حکومت کی طرف سے میڈیا کورٹس کے قیام کا اعلان سی پی این ای نے کیا مسترد

سی پی این ای نے میڈیا کورٹس کی تجویز مسترد کر دی ہے اور کہا ہے کہ سی پی این ای میڈیا سے متعلق امتیازی قوانین سازی کی سخت مخالف ہے،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سی پی این ای نے پیمرا کے مسودے کو بھی مسترد کیا تھا، سی پی این ای کی طرف سے جاری کردہ بیان میں‌ کہا گیا ہے کہ میڈیا سے متعلق تنازعات کو نمٹانے کے لیے ادارے،قوانین اورقواعد موجود ہیں، اظہارکی آزادی کےفروغ کے لیے میڈیا پردباؤ کا خاتمہ ضروری ہے،

میڈیا کے معاملات کو ملک کےعام قوانین کے تحت ہی چلایا جائے، میڈیا کورٹس جیسے امتیازی اقدامات کی تجاویز کو فوری واپس لیا جائے، پاکستان میں میڈیااورصحافی بلواسطہ اوربراہ راست دباؤ کا شکار ہیں، جمہوری حکومت کا فرض بنتا ہےکہ وہ میڈیا کو درپیش دباؤ سے نجات دلائے، واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے آج اعلان کیا ہے کہ حکومت ذرائع ابلاغ سے متعلق کیسوں کو نمٹانے کیلئے میڈیا کورٹس کے قیام عمل میں لا رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد فوری انصاف کی فراہمی ہے، فردوس عاشق اعوان نے یہ بات کراچی میں پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے دفتر پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی تھی. ان کا کہنا تھا کہ ملک میں یکساں قوانین کا اطلاق وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے، کسی کیساتھ ناانصافی اور حق تلفی نہیں ہونی چاہیے، پیمرا کیساتھ تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل کر لیں گے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت میڈیا کے واجبات جلد ادا کرے گی،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.