میڈیکل کالجز کی فیس سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار

میڈیکل کالجز کی فیس سے متعلق درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج
0
36
supreme

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آبادی کے قریب اسٹون کریشنگ کو انسانی زندگیوں کے لیے خطرہ قرار دے دیا،جبکہ میڈیکل کالجز کی فیس سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار دی گئی-

جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اسٹون کریشنگ پلانٹس کے خلاف کیس کی سماعت کی،دوران سماعت دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آبادی کے قریب پاور اسٹون کریشرز انسانی جان کے لیے خطرہ ہے، آبادی کے قریب پاور اسٹون کریشرز کو دوسری جگہ شفٹ کریں، خیبرپختونخوا میں اسٹون کریشنگ کا بڑا سنجیدہ ایشو ہے، ہمارے سامنے کیس تین اسٹون کریشرز کا ہے، ایسے سینکڑوں پاور کریشرز ہیں جو آبادی کے قریب ہے۔

وکیل پاور کریشرز اعتزاز احسن نے مؤقف اختیار کیا کہ ہمیں کمیشن رپورٹ کا جائزہ لینے کا وقت دیا جائے، استدعا ہے کہ کیس کو محرم کے بعد رکھا جائے جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ محرم کی بات ہے تو پھر کیس کا فیصلہ جلدی ہونا چاہیئے، انڈسٹری کو بند نہیں کرنا چاہتے لیکن انسانی جانوں کا معاملہ اہم ہے۔

سپریم کورٹ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اور وکیل اسٹون کریشنز کو کل تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ کل اسٹون کریشرز کے وکیل نہ آئے تو کمیشن رپورٹ پر فیصلہ کردیں گے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے میڈیکل کالجز کی فیس سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار دیدی۔

سپریم کورٹ کے جسٹس منصورعلی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے میڈیکل کالجز میں فیسوں سے متعلق درخواست پر سماعت کی،دوران سماعت جسٹس منصورعلی شاہ نے سوال کیا کہ میڈیکل کالجز کی فیس پر کون سا قانون لگتا ہے اور فیس کی ریگولیٹری کون کرتاہے؟ سپریم کورٹ ایسے تو کیس نہیں سن سکتا۔

جسٹس محمدعلی مظہر نے سوال کیا کہ آپ نے پاکستان میڈیکل کمیشن سے فیس کے حوالے سے رابطہ کیا؟ اس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میں نے وزیراعظم، صدر مملکت کو میڈیکل فیس کےحوالے سے خط لکھا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پاکستان میڈ یکل ڈینٹل ایکٹ بنایاگیا اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو غلط لیاگیا۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا آپ ریگولیٹری کے پاس جائیں، سپریم کورٹ کا میڈیکل فیس دیکھنےسے متعلق کیاکام؟ ریگولیٹری جب بنا ہوا ہے تو کیا آپ وہاں گئے ہیں؟ کیا ہم کمیشن بنا سکتے ہیں؟ جسٹس محمدعلی مظہر نے کہا کہ یہ آپ کا ذاتی مسئلہ ہے تو ریگولیٹری سے رجوع کریں۔

بعد ازاں عدالت نے میڈیکل کالجز کی فیس سے متعلق درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کردی۔

Leave a reply