fbpx

محنت کشوں کے شب و روز اور ہمارا معاشرہ تحریر: فجر علی

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

وطن عزیر میں قانون سازی کی حد تک حکومتوں نے محنت کشوں اور مزدوروں کے حقوق کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دے رکھی ہیں تاہم محنت کشوں کا معیار زندگی بہتر بنانے اور ان کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے آج تک ان قوانین پر عملدرآمد کے لیے سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔
ہمارے ملک میں کارخانوں ، فیکٹریوں اور مختلف اداروں میں یومیہ اجرت اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والے محنت کش لوگ جن کے خون پسینے سے قومی ادارے اور صنعتیں چل رہی ہیں کے حالات دگر گوں ہیں۔ متعدد محنت کش گھرانوں کو روٹی ، کپڑا اور مکان جسی بنیادی ضروریات بھی دستیاب نہیں ہیں۔ صحت اور تعلیم کی سہولیات تو ان کی پہنچ سے دور ہیں ہی پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں۔
دنیا میں کون سا ایسا ذی روح ہوگا جس کو زندگی سے پیار نہیں ہوگا یا اس کے دل میں بہتر انداز میں زندگی بسر کرنے کی خواہش نہیں ہوگی۔ کوئی ایسا انسان نہیں ہوگا جو اپنے بچوں کو اعلیٰ مقام پر نہ دیکھنا چاہتا ہو۔ ہر انسان کی یہی چاہت ہوتی ہے کہ اللّٰہ کی تمام نعمتیں اور دنیا کی ساری آسائشیں اس کی اولاد کو میسر ہوں اور اس کی اولاد کا مستقبل روشن ہو۔ ایسی ہی خواہشات محنت کش اور مزدور طبقہ کے افراد بھی رکھتے ہیں۔ مزدور و محنت کش کبھی نہیں چاہتے کی جن مسائل و آفات کا سامنا وہ کر رہے ہیں کل کو ان ہی حالات سے ان کی اولاد دوچار ہو۔
لیکن بد قسمتی میں پاکستان میں طبقاتی نظام اور انصاف و مساوات کی عدم فراہمی کے باعث غریب و متوسط طبقہ دن بدن غربت و مسائل کے دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے اور طبقہ اشرافیہ دن بدن پھل پھول رہا ہے۔ یہاں کسی کی محنت کا پھل کوئی غاصب کھا رہا ہے اور محکوموں کے سروں پر حکمرانی بھی کی جارہی ہے۔ معاشی ناہمواریوں کے باعث محنت کش و مزدور آئے روز بیروزگاری کا شکار ہوکر بھوک و افلاس کے ڈر سے اپنے بچوں کو دریائوں میں پھینکنے جیسے غیر انسانی افعال پر مجبور ہیں۔خوراک کی کمی اور علاج سے محرومی کے باعث اپنے پیاروں کو تڑپ تڑپ کر موت کے منہ میں جاتا دیکھ رہے ہیں اور کسمپرسی کی زندگی کے باعث کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔
جس معاشرہ میں ہم رہ رہے ہیں کہنے کو تو مسلم معاشرہ ہے لیکن یہاں غرباء سے غیر انسانی اور امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ معاشرہ میں غربت اور تنگ دستی کے باعث مزدوروں اور محنت کشوں کی خود کشیاں باعث شرم و حزیمت ہیں۔ غربت ، بیروزگاری اور تنگ دستی دنیا کے تمام ممالک میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے لیکن وہاں قوانین پر عملدرآمد اور مخلصانہ حکومتی کوششوں کے باعث ناامیدی اور مایوسی نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے اور طبقاتی نظام کے باعث مایوسی اور ناامیدی جیسے حالات ہیں جو پوری قوم کے لیے باعث تشویش ہیں۔ یہ ناامیدی اور مایوسی ہمارے مستقبل کا گلا دبوچے ہوے ہے۔
حالیہ بجٹ میں صوبائی و وفاقی حکومتوں نے مزدوروں کی کم سے کم اجرت میں اضافہ کا اصولی و قابل تعریف فیصلہ کیا ہے۔ لیکن مختلف اداروں اور کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور عملدرآمد کے منتظر ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ طبقاتی نظام کے خاتمے اور نچلے طبقات کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے ہم سب کو آواز اٹھانی ہوگی۔ حکمرانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنا ہوگا۔ مافیاز اور اشرافیہ کے خلاف بغاوت کرنی ہوگی۔

اٹھو! مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ امرا کے در و دیوار ہلا دو
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

@FA_aLLi_