نئے کورونا وائرس کے خلاف ویکسین اور دوا کی تیاری میں پیشرفت کی اطلاعات

واشنگٹن :نئے کورونا وائرس کے خلاف ویکسین اور دوا کی تیاری میں پیشرفت کی اطلاعات ،اطلاعات کےمطابق دنیا میں نئے نوول کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے ساتھ اس پر قابو پانے کے لیے ویکسین اور ادویات کی تیاری کا عمل بھی تیز ہوگیا ہے۔

امریکا کی ایک کمپنی موڈرینا Therapeutics نے نئے کورونا وائرس جسے کووڈ 19 کا نام دیا گیا ہے، کے حوالے سے ویکسین تیار کی ، جس کی پہلی کھیپ شپ بھی کردی گئی۔یہ ویکسین اس نئے وائرس کے جینیاتی سیکونس چینی سائنسدانوں کی جانب سے جاری کیے جانے کے صرف 42 دن بعد تیار کی گئی۔

اس ویکسین کی پہلی کھیپ امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹ آف الرجی اینڈ Infectious ڈیزیز (این آئی اے آئی ڈی)، نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کو بھیجی گئی جہاں اس کی انسانی آزمائش اپریل تک شروع ہونے کا امکان ہے۔

این آئی ایچ کے سائنسدانوں کی جانب سے اینٹی وائرل دوا remdesivir کی بھی آزمائش شروع ہونے والی ہے جسے ایبولا کے لیے تیار کیا گیا تھا اور اس کی آزمائش ڈائمنڈ پرنسز میں اس وائرس کا شکار ہونے والے ایک مریض پر کی جائے گی جسے امریکا واپس لایا گیا۔اس نئے وائرس کے شکار ہسپتال میں زیرعلاج دیگر مریضوں کو بھی اس تحقیق کا حصہ بنایا جائے گا۔

خیال رہے کہ اس دوا کی آزمائش چین میں جنوری کے آخر/ فروری کے آغاز میں چین میں شروع ہوئی تھی اور ابتدائی نتائج حوصلہ افزا قرار پائے تھے۔ متعلقہ کورونا وائرسز لے شکار جانوروں میں مثبت رہے ہیں اور سائنسدانوں کے مطابق یہ اس نئے کورونا وائرس کے بلڈ لیول کو برقرار رکھنے میں موثر ہونے کے ساتھ ساتھ اسے پھیلنے میں بھی مدد فراہم کرسکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹر بروس ایلورڈ نے پیر کو بتایا تھا کہ چین میں دورے کے دوران یہ واحد دوا تھی جو نئے کورونا وائرس کے خلاف زیادہ موثر نظر آئی۔

چین کے شہر ووہان میں اس کے 2 ٹرائل ہوئے اور یہ وہی شہر ہے جہاں سے یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا، تاہم ڈاکٹر بروس نے تحقیق کے نتائج مکمل طور پر سامنے نہ آنے کی وجہ سے ٹرائلز میں شامل مریضوں کی تعداد اور دیگرادویات کے بارے میں بات کرنے سے انکار کیا۔

دوسری جانب موڈرینا کی ویکسین ریکارڈ ٹائم میں تیار کی گئی ہے جس کی وجہ ایک نئے جینیاتی طریقہ کار کا استعمال ہے، جس کے لیے زیادہ مقدار میں وائرس کی ضرورت نہیں ہوتی۔اس کے برعکس یہ ویکسین ڈی این اے کے ایم آر این اے (جینیاتی میٹریل) اور پروٹینز سے بھرپور ہے۔کمپنی کے مطابق اس ویکسین کو ایم آر این اے کے ساتھ درست کورونا وائرس پروٹین کے کوڈز سے لوڈ کی گئی ہے جس کو جسم میں انجیکٹ کیا جاتا ہے۔

جسم میں جانے کے بعد لمفی نوڈز میں موجود مدافعتی خلیات ایم آر این اے کو پراسیس کرتے ہیں اور ایسے پروٹین بنانا شروع کردیتے ہیں جو دیگر مدافعتی خلیات کو وائرس کی شناخت اور تباہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔کمپنی کا کہنا ہے کہ ہماری ویکسین جسم کے لیے کسی سافٹ وئیر پروگرام کی طرح ہے، جو پروٹینز تیار کرکے مدافعتی ردعمل بناتی ہے۔تاہم ویکسین کی آزمائش اور پھر انسانوں پر اس کے استعمال کی اجازت میں کئی ماہ کا عرصہ درکار ہوسکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.