fbpx

مطالعہ سیرت کی ضرورت و اہمیت | تحریر :عدنان یوسفزئی

 سیرت کے لغوی معنی طریقہ کار یا چلنے کی رفتار اور انداز کے ہیں۔

مسلم و غیر مسلم ہر اس شخص کے لیے سیرت نبوی کا مطالعہ از حد ضروری ہے جو دین اسلام کو جاننے، سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا خواہش مند ہے۔

ہمارا ایمان ہے، کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک آنے والوں کے نبی ہیں۔قیامت تک پیدا ہونے والے لوگوں کے مسائل،معاملات مختلف ہیں۔

کبھی لوگ امن کی حالت میں ہوتے ہیں تو کبھی جنگ کی حالت میں ہوتے ہیں۔لوگوں کی ضروریات اور خواہشات مختلف ہیں۔یہ ضرورت اور خواہش روحانی بھی ہوتی ہیں،جسمانی بھی ہوتی ہیں اور نفسانی بھی ہوتی ہے۔

ان مسائل کے حل کیلئے ایسے شخصیت کی ضرورت ہے جو ہم میں سے ہو اور وہ ایسا نظام دے جو قیامت تک کیلئے اور ہر ایک کیلئے ہو۔

اس مقصد کیلئے سیرت طیبہ کا مطالعہ ناگزیر ہو جاتا ہے کیونکہ حضور اکرم کے ذریعے اللہ تعالی نے قیامت تک کے آنے والے مسائل کا حل دیا ہے۔

چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے "اور تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ کی زندگی بہترین نمونہ ہے”.

اللہ تعالٰیٰ نے قرآن کریم میں اتباع رسول اور اطاعت رسول کو لازم اور فرض قرار دیا ہے۔ اس لحاظ سے سیرت نبوی کا مطالعہ از حد ضروری ہے تاکہ آنحضرت کے احکامات اور دیگر اوامر و نواہی کے ساتھ ساتھ آپ کی پسند و ناپسند کا علم بھی ہو سکے۔

دین اسلام کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے حوالے سے سیرت کا مطالعہ ناگزیر ہے تاکہ ایک تو ہر مبلغ تبلیغ کے اس مسنون طریقہ کار سے آگاہ ہو جس پر عمل پیرا ہو کر آنحضرت ﷺ نے عرب کی کایا پلٹ دی اور دوسرا اس مطالعہ کے ذریعے مخاطب کو آنحضرت کے اسوہ حسنہ سے متعارف کروا کر اور موقع بہ موقع سیرت کے واقعات سُنا کر اسے متاثر کیا جا سکے۔

سیرت طیبہ زندگی کےہر شعبہ میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ امن ہو یا جنگ،سفر ہو یا حضر،انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی،مسجد کا ماحول ہو یا بازار کا ماحول،گھریلو زندگی ہو یا باہر کی زندگی،تجارت ہو یا ملازمت،عبادات ہوں یا معاملات،خوشی ہو یا غمی، شادی ہو یا کوئی فوتیدگی ،معیشت ہو یا معاشرت غرض کوئی ایسی چیز نہیں جہاں سیرت پاک سے رہنمائی نہ ملتی ہو۔

ہر باطل نظام کے خلاف سیرت طیبہ نے متبادل بہتر نظام پیش کیا ہے۔سود کے مقابلہ میں تجارت،کنونشنل بینکنگ کے مقابلہ میں اسلامی بینکنگ اس کی بہترین مثال ہے۔

سیرت طیبہ ایک ایک مرحلہ پہ رہنمائی کرتی ہے۔ل مثال کے طور پہ جنگ کب کرنی ہے،کس سے کرنی ہے،جنگ سے پہلے کیا کرنا ہے،جنگ میں کیا کرنا ہے،جنگ بعد کیا کرنا ہے۔

امن کہ حالات میں کیا کرنا ہے،امن کیلئے کس حد تک جایا جا سکتا ہے،

سیرت کا مطالعہ محض ایک علمی مشغلہ ہی نہیں بلکہ اہم دینی ضرورت ہے۔ غیر مسلم کا سیرت کے مطالعے کا مقصد ان حالات اور اسباب سے آگاہی ہوسکتی ہے جس کے ماتحت آنحضرت نے تئیس سال کے قلیل عرصے میں دنیا میں ایک ایسا انقلاب برپا کردیا اور عرب کی جاہل اور اجڈ قوم سے ایک ایسی امت تیار کردی جس کے کارنامے انتہائی دلچسپ اور موجب صد حیرت ہیں۔و غیر مسلم جو اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف بغض و عناد رکھتے ہیں۔

ان کے مطالعہ سیرت کا مقصد اصل حقائق سے آگاہی حاصل کرکے انھی واقعات کو توڑ مروڑکر پیش کرنا اور حقیقت کے برعکس ان واقعات کو اپنے رنگ میں پیش کرکے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرنا بھی ہوسکتا ہے۔

جمع و تدوین سیرت کی مختصر تاریخ:

محمد ﷺ کی ذات، آپ کی تعلیمات اور آپ کی حیات طیبہ کی جملہ معلومات آپ کے اصحاب، آپ کی ازواج اور دیگر اہل بیت کے پاس منتشر صورت میں موجود تھیں۔ چونکہ آپ بطور رسول اللہ ان سب کی توجہ کا مرکز تھے اس لیے یہ تمام اصحاب باہمی میل ملاپ اور گفت و شنید سے محمد ﷺ کی ذات گرامی سے متعلقہ مختلف قسم کی معلومات کا تبادلہ بھی کرتے جیسے کسی تازہ ترین وحی، کسی واقعہ یا کسی فرمان کا باہمی تبادلہ وغیرہ۔

عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے دور میں سیرت لکھنے کا کام شروع ہوا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مارگولیوتھ نے 1905ء میں آنحضور ﷺ کے حالات پر مبنی ایک کتاب Muhammad and the First Rise of Islam میں اعتراف کیا کہ ”حضرت محمدؐ کے سیرت نگاروں کا ایک طویل سلسلہ ہے جس کو ختم کرنا ناممکن ہے لیکن اس میں جگہ پانا باعث شرف ہے۔”

اقوام متحدہ کے ثقافت و تہذیب اور تعلیم و تمدن سے متعلق ایک ذیلی ادارے یونیسکو کے چند سال پہلے کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق:”جس قدر کتب نبی اسلام کے بارے میں لکھی گئی ہیں اس کا عشر عشیر بھی کسی ایک شخصیت کے بارے میں نہیں لکھا گیا۔”

کتب سیرت کی کثرت:1963ء میں اسلامیہ کالج لاہور میں کتب سیرت کی ایک نمائش منعقد ہوئی جس میں پیش کردہ کتب کی فہرست کالج نے شایع کی تھی۔ اس میں دنیا کی گیارہ زبانوں کی آٹھ سو سے زائد کتابیں مذکور ہیں۔

سال 1975-1974ء میں حکومت پاکستان نے اسلام آباد میں سیرت کانفرنس کے موقع پر ایک نمائش کتب سیرت منعقد کرائی جس میں موجود کتابوں کی تعداد تین ہزار سے متجاوز تھی۔

ایک اور بین الاقوامی نمائش کتب سیرت میں صرف چودہویں صدی ہجری میں لکھی جانے والی کتب سیرت رکھی گئی تھیں جن کی تعداد چار ہزار سے متجاوز تھی۔

بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان نے ارمغان حق کے نام سے دو جلدوں میں کتب سیرت کی ایک فہرست شایع کی تھی جس میں پندرہ زبانوں کی دو ہزار سے زائد کتابیں مذکورہ ہیں۔

سیرت پر ہونے والا یہ کام نظم اور نثر دونوں میں دستیاب ہے۔ اگرچہ زیادہ کتب سیرت نثر میں ہی ہیں، تاہم مختلف زبانوں میں منظوم کتب سیرت بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود ہیں اور اگر صرف نعت کی کتابوں کو ہی لیا جائے تو ان کی فہرست پر بھی ایک رسالہ یا کتابچہ تیار ہوسکتا ہے۔

سیرتِ نبویؐ کا مطالعہ کرنے والے پر یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل میں یکجائی تھی، آپؐ کا ہر عمل آپؐ کے قول کے مطابق ہوتا تھا، یہ نہیں تھا کہ آپؐ لوگوں کو نیکی اور بھلائی کا حکم فرماتے اور خود اس سے تہی دامن رہتے، بلکہ سب سے پہلے آپؐ ہی اس پر عمل پیرا ہوتے۔

علامہ ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ اس حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ میں غور و فکر کرنے والا لامحالہ اس کی تصدیق کرے گا کہ آپؐ کا ہر عمل آپؐ کے قول کے مطابق ہوتا تھا، اور وہ یقیناًیہ گواہی دے گا کہ آپؐ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں، اگر آپؐ کوئی معجزہ لے کر نہ آتے تب بھی آپؐ کی سیرتِ طیبہ آپؐ کی صداقت کے لیے کافی تھی۔ (ابن حزم۔ الممل و النحل:ج2، ص90)۔

لہذا اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہیے کہ سیرت طیبہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ کافروں کیلئے بھی مشعل راہ ہے۔

ان سب مقاصد کے حصول کیلئے 

مطالعہ سیرت نہایت ضروری ہے۔

Twitter

| @AdnaniYousafzai