fbpx

وزیراعظم عمران خان سے ایرانی صدر کی ملاقات، کھل کرہوئی دوطرفہ بات

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے ایرانی صدر کی ملاقات، کھل کرہوئی دوطرفہ بات ،طلاعات کے مطابق دوشنبے میں وزیراعظم عمران نے کہا ہےکہ 40 سال بعد ا فغانستان میں جنگ کے خاتمے کا موقع ملا ہے۔

تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں وزیراعظم عمران خان اور ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کے درمیان ملاقات ہوئی ، ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات، خطے اور باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم نے ایران میں صدارتی الیکشن جیتنے پر ابراہیم رئیسی کو مبارکباد دی اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط اور وسعت دینے کے لیے ایران کے ساتھ کام جاری رکھنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، تجارت، اقتصادی شعبے اور علاقائی رابطے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

 

 

عمران خان نے اپنے معاشی تحفظ کے ایجنڈے اور پاکستان کی جیو پولیٹکس سے جیو اکنامکس کی طرف تبدیلی پر روشنی ڈالی اور ایرانی سپریم لیڈر کی جانب سے مقبوضہ کشمیر پر ایران کی مسلسل حمایت پر صدر ابراہیم رئیسی کا شکریہ بھی ادا کیا۔

وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران کا منصفانہ اور اصولی موقف کشمیریوں کے حق خود ارادیت کیلئے لڑنے کے لیے طاقت کا ذریعہ ہے۔

انہوں نے پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان میں پاکستان کی اہم دلچسپی پر زوردیتے ہوئے کہا کہ 40 سال بعد افغانستان میں تنازع اور جنگ کو بالآخر ختم کرنے کا موقع ہے۔ افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال کو مستحکم کرنے، انسانی بحران کو روکنے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنا ضروری تھا۔

عمران خان نے کہا کہ استحکام کی کوششوں کو افغان معاشرے کے تمام طبقات کے حقوق اور جامع سیاسی ڈھانچے کے احترام سے تقویت ملے گی۔

عمران خان نے مثبت پیغام رسانی اور تعمیری عملی اقدامات کے ذریعے افغانستان کے ساتھ عالمی برادری کی شمولیت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

وزیراعظم نے ایرانی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی اسی طرح ابراہیم رئیسی نے عمران خان کو دورہ ایران کی دعوت دی۔

دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان اور قازقستان کے صدر کے درمیان ملاقات ہوئی، ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ہوئی، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور عالمی و علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ گیا۔

دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کے فروغ پر بات چیت کی۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!