fbpx

میڈیا کا کردار تحریر: ملک ضماد

تو بات ہورہی تھی ہمارے میڈیا کی
کل ہی زبیر عمر صاحب کی کچھ وڈیوز لیک ہوئیں جن پر ہمارا میڈیا ہمیں اخلاقیات پڑھا رہا تھا وہی لوگ جن کا خود اخلاقیات سے دور دور تک کوئی تعلق نہی زیادہ دور نہیں جاتے چند دن پہلے کے واقع کو ہی دیکھ لیتی ہیں جس نے پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کر کہ رکھ دیا
تو بات ہوری تھی عائشہ اور ریمبو والے واقع کی زرا تفصیل میں جاتے ہیں۔۔ کیونکہ اب تو معاملہ کھلنے کے بعد دب بھی چکا ہے
پہلے پہل تو محترمہ نے خود اپنے عاشقوں کو دعوت دی آنے کی لیکن یہاں سوال یہ کہ
لڑکی نے جھنڈا انڈیا کا اٹھایا یا پاکستان کا سہی سلامت کیسے نکلی یہ ڈیبیٹ ہی نہیں مسلہ یہ ہے کہ ہم جب پندرہ اگست کو انڈیا کے یوم آزادی والے دن انکی ہار کی خوشیاں منارہے تھے اس سے ایک دن پہلے پاکستانی عوام پاکستان کا قانون اور شخصی ازادی جیسے حساس موضوغ عالمی دنیا سے لخ لعنت سمیٹ چکے تھے
اگلہ سوال
وہ منار پاکستان کیسے گئی اور کیا اتنے اہم دن کوئی بھی فیمیلز لے کر نہیں آیا تھا جیسے اس بات کو جانتا ہے کہ آج منٹو پارک اور اقبال کی آرام گاہ پر پاکستان کی کی عزت کا جنازہ نکالنا ہے
کیوں کہ وڈیو میں دور دور تک کوئی اور عورت نظر نہیں آرہی
اب پاکستانی سینٹی عوام سے گزارش ہے کہ زرا تہ تک جاکر سوچیں ٹھیک ہے معاملہ دل خراش ہے مگر اس سے ایک دن پہلے طالبان کابل کے دروازے پر دستک دے رہے تھے اور اس تین چار دن پہلے خان سے ایک امریکی صحافی پاکستان میں اسلام کی وجہ سے عورتوں کی آزادی کو خطرہ سمجھ تھی جس کے جواب میں خان صاحب نے یورپئن کنٹریز میں ریپ کے اگلے پچھلے واقعات سنا کر پاکستان کو عورت کے لیے سیگ ملک کہا تھا

اور معاملہ تب تک دبا رہا جب تک عزت ماآب اقرار الحسن سید اور جناب یاسر شامی نے انکا انٹر ویو نا کر لیا وہ پاکستان جہاں نمرہ علی کی بھونڈی وڈیو دو گھنٹے میں وائرل ہوجاتی ہے وہاں ایک سیکچوئل ہراسمینٹ کی وڈیو تین دن تک کیسے دبی رہی جب کہ وڈیو کئی لوگوں نے بنائی اوت یہ کیسے ممکن ہو کہ وہ سارے لوگ اس انتظار میں ہوں کہ کب طالبان عورت کے لیے برقع لازمی قرار دیتے ہیں

پاکستانی میڈیا اگر پاکستان کے حق میں کوئی خبر دیکھ لے تو اس کو نشر کرنے کے لیے ان کو پہلے تو کافی پریشانی ہوتی ہے پھر اگر نشر کر بھی دیں تو سیاق و سباق سے ہٹ کر نشر کی جاتی ہے اس کے مقابلے میں انڈین میڈیا اپنی گورنمنٹ کی جھوٹی خبر کو بھی ایسے سچ کر کے دیکھاتا ہے جیسے وہ سچ ہی ہو

پاکستانی میڈیا کو اگر پاکستان کو بدنام کرنے یا پاکستان کا امیج خراب کرنے کے حوالے سے ہلکی سی خبر یا امکان بھی نظر آ جائے تو اس کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جیسے بس پاکستان میں طوفان برپا ہونے والا ہے

حکومت پاکستان اگر کوئی پالیسی بنانے کا سوچتی ہے تو ہمارا میڈیا اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ میڈیا کا احتساب نا ہو سکے بلکہ میڈیا والے اپنی مرضی سے سب کچھ کر سکیں

اگر کوئی میڈیا سیکشن حقیقت عوام تک پہنچانے کی کوشش کرتا یے تو باقی میڈیا مالکان اس کے خلاف کھڑے کو جاتے ہیں اور اس کو کام کرنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!