مواد پر پابندی لگانے سے متعلق ایک باضابطہ طریقہ کار ہوتا ہے پیمرا کو اسی طریقہ کار پر چلنا چاہیے مہرین جبار

پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور فلم ساز مہرین جبار کا تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ انہیں یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ پہلے جن ڈراموں اور اشتہارات پر پابندی لگائی گئی تو بعد ازاں ان سے پابندی ہٹائی کیوں گئی؟

باغی ٹی وی : جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے فلمساز اور ہدایتکارہ مہرین جبار نے اپنی آنے والی ویب سیریز ’ایک جھوٹی لو اسٹوری‘ پر بھی بات کی اور کہا کہ مذکورہ ویب سیریز کی کہانی منفرد ہے اور انہیں یقین ہے کہ شائقین کو سیریز بہت پسند آئے گی۔

واضح رہے کہ ’ایک جھوٹی لو اسٹوری‘ کو بھارتی اسٹریمنگ ویب سائٹ زی فائیو پر 30 اکتوبر کو ریلیز کیا جائے گا۔

’ایک جھوٹی لو اسٹوری‘ کی مرکزی کاسٹ میں بلال عباس خان اور مدیحہ امام شامل ہیں جب کہ سیریز میں حنا ، محمد احمد، بیو رانا ظفر، فرقان صدیقی، مریم سلیم، کنزہ رزاق اور کرن حق شامل ہیں۔ اور اس کو تحریر عمیرہ احمد نے کیا ہے انہوں نے کہاکہ یہ معاشرے کے مختلف مسائل کو اجاگر کرتی ہے اور ایک متوسط طبقے کے لڑکی اور لڑکے کی کہانی ہے جو امیر اور سچا پیار کرنے والے ساتھی تلاش کرتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ مذکورہ سیریز میں کچھ ایسا ہے جس سے لوگوں کو اختلاف ہو گا یا مسائل ہوں گے-

مہرین جبار نے نئی نسل کو مشورہ دیا کہ اگر ان کے پاس اپنا مواد دکھانے کے لیے اور کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں تو انہیں اپنا مواد یوٹیوب ٹک ٹاک وغیرہ پر ریلیز کرنا چاہیے۔ابھی تو بہت سے آن لائن سوشل میڈیاز ہیں بہت سے مواقع ہیں اپنے ٹیلنٹ کو آگے لانے کے لئے لیکن سب سے زیادہ ضروری ہے کہ کونٹینٹ پر توجہ دیں محنت تو پھر کرنی پڑتی ہی ہے-

فلمساز کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی نیٹ فلیکس طرز کی اسٹریمنگ ویب سائٹ ہونی چاہیے اور اس ضمن میں ہمارے ملک میں کچھ لوگ کوششیں بھی کر رہے ہیں-

مہرین جبار نے کورونا کی وبا کے باعث فلم انڈسٹری پر پڑنے والے اثرات پر بھی بات کی اور کہا کہ بحران سے بچنے کے لیے فلم انڈسٹری میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے اور زیادہ سے زیادہ فلمیں بنا کر سینما کو آباد کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان میں بھارتی اور ہا لی وڈ کی فلمیں ریلیز ہوتی تھیں تو سینما انڈسٹری بحران کا شکار نہیں ہوتی تھی مگر اب وہاں سے فلمیں آنا بھی بند ہوگئی ہیں اس لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ فلمیں بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

مہرین جبار کا کہنا تھا کہ دنیا میں ہر جگہ سینسر بورڈ ہوتے ہیں اور ہونے بھی چاہیے لیکن ہمارے ہاں بعض جگہ پر لگائی جانے والی پابندی بلکل غلط ہوتی ہے ہمارے ہاں کسی ایک شخص کو اگر کوئی چیز غلط لگ جاتی ہے تو پابندی لگائی جاتی ہے جب کہ ڈراموں اور اشتہارات پر پابندی لگانے کا ایک باضابطہ طریقہ کار ہوتا ہے اور پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو اسی طریقہ کار پر چلنا چاہیے۔

مہرین جبار نے اس بات پر بھی تعجب کا اظہار کیا کہ حال ہی میں پیمرا نے کچھ ڈراموں اور اشتہارات پر پابندی عائد کرکے پھر اس پابندی کو ہٹا لیا تھا انہوں نے کہا کہ پیمرا والے خود بھی کنفیوژڈ ہیں-

ایک سوال کے جواب میں مہرین جبار کا کہنا تھا کہ ان کی نظر میں یہ عمل درست نہیں وہ بھی کسی طرح کی پابندیوں کی حامی نہیں ہیں کیوں کہ کسی بھی مواد پر پابندی لگانے کا مطلب اس مواد کو زیادہ وائرل کرنا ہوتا ہے۔

مہرین جبار کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ایسی فلموں پر بھی پابندی لگادی جاتی ہے، جن پر پابندی نہیں لگنی چاہیے انہیں لگتا ہے کہ پاکستان میں فلموں پر پابندی اور بعض مواد کا مسئلہ سینسر بورڈ نہیں ہماری فلم انڈسٹری کا مسئلہ کچھ اور ہے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.