شہنشاہ غزل مہدی حسن کی خستہ حال قبر حکومت کی توجہ کی منتظر

کراچی(کلچرل رپورٹر):غزل کو امر کردینے والے شہنشاہ غزل مہدی حسن کی آخری آرام گاہ کچراکنڈی میں تبدیل فنکار ہمیشہ سے ہی حکومتی عدم توجہی کا شکار رہے ہیں،زندہ رہے تو کسمپرسی اور لوگوں کی بے حسی کا شکار ہوئے اور مر کر بھی قرار نہ پاسکے
مہدی حسن کے بغیر غزل کی تاریخ ادھوری ہے،50کی دہائی میں جب غزل معدوم ہونے کو تھی تب مہدی حسن نے ہی اس میں نئی روح پھونکی-

باغی ٹی وی :دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کرنےوالے غزل سمراٹ مہدی حسن خان نے چاردہائیوںتک ملک کی خدمت کی مگر آج ان کی قبر کی حالت زار دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ہر طرف گندگی کے ڈھیر ہیں اور خستہ حالی کے باعث قبر کی نشاندہی بھی بمشکل ہوپاتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق غزل،گیت گائیکی میں صف اول کے کلاسیکل گائیک استاد مہدی حسن خان پاکستان کے ماضی کے معروف و مقبول اور شہنشاہ غزل کے نام سے مشہور گلوکار مہدی حسن کی قبر کچر کنڈی میں تبدیل ہو گئی ۔شاعر نے اس کی خوب عکاسی اپنے اشعار میں کی ہے کہ
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیںگے
مرکے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیںگے


1950کے قریب جب غزل معدوم ہورہی تھی تب مہدی حسن نے اپنی جادوئی آواز اور کلاسیکل تربیت سے لوگوں پر ایسا سحر طاری کیا کہ لوگ آج تک ان کے سحر سے نہیں نکل سکے اور مہدی حسن جو کام کرگئے ایسا فنکار صدیوں میں ایک بار ہی پیدا ہوتا ہے۔فنکار ہمیشہ سے ہی کسمپرسی اور معاشرے کی عدم توجہی کا شکار رہتا ہے اگر زندہ ہو تب بھی ان کیلئے گزربسر مشکل سے مشکل تر ہوتا ہے اور بیماری کی حالت میں بھی لوگوں سے پیسے مانگ کر اپنا علاج معالجہ کرواتے ہیں۔

اپنے آخری دنوں میں مہدی حسن بھی کسمپرسی کا شکار رہے اور لوگوں کی امداد سے اپنا علاج جاری رکھا اور جب اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے تو لوگوں نے اور نہ ہی حکومت نے ان کی طرف کوئی دھیان دیا اور آج ان کی قبر کچراکنڈی کا منظر پیش کرتی ہے اور انکی آخری آرام گاہ کی پہچان تقریباً ناممکن ہوچکی ہے ۔

یاد رہے کہ مہدی حسن کا نام گائیکی کی دنیا کا ایک معتبر نام ہے ان کے پس منظر کی بات کی جائے تو چار دہائیوں تک فلم ،ٹی وی اور ریڈیو میں اپنی مسحورکن آواز کا جادو جگانے والے مہدی حسن 1927 میں بھارتی ریاست راجستھان کے علاقے لونا میں پید اہوئے۔ مہدی حسن کا تعلق موسیقی کے اس بڑے گھرانے سے تھا جس کی کئی پشتوں نے موسیقی کی خدمت کی۔

مہدی حسن نے 1956 میں ریڈیو پاکستان سے گائیکی کا آغاز کیا 1962 میں فلم فرنگی کے گیت گلوں میں رنگ بھرے بادِ نور بہار چلے مہدی حسن کی پہلی مشہور غزل تھی۔ مہد ی حسن کے گائے ہوئے گیت، غزلیں اور قومی ترانے آج بھی شائقین موسیقی کی سماعتوں میں گونج رہے ہیں۔

انھوں نے 365 سے زائد فلموں میں اپنی مدھر آواز کا جادو جگایا۔فلمی صنعت میں ان کی آواز کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔

مہدی حسن نے 25 ہزار سے زائد،گیت اور غزلیں ریکارڈ کراکے ایک تاریخ رقم کی۔ شعبہ موسیقی میں غیر معمولی خدمات پر مہد ی حسن کو صدارتی تمغہ۔برائے حسن کارکردگی تمغہ امتیاز،ہلال امتیاز اس کے علاوہ ہندوستان کی طرف سے کے۔ ایل سہگل اور نیپال میں گورکھا دک شینا باہو ایوارڈ سے نوازا گیا۔

مہدی حسن نے اپنے والد اور سرپرست استاد عظیم خان سے تربیت شروع کی ، ابتدا میں ان کا نام اسماعیل خان تھا۔ بچپن میں ، وہ کمزوراور شدید بیمار رہا کرتے تھے ، اور بہت سی دعاؤں کے بعد ، وہ 8 محرم کو صحتیاب ہوئے ، جس کے بعد اس کا نام مہدی حسن رکھ دیا گیا۔

شہنشاہ غزل کے چاہنے والے نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ ساری دنیا میں موجود ہیں اور جہاں غزل گائی اور سنی جاتی ہے وہاں ان کی مدھر آواز کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ ان کا گیت اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا اتنا مشہور ہوا کہ یہ گیت آج بھی زیادہ مشہور گانوں میں شمار ہوتا ہے۔

استاد مہدی حسن فن موسیقی کے بے تاج بادشاہ تھے جن کے بارے میں میڈم لتا منگیشکر نے کہا تھا کہ انکے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔ انہوں نے جس شاعر کو بھی گایا اسے امر کردیا۔ غالب، میر تقی میر اور فیض احمد فیض کے علاوہ مہدی حسن نے اپنے عہد کے کئی شاعروں کا کلام گایا۔

غزل گانے میں تو انہیں ملکہ حاصل تھا ہی لیکن انہوں نے گانے کی تمام اصناف میں طبع آزمائی کی۔ کئی فلمی گیتوں کے علاوہ ہیر وارث شاہ بھی روایتی انداز سے ہٹ کر گائی۔ ان کا تعلق راجستھان سے تھا اسکے باوجود انہیں اردو اور پنجابی گیت گاتے ہوئے تلفظ کی ادائیگی میں کبھی دشواری پیش نہیں آئی۔ وہ پاکستان اور بھارت میں بیک وقت مقبول تھے۔

گائیکی کے میدان میں بام عروج پر پہنچنے کی طویل جدوجہد کے بعد مہدی حسن فالج، سینے اور سانس کی مختلف بیماریوں کا شکار ہوگئے اور طویل علالت کے بعد 13 جون 2012ء کو کراچی میں خالق حقیقی سے جا ملے۔


پاکستان کو موسیقی کے میدان میں دنیا بھر میں شہرت دلانے والے اس عظیم گلوکار کی خستہ حال قبر آج حکومت کی توجہ کی منتظر ہے وہ گلوکار جن کا نام پوری شان و شوکت سے عالمی سطح پر گونجتا تھا آج اس گلوکار کی قبر کے ارد گرد کچرے کا راج ہے-

سوشل میڈیا پر ایک ویڈو گردش کر رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مہدی حسن کی قبر کے چاروں طرف جا بجا کچرے کے ڈھیر ہیں نہ صرف قبر کے اردگرد کچرے کے ڈھیر ہیں بلکہ قبر پر بنایا گیا مقبرہ بھی خستہ حالت ہے قبر کی یہ حالت حکومت پاکستان اور سندھ حکومت کی غفلت اور معاشرے کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے-

وہ مداح جو عظیم فنکار کو ایک نظر دیکھنے اور ملنے کے لئے ترستے تھے قبر کی یہ حالت ان لوگوں اور مداحوں کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.