میر شکیل الرحمان کے خلاف انسانی اسمگلنگ کا مقدمہ دائر

میر شکیل الرحمان کے خلاف انسانی اسمگلنگ کا مقدمہ دائر

باغی ٹی وی : چھیالیس سالہ ریحانہ بی بی کو جب امریکہ میں ملازمت کی خبر ملی تو وہ خوشی سے بے حال ہو گئیں۔ ان کا خیال تھا کہ اب زندگی نے ان پر نئے رستے کھول دیے ہیں۔ انہیں پاکستان کی ایک نامور فیملی کے قریبی عزیزوں کے گھر میں کام کرنے کی جاب ملی۔

2013 میں وہ امریکہ پہنچیں تو اگلے پانچ برس کیلیفورنیا کے بجائے لاؤڈن کاؤنٹی میں موجود ایک گھر میں پھنسی رہیں جہاں ان کے کام کا کوئی وقت طے نہیں تھا۔

ان کا انٹرویو امریکہ کے بڑے اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہوا ہے۔ ریحانہ بی بی نے بتایا کہ انہیں میر شکیل الرحمان نے اپنی سسٹر ان لا کے گھر کام کرنے کے لیے ہائر کیا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ نے میر شکیل الرحمان اور ان کی اہلیہ سے رابطے کی کوشش کی مگر وہاں سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔سیاست ڈاٹ پی کے کے مطابق ریحانہ بی بی نے امریکی عدالت میں یحییٰ فیملی اور میر شکیل الرحمان کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ میر شکیل الرحمان کے خلاف ہیومین ٹریفکنگ اور یحییٰ فیملی کے خلاف ناروا سلوک کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔

اپنے مقدمے میں انہوں نے بتایا کہ وہ گھر کا کھانا بناتی تھیں، صفائی کرتی تھیں اور تین بچوں کا خیال رکھتی تھیں۔ ریحانہ بی بی کا کہنا ہے کہ ان پانچ برسوں میں انہیں صرف 25 ہزار ڈالرز ملے۔

اپنے مقدمے میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ یحییٰ فیملی کے ایک بزرگ کا فون سننا بھی ان کے فرائض میں شامل تھا۔ یہ بزرگ دن رات مدد کے لیے فون کرتے رہتے تھے۔ ریحانہ بی بی کو ہفتے میں صرف ایک دن نہانے کی اجازت تھی۔ انہیں کہا گیا کہ اس سے زیادہ نہانے سے گرم پانی ضائع ہوتا ہے۔

انہیں گوشت کھانے سے اس بہانے منع کر دیا گیا کہ وہ پہلے سے ہی موٹاپے کا شکار ہیں۔ پاکستان میں ان کی دوبیٹیوں کی شادی ہوئی تو انہوں نے گھر جانے کی اجازت لی مگر انہیں انکار کر دیا گیا۔

ریحانہ بی بی کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی بیٹیوں کی شادی کی ویڈیو بھی نہیں دیکھنے دی گئی۔ اپنی ملازمت کے ابتدائی دو سال انہیں سٹوریج روم میں سونا پڑا جو کیڑے مکوڑوں سے بھرا ہوا تھا۔ بعد میں انہیں تہہ خانے کے فرش پر بستر بچھا کر سونا پڑتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک بار اپنے شوہر سے بات کرتے ہوئے انہوں نے خودکشی کی دھمکی دی۔ یحییٰ فیملی کے وکیل ارل مے فیلڈ نے واشنگٹن پوسٹ سے بات کرتے ہوئے ان الزامات کو غلط قرار دیا ہے۔ مگر یہ تسلیم کیا ہے کہ یحییٰ کے بیٹے نے دو مرتبہ ریحانہ بی بی کو مارا تھا جس پر لڑکے کی سرزنش کی گئی تھی۔

ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ ریحانہ بی بی کی رہائش کو بھی ان کی تنخواہ کا حصہ سمجھا جائے۔ اس کے برعکس ریحانہ بی بی کا کہنا ہے کہ وہ ایک برس کے لیے امریکہ گئی تھیں مگر انہیں غیرقانونی طور پر 5 برس تک وہاں پابند رکھا گیا۔

انہیں کبھی بھی باہر اکیلے نہیں جانے دیا گیا اور انہیں دھمکی دی کہ وہ اگر پولیس کے پاس گئیں تو انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔

پانچ برس بعد ریحانہ بی بی کو ایک اردو بولنے والی خاتون ملی جس نے انہیں یہ ملازمت چھوڑ کر قانون سے مدد طلب کرنے کا حوصلہ دیا۔ 7 دسمبر 2018 کو ریحانہ بی بی یحییٰ فیملی کو چھوڑ کر بھاگیں اور ایک این جی او سے ان کا رابطہ ہوا جو تشدد کا شکار غیرقانونی تارکین وطن کی مدد کرتی ہے۔

ریحانہ بی بی کا کہنا ہے کہ وہ خوفزدہ ہیں کہ اگر وہ پاکستان گئیں تو یحییٰ خاندان ان کا جینا حرام کر دے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.