fbpx

میئر کراچی کی برطرفی کا مطالبہ

کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران سیاسی جماعتیں متحد ہوگئیں اور قابضین کی حمایت میں کھل کر آگئیں۔ ان میں وہ جماعتیں بھی شامل ہیں جن کی درخواست پر سپریم کورٹ نے شہر پرقبضہ ختم کرانے اورکراچی کھولنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اب ان جماعتوں نے یوٹرن لے لیا اورانہوں نے قابضین کی حمایت میں مظاہرے جلسے اوردھرنے شروع کردیئے ان جماعتوں نے قابضین کیلئے ہیلپ لائن اورکیمپ قائم کردیئے کراچی میں ساڑھے چار لاکھ سے زائد دکانوں کے سامنے تجاوزات قائم ہیں ہزاروں گھر چائنا کٹنگ پربنے ہیں۔
50ہزار سے زائد بلند وبالا عمارتیں قبضہ کے پلاٹوں پر بنی ہوئی ہیں۔ 60ہزار رہائشی پلاٹوں پر پورشن بنے ہیں۔ رفاہ عامہ کے کئی ہزار پلاٹوں پر عمارتیں قائم ہیں۔
تحریک انصاف نے میئر کراچی وسیم اختر کو کریڈٹ دیا لیکن تحریک انصاف کی مقامی قیادت میئر وسیم سے نالاں ہے تحریک انصاف کے بعض رہنمائوں کا خیال ہے کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن سے ان سبکی ہوئی ہے ۔ایک جانب ان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا دوسری جانب سارا کریڈٹ میئر وسیم اختر کو مل رہا ہے ان کی واہ واہ ہورہی ہے جس کا تحریک انصاف کراچی کو نقصان ہورہا ہے کیونکہ تحریک انصاف کے رہنما کراچی میں آئندہ میئر لانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
کراچی صاف کرنے کا کریڈٹ میئر وسیم اختر کو مل رہا ہے۔ پیپلزپارٹی کھل کر سامنے آگئی اور وسیم اختر کی برطرفی کا مطالبہ کر دیا ۔