fbpx

میری افواج میرا فخر ازقلم: محمد عبداللہ گِل

میری افواج میرا فخر
ازقلم:-
محمد عبداللہ گِل
پاکستان اسلامی ممالک کی فہرست میں ایک خاص اہمیت رکھتا ھے بلکہ آپ اگر یہ کہ لے کی اسلامی ممالک کے دفاع کے لیے کوشاں ہے اور ہر اس ملک کا ساتھی ہے جو مظلوم ہو اور مسلمان ہو۔البتہ چند مشکلات کی بنا پر اس طرح مدد نہیں کر سکتے جس طرح حق ہے لیکن باقی ممالک سے بہتر طور پر نظریہ اسلام اور نظریہ جہاد کا داعی ہے۔پاکستان کا مسلم امہ کے حوالے سے مضبوط موقف صرف و صرف ہماری بہترین فوج اور اول درجہ کی دفاعی ایجنسی آئی ایس آئی کی بدولت  ہیں۔

اب اگر آپ تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لے تو ایک زمانہ تھا جب اسلامی ممالک میں طاقتور افواج مصر،شام،لیبیا،عراق،پاکستان اور ترکی تھی۔لیکن ہمارے دشمن نے حربہ إستعمال کرتے ہوئے مصر،شام، لیبیا اور عراق کی افواج کی افادیت کو ختم کروا دیا۔اس کی وجہ ایک ہی تھی جو کہ پروپیگنڈہ ہے۔اس کے بعد اب آج کی تاریخ میں اسلامی ممالک میں دو ہی فوجیں ہیں ایک ترکی کی اور دوسری پاکستان کی۔دشمن کی یہ چال ہے کہ کسی نہ کسی طرح افواج پاکستان اور عوام پاکستان کو ایک دوسرے کے مخالف کیا جائے کیونکہ ہمارے بزدل دشمن مغرب اور اسرائیل کو پتہ ہے کہ جب بھی جنگ ہوئی تو عوام پاکستان نے بغیر کوئی تاخیر کیے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جانا ہے جو کہ ملکوں کی فتح کا راز ہے۔

ہر ملک کو جنگ میں فتح ایک ہی صورت میں ہوتی جب عوام اس کے سپہ کے ساتھ ہوتی ہے۔قارئین کرام! ہمارے بنیادی دشمن امریکہ،اسرائیل،انڈیا ہے۔امریکہ اور اسرائیل کا بھی نور نظر بھارت ہے۔بھارت کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل ہماری بنیادوں کو کمزور کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔بھارت ہماری بنیادوں کو کمزور کیسے کر رہا تو اس کا جواب ایک ہی ہے وہ ہمارے ملک میں لوگوں کو پیسہ دے کر اپنے خبری اور کٹھ پتلی بنا رہا ہے۔بھارت نے اب جو حربہ إستعمال کیا وہ یہ ہے کہ حامد میر صاحب جیسے اینکرز کو پیسہ دئیے تاکہ افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرے اور عوام اور افواج کے درمیان ایک خلیج کو قائم کر دے۔

اب آپ کے ذہن میں آ رہا ہو گا کہ میرے پاس ثبوت کیا ہے تو جناب ثبوت تو بہت سارے ہیں لیکن بنیادی ثبوت یہ ہے کہ جب حامد میر کو جیو نیوز نے اپنے مفاد کے لئے نکالا کہ کہی ایسا نہ ہو کہ جیسے 2014 میں عوام نے افواج کے مخالف بیان دینے پر جیو کی گاڑیاں اخبارات کو جلا دیا تھا اب بھی نہ جلا دے تو انڈین میڈیا 24 گھنٹے حامد میر کا دفاع کر رہے۔اب آپ کہے گے کہ وہ صحافت کو بچا رہے تو پھر میرا سوال یہ ہے کہ کیا خاتون شفا یوسفزئی صحافی نہیں جسے ایک یوٹیوبر نے گالیاں دی اور الزامات لگائے اس کے لیے تو یہ بھارتی چینلز نہیں سامنے آئے۔میرے پاکستانیوں اپنے درمیان موجود غداروں کو پہچانو۔

دوسرا ثبوت وہ یہ ہے کہ جب مخدوم شہاب الدین نامی نامور یوٹیوبر اور صحافی نے حامد میر کے فیس بک پیج کو اپنے چینل کے ذریعے دکھایا کہ ان کا اکاؤنٹ بھی انڈیا سے مینج ہوتا ہے تو حامد میر صاحب کی طرف سے اس پیج خو ڈیلیٹ کر دیا گیا۔لیکن اس کی سکرین ریکارڈنگ موجود جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حامد میر کو بھارت سے فنڈنگ ہوتی ھے۔

یہ تو میرے ملک کے خلاف دشمن کی چال ہے لیکن رب تعالی نے اس ثمر کا اعلان فرما دیا ھے کہ:-
"وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ”
"اورانہوں نے خفیہ تدبیرکی اوراللہ تعالیٰ نے بھی خفیہ تدبیرکی اوراللہ تعالیٰ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں میں سے بہترہے۔”

بے شک یہ دشمن ممالک میرے ملک پاکستان میں بھلے کلبھوشن کے ذریعے بدامنی پیدا کرے تو اللہ تدبیر فرما کر میرے ملک کو بچا لیتا۔کبھی یہ اپنے اعلی سطحی اجلاسوں میں 24 مقامات پر حملے کی بات سوچتے ہیں تو اللہ تعالی میری ایجنسی کو خبر کر دیتا ہے اور ملک محفوظ رہتا ہے۔
بے شک اللہ خفیہ تدبیریں فرمانے والا ہے۔

میں ادھر اس نوجوان صحافی مخدوم شہاب الدین کو بھی مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ جس کی بدولت آج پاکستانی عوام اس کالی بھیڑ کو پہچان سکے جس نے صحافت کو بھی بدنام کیا ہوا ہے اور ملک کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے تھے۔

میری آپ سب سے بھی ایک درخواست ہے کہ اپنے ملک کے دفاعی اداروں کا ساتھ دے اس ملک کا وجود اگر ہے تو وہ ان اداروں کی بدولت ہے۔یہ دفاعی ادارے وہی ہے جنھوں نے پاکستان کا دفاعی میدان میں اعلی سے اعلی میزائل سے لے کر ایٹمی قوت تک بنایا۔وہی ایٹمی طاقت جب پاکستان بنا تو فلسطینی ہاتھ میں پتھر پکڑ کر اسرائیلی یہودی کو للکار رہا تھا اور کہ رہا

"میرے ہاتھ میں اس پتھر کو نہ دیکھو پاکستان میں موجود ایٹم بم کو دیکھو”

اسی پاکستانی فوج کے خلاف یہ حامد میر جیسے دو ٹکے کے صحافی پروپیگنڈہ کرتے ہیں جس کے خلاف ہم سب نوجوانوں کو کھڑا ہونا ھے اور اپنے اداروں کا ساتھ دینا ھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.