fbpx

مزید بارشوں سے پاکستان میں موجودہ ابتر سیلابی صورتحال بد ترین ہونےکا خدشہ ہے، اقوام متحدہ

پاکستان میں اب تک تین کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں آنے والے مہینوں میں مزید بارشوں سے موجودہ ابتر سیلابی صورتحال بد ترین ہونے کا خدشہ ہے۔

باغی ٹی وی : اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کا کہنا ہے کہ مزید بارشیں سیلاب متاثرین کی مشکلات میں اضافہ کر دیں گی خدشہ ہے کہ سیلاب سے بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا۔

متحدہ امارات سے سیلاب متاثرین کے لیے مزید امداد آگئی

نیشنل ڈیزاسٹر ایجنسی کے مطابق سیلاب سے پاکستان میں اب تک تین کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے اپنے ایک بیان میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے مسئلے پر آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے، آج پاکستان ہے تو کل ایسا کسی اور ملک کےساتھ ہو سکتا ہےاور پاکستان کا شمارموسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کے سب سے زیادہ شکار ممالک میں ہوتا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے اقوام عالم سے مطالبہ کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر عالمی برادری پاکستان کو ہرجانہ ادا کرے۔

ایچ آر سی پی کا کہنا ہےکہ آلودہ گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ صرف صفر اعشاریہ چار فیصد ہے لیکن ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ملک پاکستان ہی ہے موجودہ حالات میں پاکستان کے وسائل بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں نہیں بلکہ سیلاب متاثرین کی بحالی میں استعمال ہونے چاہییں۔

سیلاب .خواتین اور بچوں سمیت 1325 لوگ لقمہ اجل بنے،کابینہ میں بریفنگ

ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک ایسی آفت کی لپیٹ میں ہے جس میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں، عالمی برادری خصوصاً آلودہ گیسوں کے زیادہ اخراج کے ذمہ دار ملک، پاکستان کو فوری طور پر ہرجانہ ادا کریں۔

دوسری جانب سوئیڈن کی 19 سالہ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ریکارڈ مون سون بارشیں اور سیلاب ایک مثال ہیں، اب بھی وقت ہے عالمی ماحولیاتی تبدیلوں کے خلاف عمل کرنے کا۔

گریٹا تھنبرگ کا کہنا تھا کہ ہم ماحولیات پر صرف تب بات کرتے ہیں جب ہم اس کیلئے وقت نکال سکیں، لیکن ہمیں لگتا ہے کہ یہ محظ ایک مسئلہ ہے اور اس میں ایسی کوئی اہم بات اور ہنگامی حالت نہیں ہے جس سے دوسرے معاملات متاثر ہوتے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ ہم مل کر دنیا کو درپیش اس چیلینج سے نبرد آزما ہوں، اس مسئلہ کی سنگینی کو دیکھنا چاہتے ہیں تو پاکستان میں آنے والے سیلاب کو دیکھ لیں یہ آپ کیلئے ایک واضح مثال ہے۔

افواج پاکستان کا سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری

گریٹا تھنبرگ نے کہا کہ آپ پاکستان کو دیکھ لیں جہاں ریکارڈ مون بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی ہے، خطرناک سیلاب سے 33 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، ساڑھے 4 سو زائد بچوں سمیت 12 سو سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ ان بارشوں اور سیلاب نے ایک بہت بڑے انسانی المیے کو بھی جنم دیا ہے اور اب پاکستان کیلئے ان متاثرین کی بحالی بھی ایک بہت بڑا معاشی چیلینج ہوگی۔

ماحولیاتی کارکن نے کہا کہ ہم دوسری چیزوں پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور ہم نے اس اہم اور بنیادی مسئلے کو بلکل نظرانداز کر دیا ہے، اب سیاستدانوں کو آگے آکر اس ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے کچھ کرنا چاہئے۔