fbpx

میرے محبوب حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق تحریر :صائمہ مسعود

سیرت النبی پر بہت کچھ لکھا گیا
اور جتنا لکھا گیا وہ کم لگا
میرے پیارے نبی اللہ کے آخری نبی ہیں
آپکے بعد کوئ نبی دنیا میں نہیں آئے گا
آپکے ماننے والے مسلمان کہلائے اور ہر مسلمان کا ایمان تب مکمل ہوتا جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی تسلیم کرتا
اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بتائ ہوئی بات سے رہنمائی لیتا
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عظیم ترین ہستی ہیں دنیا کے تمام انسانوں کے لیے باعث تقلید ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق و کردار قرآن کے مطابق تھا
آپ کی عاجزی و انکساری کے کافر بھی متعارف تھے۔اپ بہت سادہ لوح انسان تھے آپ نے کبھی خود کو خاص نہیں سمجھا بلکہ اللہ کا ایک عام بندہ تصور کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہایت خاکسار۔ملنسار اور رحم دل تھے
آپ سب سے محبت سے پیش آتے۔چھوٹوں سے شفقت
اور بڑوں کا احترام کرتے تھے
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ہمیشہ دشمنوں کو معاف کیا اور درگزر کیا
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو بھی صبرو تحمل کا درس دیا اور درگزر کرنے کا بھی حکم دیا ہے
دشمنوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آتے تھے جضرت عائشہ ام المومنین کا ارشاد ہے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق قرآن کے مطابق تھا
آپ بہترین اخلاق کے مالک تھے
رحم کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھر ہوا تھا۔سب کا احترام کرتے تھے

اسلام سے پہلے عرب جہالت کے اندھیروں میں غرق تھا
کوئ ادب لحاظ نہیں تھا لیکن آپکے حسن اخلاق سے لوگ متاثر ہوئے اور دائرہ اسلام میں داخل ہوئے
اسلام سے پہلے عورت کی کوئ عزت نہ تھی
لیکن نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ان پر احسان اور احترام فرمایا۔انکے حقوق واضع کیے اور فرمایا
کہ یہ حقیر نہیں ہیں یہ عزت اور ہمدردی کے لائق ہیں۔اپ نے عورتوں کی باتوں کا برا بھی نہیں منایا بلکہ انکے مسائل کو حل کیا۔ہمیشہ نرم لہجہ اختیار کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ قرآن پاک کی مکمل اور عملی تفسیر تھی
قرآن مجید میں اس امر کی شہادت موجود ہے
‘یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسن اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہیں’
آپ کی حیات طیبہ مبارک انسانوں کے لیے سر چشمہ ہدایت اور مشعل ہدایت ہے۔ ۔