fbpx

میرا شہر آج تک پسماندہ کیوں تحریر: محمد ابراہیم

میں ضلع ڈیرہ غازی خان کے حلقہ پی پی 287 ( این اے 190) کا رہائشی ہوں۔ میرے حلقہ میں آج بھی پینے کا صاف پانی بہت سے علاقوں میں نہیں ہے۔ میرے حلقہ میں آج بھی بہت سے علاقوں میں لڑکیوں کا سرکاری سکول نہیں۔ میرے حلقہ میں آج بھی بنیادی صحت کی سہولت موجود نہیں۔ میرے حلقہ میں آج بھی کئی علاقوں میں بجلی موجود نہیں۔ میرے حلقہ کے بہت سے علاقوں میں گیس موجود نہیں۔ میرے بہت سے علاقوں میں امن و امان کی حالت بہت خراب رہتی ہے۔ میرے وسیب میں آج بھی بہت سے سرکاری محکموں میں رشوت اور سفارش عروج پر ہے۔ وغیرہ وغیرہ
آخر میرا وسیب آج تک اتنا پسماندہ کیوں ہے؟ آئیے کچھ تاریخ پر مختصر روشنی ڈالتے ہیں جس سے ہمیں شاید کچھ باتیں واضح ہو سکیں۔
ہمارے وسیب کی تاریخ کا ذرا جائزہ لیں تو اس حوالے سے بہت کچھ ملے گا لیکن ایک بات جو واضح ہے کہ سردار/وڈیرہ نظام عرصہ دراز سے قائم و دائم ہے۔ اس حوالے سے وسیب میں تمن داری نظام کو دوام حاصل رہا جس کے اثرات آج تک نظر آتے ہیں۔ اس سردار/وڈیرہ نظام کو مضبوط کرنے میں ہر برادری کے چند بڑوں (مالی حیثیت سے مضبوط) نے اپنا کردار ادا کیا۔ جو برادری کے نام پر لوگوں کو اکٹھا کر کے زیادہ تر اپنے لیے مفادات لیتے رہے اور اپنے من پسند سردار/وڈیرہ کو ہمیشہ خوش رکھتے رہے اور انھیں سیاسی طور پر مضبوط کر کے اسمبلیوں میں بھیجتے رہے جس کا سلسلہ ہمارے حلقہ میں آج بھی جاری ہے۔اس نظام نے سردار/وڈیروں اور برادری کے چند بڑوں کو تو فوائد دیئے لیکن 99۔99 فیصد عام طبقہ بنیادی سہولتوں کو ترستا رہا جو آج کے دور میں بھی جاری و ساری یے۔ جس کی مثال ہمارے وسیب کی پسماندگی سب کے سامنے ہے۔
کیا ہمارے وسیب کے کسی شخص نے اس سے پہلے اس نظام کے خلاف کبھی بغاوت نہیں کی؟ بالکل ایسا نہیں ہے۔ اس حوالے سے کئی لوگوں کی مثالیں موجود ہیں۔

اس حوالے سے جس شخصیت نے خاص طور پر اس سردار/وڈیرہ نظام کو ختم کرنے کے لیے حقیقی جدوجہد کی وہ 1970 میں ڈاکٹر نذیر احمد شہید تھے۔ یاد رہے وہ پیشے کے لحاظ سے ایک حکیم تھے اور ایک مشہور ومعروف سماجی شخصیت تھے۔ وہ جماعت اسلامی کے اہم کارکن و رہنما تھے۔ 1970 کے انتخابات میں حلقہ این ڈبلیو 88 ڈی جی خان 1 سے انھوں نے ہمارے حلقہ سے سردار/وڈیروں اور بڑے ناموں کو شکست دی تھی۔ ان میں ایک طاقت ور سردار محمد خان لغاری مرحوم ( والد سابق صدر پاکستان فاروق احمد خان لغاری) تھے۔ اس دور میں ہمارے وسیب کی عوام نے نے ان سردار اور خواجگان کے مقابلہ میں اس عام طبقہ کے سماجی کارکن کو جماعت اسلامی ٹکٹ پر منتخب کروایا۔ یاد رہے میری معلومات کے مطابق وہ جس سیٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے تھے وہ سیٹ رمک سے روجھان تک پھیلی ہوئی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے انھیں جلد قتل کروا دیا گیا جس کا خمیازہ آج تک ہمارا وسیب بھگت رہا ہے اور یوں سردار/وڈیرے اس کے بعد مسلسل اقتدار میں آتے رہے ہیں جو سلسلہ آج تک تھم نا سکا۔
اسی طرح 1970 کے الیکشن میں منظور احمد لنڈ نے بھی پی این ڈبلیو 88 پر پی پی پی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور سردار/وڈیرہ نظام کے خلاف اپنی بھرپور مزاحمت کی۔

اور اس کے علاوہ بھی کچھ عام طبقہ کے لوگوں نے اپنی سکت کے مطابق کوشش کی جن میں ایک نام ظفر خان بلوچ مرحوم کا ہے جنھوں نے سردار/وڈیروں کے خلاف کافی جدوجہد کی۔ وہ کبھی جیت تو نا سکے لیکن سیاسی حوالے سے سردار/وڈیروں کا خوف کسی حد تک کم کر گئے۔
پھر جنرل الیکشن 2013 میں حلقہ پی پی 242 سے پی ٹی آئی ٹکٹ پر ایک عام طبقہ کے جوان عطاء اللہ خان کھوسہ صاحب نے الیکشن لڑا۔ حالانکہ وہ الیکشن ہار گئے لیکن انھوں نے جس طرح محنت کی اور نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے اس سردار/وڈیرہ نظام کے خلاف جد وجہد کی وہ لائق تحسین ہے جس کے ثمرات آج تک نوجوان قیادت میں موجود ہیں اور وہ اب اپنی سکت کے مطابق کوشش کر رہے ہیں۔ سردار/وڈیرہ نظام کس طرح کام کرتا ہے اور کتنا مضبوط ہے

Twitter , @IbrahimDgk1