری صدی قبل مسیح کے دور سے تعلق بنتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق كتاب أشعيا ان 950 مختلف مخطوطات میں سے ایک ہے جو ان غاروں سے سنہ چالیس اور سنہ پچاس کی دہائیوں میں ملے تھے۔ یہ مخطوطہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کے 54 کالم نصف حالت میں تقسیم کیے گئے ہیں اور یہ ایک ہی انداز سے لکھے گئے ہیں۔

ہالینڈ میں یونیورسٹی آف گرونینجن کے محققین نے كتاب أشعيا کے جائزے کے لیے مصنوعی ذہانت اس وقت سب سے زیادہ جدید اور نمونوں کو سمجھنے کے طریقے کا استعمال کیا۔ انھوں نے عبرانی زبان کے ایک حرف ‘الف’ کا تجزیہ کیا جو کہ اس کتاب میں 5000 مرتبہ درج تھا۔


فوٹو بشکریہ بی بی سی اردو

محققین ملادن پوپووچ، معرو ف ضالع اور لمبرٹ شومیکر اپنے ایک تحقیقی مقالے میں لکھا کہ وہ اس قدیم روشنائی کے نشانات کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو ڈیجیٹل امیجز پر ظاہر ہوئے تھے۔

ان محققین کے مطابق قدیم روشنائی کے نشانات کسی بھی شخص کے بازو اور ہاتھوں کے پٹھوں کی حرکات و سکنات کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ ہر فرد کے اپنے انداز کی مخصوص ہوتی ہیں انھوں نے اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ آیا ایک مخطوطے کے لکھنے میں ایک سے زیادہ افراد شامل تھے اس طریقے کا استعمال کیا۔

محققین کے مطابق زیادہ امکان ہے کہ دو کاتبین مل جل کر کام کرتے رہے تا کہ وہ ایک جیسا طرز تحریر برقرار رکھ سکیں لیکن ساتھ ساتھ اپنی منفرد خصوصیت کو بھی ظاہر کر سکیں۔

محققین کے مطابق کتابت میں یکسانیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ کاتبین کو کسی ایک مدرسے یا ایک خاندان میں ایک جیسی تربیت دی گئی ہو، مثال کے طور پر دونوں کو ان کے والد نے لکھنے کی تربیت دی ہو کاتبوں کی ایک دوسرے کی نقل کرنے کی صلاحیت اتنی بہترین تھی کہ اب تک کے کئی ماہرین ان دو کاتبوں کے درمیان کوئی فرق نہیں سمجھ سکے تھے-

معروف ضالع نے اس تحقیق کا پہلا تجزیاتی ٹیسٹ کیا ٹیکسٹوریل اور ایلوگرافک خصوصیات کے ان کے تجزیہ سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ عظیم كتاب أشعيا کے طومار میں متن کے 54 کالم دو مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں جنہیں تُکّے سے تقسیم نہیں کیا گیا تھا، بلکہ ان کے کلسٹرڈ منظم انداز میں بنے ہوئے تھے۔

اس تبصرہ کے ساتھ کہ اس طومار کے ایک سے زیادہ کاتب ہو سکتے ہیں، ضالع نے ان اعداد و شمار کو اپنے ساتھی محقق شومیکر کے حوالے کیا، جنھوں نے اب حروف کے ٹکڑوں کے نمونوں کا استعمال کرتے ہوئے کالموں کے مابین مماثلتوں کا جائزہ لیااس دوسرے تجزیاتی مرحلے نے دو مختلف کاتبوں کے ہونے کی تصدیق کردی-

عظیم کتاب اشعیا کا یہ تجزیہ اور اس مخطوطے کی کتابت میں دوسرے کاتب کی شناخت کرنے میں کامیابی اب یہ قمران سے ملنے والے دوسرے قدیم مخطوطوں کا تجزیہ کرنے کے بھی نئے امکانات کھولتی ہے۔

اب محققین دونوں کاتبوں کے لکھے ہوئے طومار کی تحریروں کے مائکرو لیول تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور احتیاط سے مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ انھوں نے ان مخطوطات پر کس طرح کام کیا۔

پوپووچ کے مطابق یہ بہت دلچسپ بات ہے کیونکہ اس سے قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع بنتا ہے جو ماہرین اور محققین کے مابین ان کاتبوں کے درمیان بہت زیادہ پیچیدہ روابط کا انکشاف کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مطالعے میں ہمیں ایک بہت ہی ایک جیسے طرز تحریر کے شواہد ملے ہیں جو عظیم اشعیا کے اسکرول کے مشترکہ دو کاتبوں کی ایک جیسی تربیت یا اصلیت کا پتہ دیتے ہیں ہمارا اگلا مرحلہ دیگر طومار کی تحقیقات کرنا ہے، جہاں ہمیں ان کے مختلف کاتبوں کی ابتدا یا تربیت کے بارے میں معلومات مل سکتی ہیں۔

اس طرح سے ہمیں ان معاشروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہو سکیں گی جنھوں نے بحیرہ مردار کے طومار تیار کیے تھے اب ہم مختلف لکھنے والوں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم ان کے نام کبھی نہیں جان پائیں گے لیکن 70 سال کے مطالعے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بالآخر ہم ان کی لکھاوٹ کے ذریعہ ان سے مصافحہ کر لیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.