fbpx

مزدور کی زندگی تحریر:کاشف حسین

مجھے اپنی زندگی کے دوران نوکری کے سلسلے میں پاکستان دیکھنے اور گھومنے کا کافی موقع ملا بس ایک صوبہ سندھ ہی رہتا تھا اور میری شدید خواہش تھی کہ میں سندھ جاؤں اور سندھ کے مختلف شہر گھوموں تاکہ مجھے پتا چلے کہ سندھ کے لوگوں کی طرز زندگی اور رہن سہن کیا ہے۔۔اور سندھ کے پسماندگی کی وجہ کیا ہے۔۔کوی چار مہینے پہلے میری پوسٹنگ سندھ کے شہر چھور کینٹ میں ہوی یہ شہر حیدرآباد سے 170 کلو میٹر دوری پر واقعہ ہے۔بہت ہی پسماندگی کا شکار ہے۔شہر اور گردونواح میں مسلمان اور ہندو آبادی کی شرح برابر ہے۔۔دور دور تک سکول نظر نہیں آتا اور علاج کے لیے ہسپتال بھی مجھے ابھی تک نظر نہیں آیا بس سنا ہے کہ یہاں سے 25 کلومیٹر دور عمر کوٹ شہر ہے جہاں سرکاری ہسپتال ہے۔وہاں کے لوگوں کی غربت اور بے بسی پر رونا آتا ہے۔شہر کے علاؤہ آس پاس دیہات میں بجلی نہیں اور پانی کی بھی شدید کمی ہے۔۔شدید گرمی میں لوگ درختوں کے سایہ میں دن گزارتے اور سارا دن اپنے علاقے کے جاگیردار اور وڈیرے کے کھیتوں میں محنت مشقت کرتے۔میں اکثر جب یہاں کے لوگوں کو دیکھتا جن کے پاس اپنی ضروریات زندگی کے لیے کوئ سہولت موجود نہیں تو اپنے ساتھ لڑکوں سے کہتا کہ بہت شوق تھا سندھ آنے اور رہنے کا لیکن جب یہاں کے لوگوں کو بے بسی کی زندگی گزارتے دیکھا تو میرا یہاں رہنے کا شوق تو پورا ہوگیا۔کچھ دن پہلے ایک کسان سے ان کے رہن سہن کے بارے میں پوچھنے لگا جو اپنے وڈیرے کے کھیتوں میں محنت مشقت کر رہا تھا۔اس سے پوچھا بھائ آپ کھانے میں کیا کھاتے اور دن میں کتنے ٹائم کھانا کھاتے تو کہنے لگا پسی ہوئ لال مرچوں کو تڑکا لگا کر پھر پانی ڈال کر شوربہ بنا کر اس میں کھانا کھاتے دن دس بجے اور رات کھانا کھاتے سبزی دال کے لیے ہمارے پاس پیسے نہیں کہ خرید کر کھا سکے البتہ کبھی کبھی ٹماٹروں کی چٹنی بنا کر اس سے کھانا کھاتے۔۔میں اکثر یہ سوال کرتا کہ کیا چھور میں رہنے والے لوگ پاکستان کا حصہ نہیں ہیں ۔کیا ان کی نسلیں اسی طرح پروان چڑھتی رہے گے۔بس ساری زندگی آپنے وڈیروں کی خدمت کی ۔کیا اس سسٹم کے خلاوہ آواز اٹھانے والا کوئ نہیں۔کیا ان کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا کوئ حق حاصل نہیں۔ایک محب وطن پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم سندھ کے شہر چھور اور ایسے بہت سے شہروں کے لوگ جو غربت اور بے بسی کی زندگی گزار رہے ہیں ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھائے۔۔سندھ حکومت سے میری گزارش ہے کہ اب بہت ہوگیا اب تو اس بے بس عوام کے بارے میں سوچنا شروع کردے ان کے بچوں کے لیے سکول بنوا دے اور علاج کے لیے ہسپتال تاکہ یہ لوگ پڑھ لکھ کر اپنے مسقبل کا تحفظ کرسکے۔ شکریہ
@kashu_uu