fbpx

محض بچوں کا کھیل، از راقم جواد احمد

بلاگ: محض بچوں کا کھیل، راقم جواد احمد
مجھے اچھی طرح یاد ہے جب 9/11 کا ڈرامہ رچایا گیا تو کچھ خنزیر ممالک نے طاقت اور قوت کے بل بوتے پر "عیسائیت کی جنگ” کے نعرے تلے پوری دنیا کو لا کھڑا کیا۔ نیٹو کی فوج ، یورپ ، یہودی ،عیسائ، ہندو سب بدمست ہاتھی بنے ،غراتے ہوئے افغانستان آ پہنچے کہ "یہ بچوں کا کھیل” ہے اور چند دن کی تو بات ہے. کسی سے پیسے مانگے تو کسی سے لاجسٹک سپورٹ، کسی کو آنکھیں دکھائیں تو کسی کو کیے ہوئے فون کام آ گئے کہ پتھر کے زمانہ میں دھکیل دیں گے۔ ہمارا پاکستانی ایمانی لیول اس قدر بلند تھا ” کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ، دنیا کے ساتھ چلنا پڑنا ہے” کے راگ الپتے پھرتے اس نعرے تلے جا کھڑے ہوئے۔
پھر یکایک بڑے حملے ،خطر ناک ڈیزی کٹر بم ، جنگی طیاروں کی کارپٹ بمبنگ اور سقوط کابل ہو گیا بظاہر امریکہ اور اتحادیوں کو فتح نصیب ہوئی۔۔ کہا تھا نا کہ ” یہ بچوں کا کھیل ہے” جہاد دہشت گردی اور مجاہد فسادی بن گیا۔ داڈھی مذاق اور ٹوپی والا برقعہ وحشت کی علامت ٹھہری اور خون مسلم سستا ہو گیا۔اسی سستے دور میں انڈیا نے 14 سفارت خانے یہ سوچ کر بنا لئے کہ یار یہ تو واقعی "بچوں کا کھیل ہے اور چند دن کی بات ہے” افغانستان کو گراؤنڈ سمجھ کر میدان میں ہنستے مسکراتے بچوں کو باہر نکال دیا گیا۔ اور ساتھ ہی پوری دنیا میں منادی کروائی گئی لو بچوں کا کھیل ختم کردیا گیا۔
مگر ۔۔۔۔۔۔ مگر یہ کیا نیو یارک ٹائمز تو کچھ اور ہی دعوہ کر رہا ہے ( مجھے نیو یارک ٹائمز کے اس بیان نے تحریر لکھنے پر مجبور کیا)

آج کے بچے کہاں جلدی بات ماننے والے ہوتے ہیں۔گھر میں آئیے زیادہ مہمان دیکھ کر وہ سب چپ تو سادھ گئے مگر ضد کی ٹھان لی کی ایڑیاں رگڑیں گے اور اپنا گراؤنڈ واپس لیں گے۔ اب ضدی بچوں سے اپنی بات منوانا کس قدر مشکل کام ہے اس بات کا اندازہ راقم کو بھی خاصا ہے اور قارئین کو بھی۔ ہمارا گراؤنڈ پر قبضہ کیوں کیا یہاں سے کام خراب ہو گیا اور شروع ہوگئی بچوں کی ضد ۔۔۔۔ ضدی بچے گھر میں گھسے مہمانوں کے ناک پر ایسے چڑھ کے ناچے کہ اپنی بات منوا کر ہی دم لیا۔ انگلی کے اشاروں سے حکم دینے والے پہلے بات کرنے پر مجبور ہوئے۔پھر بچوں کو اوے سے آپ سے مخاظب کرنے لگے اور پھر سنا کہ اپنے پاس اور ساتھ بیٹھانے پر بھی راضی ہو گئے اورجب بچے کسی صورت نہ مانے تو بولے اچھا بابا جو چاہو لے لو بس ہماری ناک سے اترو۔اگر کسی کو یقین نہ آئیے تو امریکہ کے معتبر ترین میگزین کی رپورٹ دیکھ سکتا یے

نیویارک ٹائمز میگزین نے اپنی کور سٹوری میں واضح طور پر لکھا ہے۔۔۔
# امریکہ باقاعدہ اپنی جنگ ہار چکا ہے اور طالبان کا پلا بھاری ہے
#ماہانہ 3000 اموات کا سامنا امریکہ اور حواریوں کو کرنا پڑ رہا ہے۔
#گزرتے وقت کے ساتھ اتحادی فورسز جلد از جلد اپنی چیک پوسٹس خالی چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں
# امریکہ احساس کمتری کا شکار نظر آتا ہے اور اس وقت فیصلہ سازی کی پوزیشن کھو چکا ہے
# فوج کے انخلا میں امریکہ کو جلدی جبکہ طالبان کو اطمینان ہے
# جنگ ہارجانے کے سبب امریکہ کی بات منوانے کی سکت ختم ہو چکی ہے
مجھے نیو یارک ٹائمز کے اس بیان نے تحریر لکھنے پر مجبور کیا کہ طالبان امریکہ جیسی طاقت سے نبز ازما ہو جانے کہ بعد اب افغان اتحادیوں سے نبٹنا محض "بچوں کا کھیل سمجھتے ہیں”

راقم جواد احمد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.