fbpx

میرا تجربہ (پارٹ ٹو) تحریر: ہما عظیم

زندگی پرسکون گزر رہی تھی۔۔ ایک دن کولیگ سے اپنی اسکول اور کالج لاٸف کی خوبصورت یادیں تازہ کر رہی تھی۔۔۔اسے بتایا کہ میں کالج لاٸف میں ایک شارٹ اسٹوری راٸٹر ، کالم نگار تھی اور ہلکی پھلکی شاعری بھی کرتی تھی۔۔۔اور اپنے کالج میگزین میں لکھتے ہوۓ بیسٹ اسٹوری راٸٹر ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہوں۔۔وہ مجھے بے یقینی سے دیکھنے لگی کامرس کی اسٹوڈنٹ اور ادب سے شغف۔۔یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔اسکی شک بھری نظروں کو دیکھتے ہوۓ۔۔ثبوت کے طور پر اگے دن اپنی میگزین میں چھپی ایوارڈ لیتے ہوۓ کی تصویر بھی دیکھا دی۔۔تب اس نے بتایا کہ اس کے کزن ایک میگزین چلاتے ہیں۔۔ان سے بات کرتی ہوں انہیں تم جیسوں لکھاریوں کی ضرورت رہتی ہے۔
سو اس نے مجھ سے میگزین لے لیا۔۔جلد ہی میٹینگ سیٹ ہوٸی۔۔اور ہم ایک جانے مانے میگزین کا حصہ بن گۓ۔۔ایک اہم پیج کی زمہ داری سونپی گٸی۔۔شوق بہت اچھا پورا ہو رہا تھا ۔۔۔مشہور لوگوں سے انٹرویو لینے ٹیم کے ساتھ جانے کو ملتا ایسے میں اپنے پسندیدہ لوگوں سے ملاقات۔۔لگتا کہ اللہ تعالہ فل مہربان ہیں
پھر ایک دن میگزین سے جڑے لوگوں کی میٹینگ تھی
عموماً تمام میٹینگز دن میں رکھی جاتی تھیں۔۔مگر کچھ خاص لوگوں کے ٹف شیڈول کی وجہ سے میٹینگ رات میں رکھی گٸی۔اب چونکہ رات گھر سے باہر کی اجازت نہیں تھی۔۔تو پاپا جی سے درخواست کی اکیلے تو جانے نہیں دیں گے۔خود ہی ساتھ چلیں تا کہ میرا ساتھ بھی ہو جاۓ اور میں میٹینگ میں بھی شریک ہو سکوں۔بس وہ لاسٹ ڈے لاسٹ ناٸٹ ہو گٸی اس میگزین میں۔۔پاپا جی نے شرکا پر نظر ڈالی اور غصے سے میری طرف دیکھا۔۔کٸی ماڈلز اور ایکٹریسز اپنے لباس کی وجہ سے پاپا جی کہ غصے کی وجہ بن گٸی۔۔
پاپا جی اگلے دن ہی گۓ میرے تمام مسودے تمام میگزین ایڈیٹر سے یہ کہہ کر واپس لے آۓ۔۔یہاں کا ماحول مجھے پسند نہیں۔۔میں نے کہا میں تو حجاب میں رہتی ہوں مجھے کیا فرق پڑتا کوٸی کیا پہنے۔تو پاپا نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ ماحول بندہ بدل دیتا ہے۔۔ہم اپنا سا منہ لے کر رہ گۓ۔بعد میں بس کولیگ اور اس کے کزن سے سوری کہہ دیا۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔اسکے بعد چند دن بعد ہی ہم ایک انگلش انجینٸرنگ میگزین میں جاب حاصل کرنے میں کامیاب ہو گٸے۔۔۔مگر یہاں سب کچھ مختلف تھا۔باس ایک شفیق انسان تھے۔۔لڑکیوں کا اسٹاف۔۔بہترین ماحول۔ انہونی بات یہ ہوٸی پاپا جی نے باس سے میٹینگ کے بعد جاب اوکے کی۔میرے انٹرویو کےبعد پاپا جی نے بھی باس کا انٹرویو کیا پورا ایک گھنٹہ۔۔مجھے لگا بیٹا یہ جاب بھی گٸی ہاتھ سے۔۔باس کہیں گے جاب میں نےتمہیں دینی ہے یا باس کی جاب تم نے مجھے دینی ہے۔۔مگر یہاں پھر انہونی ہوٸی باس میرے آۓ اور بولو۔ بیٹا آپکے پاپا کے خدشات درست ہیں۔۔ ان شاء اللہ آپ یہاں خود کو محفوظ محسوس کریں گی۔۔اور واقعی باس نے اس بات کو ثابت کیا۔
بیٹیوں کی طرح حفاظت رکھی۔سات سال میں اس جریدے کے ساتھ منسلک رہی۔جو شروع کی جاب تلاش کرنے کی تکالیف والی باتیں تھیں۔۔سب کا آزالہ ہو گیا
حقیقت میں ایک اچھی نوکری کی تلاش ایک اچھے رشتے کی تلاش جیسی ہی مشکل ہے۔۔آپ کو نہیں پتہ ہوتا آپ جن لوگوں میں جارہے ہیں وہ کیسے ہیں۔مگر فرق یہ ہے کہ نا پسندیدگی پر آپ باآسانی استعفی دیکر جان چھڑا سکتے ہیں۔۔آج کے دور میں ایک مجبور لڑکی کا نوکری کے لٸیے نکلنا کھلے ہوۓ بھیڑیوں کے بیچ سے گزرنا ہے۔۔ہر طرف بھوکے حوس کے مارے بیٹھے ہوتے ہیں۔ایسے میں کسی ایک نیک انسان کا مل جانا کسی نعمت سے کم نہیں۔اور ہوتے ہیں ایسے لوگ بھی جو کسی کی مجبوری کا فاٸدہ نہیں اٹھاتے بلکہ ان کی پریشانی دور کر کے اللہ سے صلے کی امید رکھتے ہیں۔۔ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے تو دنیا اب تک برقرار ہے۔۔آخر میں پھر سے دعا ہے۔۔اللہ پاک اچھے اور نیک لوگوں سے ملاۓ۔۔بروں سے بچاۓ۔۔آمین

@DimpleGirl_PTi