محبوبہ مفتی کو بھارتی سیکورٹی ادارے کر رہے ہیں ہراساں

محبوبہ مفتی کو بھارتی سیکورٹی ادارے کر رہے ہیں ہراساں

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد جموں و کشمیر میں لگ بھگ 500 سیاسی رہنماوں کو حراست میں لیا گیاتھا۔ ریاستی سیاستدانوں کی طرف سے احتجاج اور اشتعال انگیزی کی توقع کرتے ہوئے ، ان میں سے بہت سے افراد کو اپنے گھروں یا دوسری جگہوں پر نظربند کیا گیا ہے ۔

جموں و کشمیر کی سابقہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی گذشتہ اگست سے گھر میں نظربند ہیں ۔مفتی جو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ بھی ہیں ، نے ٹویٹر کے ذریعے الزام لگایا ہے کہ انہیں خصوصی سیکیورٹی گروپس کی طرف سے ہراساں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے ایس ایس جی ، کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) اور انٹلیجنس بیورو (آئی بی)کی نگرانی کرنے کا بھی ذکر کیا۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ سری نگر میں ایس ایس جی ، آئی بی اور سی آئی ڈی میری مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔ کاش وزارت داخلہ اپنے وسائل کو زیادہ اہمیت کے حامل معاملات پر مرکوز کرے ۔ مجھ جیسی خواتین کو ڈنڈے مارنے کے لئے ٹیکس دہندگان کا پیسہ کیوں ضائع کیا جائے؟ کشمیر میں غیر قانونی طور پر نظربندی کے بعد ، اب مجھے ایس ایس جی کے ذریعہ ہراساں کیا جارہا ہے جو میری سرگرمیوں کی رپورٹ وزارت داخلہ کو رپورٹ کرتا ہے۔ میرے حق رائے دہی کو سیکیورٹی اینڈ سیفٹی کی آڑ میں کم کیا جائے گا۔ میں پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کے بغیر یقینی طور پر زیادہ محفوظ ہوں۔

محبوبہ مفتی نے پارٹی وفد سے ملنے سے انکار کیوں کیا؟

التجا مفتی کی ایک ٹوئٹ میں مطابق کشمیر کی جیلوں میں قید بھارت نوازسیاسی رہنماﺅں کو مودی حکومت نے دھمکی دی ہے کہ وہ خاموش رہیں۔ اگر انھوں نے اپنی نظر بندی کو عدالت میں چیلنج کیا تو ان پر پبلک سیفٹی ایکٹ یعنی پی ایس اے لگایا جائے گا۔

التجا کے اس ٹوئٹ کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کے کسی بھی بھارت نواز سیاستدان نے ابھی تک عدالت سے رجوع نہیں کیا اس لیے التجا کی ٹوئٹ کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ بھارت نواز سیاستدان 5اگست سے نظربند یا قید ہیں۔

پنڈتوں کے کشمیر چھوڑنے کی وجہ محبوبہ مفتی نے بتا دی

دریں اثناء نیشنل کانفرنس کے رہنما فاروق عبداللہ 5 اگست سے گھر میں نظر بند ہیں۔ جب تامل ناڈو میں ایس ڈی ایم کے لیڈر وائیکو نے سپریم کورٹ میں ان کی رِہائی کے لیے درخواست دائر کی تو قابض انتظامیہ نے فاروق عبداللہ کے خلاف پی ایس اے لگا دیا۔

التجا جاوید کو اپنی ماں محبوبہ مفتی سے ملنے کی اجازت مل گئی

اسی سرح انگریزی ویب سائٹ ’دی ٹیلی گراف‘ نے جیل میں بند ایک سیاسی لیڈر کے بیٹے کے حوالے سے بتایا کہ انھوں نے ظلم کے ڈر سے عدالتوں میں درخواست دائرنہیں کی۔ اگر ہم عدالت میں اپیل کرتے ہیں تو میرے والد کو طویل مدت تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.