مہنگائی کا یہ عالم کہ ایک سستا بازار بھی عوام کی پہنچ سےدور ہونے لگا

مہنگائی کا یہ عالم کہ ایک سستا بازار بھی عوام کی پہنچ سےدور ہونے لگا

باغی ٹی وی :ایک سستا بازار بھی عوام کی پہنچ سےدور ہونے لگا مہنگائی نے لنڈے بازار میں بھی مستقل ڈیرے ڈال لئے، جوتوں، جیکٹوں اور سویٹرز کے علاوہ دیگر استعمال شدہ اشیا کی قیمتوں میں 30 سے 60 فیصد تک اضافہ ہو گیا جس کے سبب خریداروں کا رش ہونے کے باوجود خریداری نہ ہونے کے برابر ہے۔

یوں تو ہرموسم میں ہی لنڈا بازار شہریوں کی بڑی تعداد کے لیے بڑا سہارا ہوتے ہیں لیکن تن ڈھانپنے کے لیے سردیوں میں لنڈے بازاروں کا رخ کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ یہ عالم اِن دنوں بھی دکھائیدے رہا ہے لیکن اکثریت خریداری کے بغیر ہی یہاں سے واپس لوٹ رہی ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق استعمال شدہ جوتوں، جیکٹوں، کوٹ اور دیگراشیاکی قیمتوں میں 30 سے 60 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ اچھا کوٹ 4 سے 6، جوتے 200سے 500، جیکٹیں 2 سے 3 سو روپے کے درمیان فروخت ہورہے ہیں۔ اِسی تناسب سے دیگر اشیا کے نرخوں میں بھی بہت اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔یہ صورت حال اُن کے لیے بھی تشویش کا باعث ہونی چاہیے جن کے نزدیک مہنگائی ابھی بھی بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے.
ملکی اداروں میں کرپشن بدعنوانی اور سست روی نے کاروباری طبقے کو شدید مشکلات سے دوچار کررکھا ہے۔ان خیالات کا اظہارپاک چائنہ بزنس کمیونٹی کے چیئرمین حاجی فدا حسین نے ایک بیان میں کیا۔

کہا ہے کہ چینی آٹا ادویات جیسی بنیادی ضروریات زندگی مافیاز کے رحم و کرم پر ہیں۔ غریب آدمی کی زندگی مہنگائی اور بے روزگاری نے اجیرن کردی ہے۔ حکومت عوام کو ریلیف دے بنیادی ضروریات زندگی کے نرخ کنڑول کئے جائیں۔ مافیاز کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جو زندہ انسانوں کو نگل رہے ہیں۔ کرونا کی اس نئی لہر سے بچنے کیلئے حکومت موثر اور پائیدار حکمت عملی تشکیل دے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.