fbpx

میٹنگ میں جنرل باجوہ نے نواز شریف کو کیا پراسرار پیغام دیا؟ .تحریر: رانا عزیر

گزشتہ روز پاکستان کی تاریخ انتہائی اہم میٹنگ ہوئی جس میں آرمی چیف اور دیگر فوجی حکام سمیت پاکستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت نے شرکت کی۔ یہ میٹنگ چونکہ خفیہ تھی اس لیے اس کے مندرجات کھل کر سامنے نہیں آئے، لیکن جو ذرائع نے بتایا ہے وہ بہت دلچسب ہے، آرمی چیف نے نوازشریف کا ذکر کیا، اور کچھ اہم اشارے دیے جس نے ن لیگ کی کشتی میں بڑاسوراخ کردیا اور لندن میں بیٹھا کاغذی شیر بھی رسوا ہوگیا۔
سیاسی عسکری قیادت میں زیادہ گپ شپ کھانے کی میز پر ہوئی۔ اجلاس میں ماحول اچھا تھا، کسی معاملے پر بھی تلخی نہیں ہوئی،اجلاس میں اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن کے درمیان برف پگھل گئی۔

پہلا سوال مشاہد حسین، دوسرا شہباز شریف اور تیسرا بلاول بھٹو جبکہ تیسرا شاہ محمود نے کیا۔

ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی کو کہا تھا کہ وزیراعظم اجلاس میں نہ آئیں۔حکومت اور فوج ایک ہی پالیسی پر نظر آئے۔سوال جواب کا سیشن طویل ہو گیا جس پر آرمی چیف نے کہا کہ کوئی اعتراض نہیں ، اجلاس بے شک ہفتے کے آخر پر رکھ لیں۔ آپ کے ساتھ ہم کھانا کھائیں گے ناشتہ کرنے کو بھی تیار ہیں۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ لینا ہے۔
آرمی چیف نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور سیکیورٹی صورتحال پر اجلاس کچھ دن بعد پھر بلا لیتے ہیں۔ اجلاس میں آرمی چیف نے لیگی رہنما احسن اقبال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے بیٹے سے نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی میں ملا تھا، رہنما ن لیگ مشاہد حسین نے کہا کہ اپوزیشن بالخصوص مسلم لیگ ن پر ہاتھ ہولہ رکھیں جس پر آرمی چیف سے مسکراتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری بھی ساتھے کھڑے ہیں آپ کے۔
ذرائع کے مطابق کھانے کی میز پر رانا ثناء اللہ اور رانا تنویز بھی آ گئے۔ تو جنرل باجوہ نے کہا کہ میری تو بیوی بھی راجپوت ہے، میرے چھوٹے بیٹے کی منگنی پشتونوں میں ہوئی ہے۔اس کے علاوہ پاکستان کی فوج میں 40 فیصد پشتون ہیں۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی ایم کے ایم این اے علی وزیر کو معاف کر دیں، آرمی چیف نے جواب دیا کہ پاکستانی فوج پر تنقید برداشت نہیں کریں گے۔

لہذا علی وزیر کو بھی معافی مانگنی ہو گی۔مجھ پر تنقید تو نواز شریف اور ایاز صادق نے بھی کی تاہم ہم نے برداشت کی۔اس دوران محسن داوڑ نے اٹھ کر بولنے کی کوشش کی تو اسپیکر نے روک لیا جس پر قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ آپ کھل کر بات کریں۔محسن داورڈ آپ مجھ سے علحیدگی میں بھی ملیں،کبھی آپ کا راستہ نہیں روکا۔آپ الیکشن جیت کر آئے ہیں لہذا آپ کی بات سننے کو تیار ہیں۔
بلاول بھٹو نے آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ علی وزیر کو معاف کردیا جائے جس میں نوازشریف کو بھی گہرا پیغام پہنچا۔ آرمی چیف نے جواب دیا : میری ذات کو گالیاں دیں میں نے کچھ نہیں کہا، جنرل فیض کو دیں خیر ہے لیکن ان لوگوں نے فوج کو گالیاں دیں وہ قابل برداشت نہیں ہے۔ اب اس سے کیا واضح ہوتا ہے؟ جو صحافی دن رات یہ گن گا رہے تھے کہ نواز شریف کی ڈیل ہوچکی ہے، نوازشریف نے فوج کو الٹا لٹکانا تھا اس وجہ سے فوج نے اسے باہر بھیج دیا ان کا ڈراپ سین ہوگیا، پس ثابت ہوا ہے اب اگر نوازشریف وطن واپس آئیں گے، ان کو پاکستان کے ادارے الٹا لٹکانے کے لیے تیار ہیں، اور اس ڈر سے آج کے بعد نوازشریف وطن واپس نہیں آئیں گے اور وہ غدار الطاف حسین کا روپ دھار چکے ہیں۔