fbpx

مرنے کے بعد قیامت تک کا معاملہ. تحریر: محمد اسعد لعل

اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ جو بھی اس دنیا میں آیا ہے ایک دن اس کے اعمال کے مطابق اس کے ساتھ جزا و سزا ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اطلاع اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے دی ہے۔قرآنِ مجید ہمیں پیغمبری کی تاریخ کے بارے میں یہ بتاتا ہے کہ جس دن اس دنیا کی ابتداء ہوئی اسی دن سے پیغمبری کی بھی ابتداء ہو گئی۔ حضرت آدمؑ سے لے کر محمد ﷺ تک انبیاء کرام جزا و سزا کی منادی کرتے آئے ہیں، انبیاء کرام کی بعثت کا مقصد ہی یہی ہے۔ چنانچہ قرآنِ مجید نے یہ بتایا ہے کہ انبیاء کرام اس لیے بھیجے گئے تاکہ وہ لوگوں کو جنت کی بشارت دیں اور اللہ کے عذاب اور گرفت سے ان کو خبردار کریں۔ انبیاء کرام نے جتنی بھی تفصیلات بیان کی ہیں وہ سب کی سب جزا و سزا ہی کا حصہ ہیں۔۔۔ اُس میں جو باتیں بتائی گئی ہیں ان کا خلاصہ میں بیان کر دیتا ہوں۔

اس دنیا میں تین طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ لوگ ہیں کہ جن کا معاملہ بالکل صاف ہوتا ہے۔ وہ خدا کی ہدایت کو لپک کر قبول کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید کی تعبیر کے مطابق دین میں سبقت کے مقام پر کھڑے ہوتے ہیں۔ ہماری تاریخ میں جیسے حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر اور دوسرے جلیل و قدر صحابہ ہیں یا خود انبیاء کرام ہیں۔ اسی طریقے سے قرآنِ مجید نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اللہ کی راہ میں جان دے دیتے ہیں، جن کو شہدا کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جان اللہ کی راہ میں دے دی، دین کی دعوت دی گئی تو آگے بڑھ کر دعوت کو قبول کیا، پہلے ہی مرحلے میں اللہ کے پیغام کی تصدیق کر دی اور اس کے بعد زندگی بھر اپنے آپ کو خدا کے راستے پر رکھا۔ ۔۔ان کے لیے کسی حساب کتاب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بتایا ہے کہ جیسے ہی یہ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں ہماری نعمتیں ان کو ملنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتے ہیں۔

دوسرے وہ لوگ ہیں جو خدا کے مقابلے میں سرکش ہو گئے۔انہوں نے خدا اور خدا کے پیغمبروں کو چیلنج کر دیا۔ بڑی مثالوں میں جیسے فرعون ہے، ابو جہل ہے۔۔۔ اُن کے بارے میں بھی قرآنِ مجید میں بتا دیا گیا ہے کہ جیسے ہی وہ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو اُن کو صبح شام اُن کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے۔ اس طرح سے گویا ایک ذہنی نوعیت کا ٹورچر ہے جس میں وہ مبتلا کر دیے جاتے ہیں۔

تیسرے وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اچھے کام بھی کیے ہیں اور بُرے کام بھی۔۔۔ کوئی سرکشی نہیں کی، ندامت کا احساس بھی ہوتا ہے، ایمان بھی ہے اور خدا کی طرف رجوع بھی ہے۔۔۔تو ان لوگوں کا معاملہ اُٹھا رکھا جائے گا یہاں تک کے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حساب کتاب کر کے فیصلہ کریں گے اور بتائیں گے کہ یہ نیکو کار تھے، تو ان کے لیے ظاہر ہے ایک جزا ہے۔۔۔ اور اگر اس موقع پر ان کا پلڑا ہلکا ہوا تو ان کے لیے سزا ہے۔

یہ تین کیٹیگری قرآنِ مجید نے الگ الگ کر دی ہیں، جزا و سزا تو محشر کے روز ہی شروع ہو گی، لیکن اللہ کی نعمتیں ایک گروہ کے لیے اور اللہ کا عذاب ایک دوسرے گروہ کے لیے مرنے کے فوراً بعد شروع ہو جاتا ہے، کیوں کہ ان کے حساب کتاب کی ضرورت نہیں ہے۔ یعنی ان کا معاملہ ہر لحاظ سے واضح ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائیں، اور روز محشر نیکوکار لوگوں کے ساتھ اُٹھائے جائیں۔۔۔آمین

Twitter ID:

@iamAsadLal

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!