fbpx

میڈیا آرڈیننس 2021 ، آزادی صحافت پر لٹکتی تلوار

میڈیا آرڈیننس 2021 ، آزادی صحافت پر لٹکتی تلوار

باغی ٹی وی : حکومت پاکستان نے میڈیا آرڈیننس 2021 جاری کیا ہے جس میں میڈیا پر ایسی قدغنیں لگائی گئی ہیں جن کو میڈیا ہاؤسز اور میڈیا تنظیموں نے مسترد کردیا ہے . میڈیا نمائندگان کا کہنا ہے کہ یہ آرڈیننس آزادیِ صحافت اور اظہار رائے کے خلاف ہے، اس کا مقصد ریاستی جبر کے ذریعے میڈیا کے تمام آپریشن کو کنٹرول کرنا ہے۔

پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے مجوزہ قانون کا ڈرافت تیار کر لیا گیا ہے جسے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔
پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کے آرڈیننس کے نفاذ کے بعد پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، پریس کونسل آرڈیننس اور موشن پکچرز آرڈیننس منسوخ ہو جائیںگے اور ملک میں کام کرنے والے اخبارات ٹی وی چینلز اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت کام کریں گے۔

پاکستان میں اخبارات، ٹی وی چینلز اور ویب چینلز کے علاوہ ڈیجیٹل میڈیا کے لیے بھی لائسنس اور این او سی حاصل کرنا اور تجدید لازمی قرار دی گئی ہے۔

مجوزہ قانون کے مطابق کوئی بھی مواد یا معلومات تحریری، آواز، ویڈیو یا گرافکس کے طور پر انٹرنیٹ کے ذریعے دی جائے ڈیجیٹل میڈیا کے زمرے میں آئے گی۔ اس کے علاوہ ویب ٹی وی اور اوور دی ٹاپ ٹی وی بھی ڈیجیٹل میڈیا کی کیٹگری میں شامل ہوگا۔

پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کے تحت لائسنس یافتہ یا رجسٹرڈ میڈیا پلیٹ فارمز پر اس آرڈیننس کی خلاف ورزی کی صورت میں تین سال تک قید اور ڈھائی کروڑ روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے اور دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں یہ سزا پانچ سال تک بڑھائی جا سکتی ہے۔

قانون کے مسودے کے مطابق وفاقی حکومت پی ایم ڈی اے کو کسی بھی معاملے پر ہدایات جاری کر سکتی ہے جبکہ پی ایم ڈی اے حکومتی ہدایات پر عملدرآمد کروانے کی پابند ہوگی۔

پی ایم ڈی اے کے تحت الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کا علیحدہ علیحدہ ڈائریکٹریٹ قائم کیا جائے گا جو کہ متعلقہ شعبوں کی مانیٹرنگ، لائسنس کے اجرا اور تجدید کو ریگولیٹ کرے گا جبکہ اتھارٹی کے پاس اختیار ہو گا کہ وہ ضرورت کے مطابق ذیلی ونگز تشکیل دے سکے۔

کونسل 20 روز کے اندر کسی بھی شکایات کے حوالے سے فیصلہ کرنے کی پابند ہوگی۔
آرڈیننس کے تحت ایسے کسی مواد کو نشر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جو عوام میں نفرت پھیلانے کا باعث بنے یا لا اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب کرنے کا باعث بن سکتا ہو۔

پاکستان میڈیا ڈویلمپنٹ اتھارٹی کے تحت میڈیا ٹریبونل کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ دس رکنی ٹریبونل کا چیئرمین ہائی کورٹ کے سابق جج کو تعینات کیا جائے گا۔

میڈیا کمپلینٹ کونسل کے فیصلہ کے خلاف اپیلیں سننے کے علاوہ ٹریبونل میڈیا ورکرز کے ویجز پر عملدرآمد کرے گا جبکہ میڈیا ہاوسز کے میڈیا ورکرز کے ساتھ پیشہ ورانہ امور کی نگرانی بھی کرے گا

ڈیجیٹل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا لائسنس یا رجسٹریشن کا حامل ادارہ پاکستان کی خودمختاری، سالمیت اور سیکیورٹی کی پابندی یقینی بنائے گا۔ لائسنس یافتہ میڈیا پلیٹ فارم وفاقی حکومت یا اتھارٹی کی ہدایت کے مطابق عوامی مفاد یا معلوماتی پراگرامز نشر کرے گا جس کا کم از کم دورانیہ روزمرہ کی نشریات کے دورانیے کے پانچ فیصد پر مشتمل ہوگا۔

کسی بھی پروگرام کے دوران اینکرز یا میزبان نظریہ پاکستان، ملکی سلامتی، خودمختاری یا سکیورٹی سے متعلق کسی پراپیگنڈے یا عمل کی تشہیر نہیں کرے گا،

آرڈیننس کے تحت میڈیا کمپلینٹ کونسل بھی تشکیل بھی دی جائے گی جو کہ پراگرامز، خبروں اور تجزوں کے حوالے سے شکایات کا فیصلہ کرے گا تاہم نئے آرڈیننس کے ذریعے کملینٹ کونسل کو بااختیار بناتے ہوئے سول کورٹس کے اختیارات دیے جائیں گے جس کے تحت کونسل کو کسی کی حاضری کے لیے سمن جاری کرنے یا معلومات طلب کرنے کا اختیار ہوگا۔

تجزیہ کاروں اور صحافت کے میدان کے ماہرین نے اس آرڈیننس کو صحافیوں کے لئے سب سے خطرناک شہر قرار دیا ہے۔ صحافی تنظیموں کے مطابق اگر کوئی ایسا آرڈی نینس یا قانون جاری ہو گیا جو صحافت کے مسلم اصولوں اور عالمی اقدار کے مطابق نہیں تو پاکستان کی رسوائی کا سبب بنے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.